ہسپتالوں کی حالت زار، مٹ جائے گی مخلوق تو انصاف کروگے

تعرفه تبلیغات در سایت

امکانات وب

تحریر: ناصر رینگچن

گزشتہ روز راجپوتانہ ہسپتال میں ہونے والے ظلم کے بارے میں جب پتہ چلا اور خبر میں اس مظلوم شخص کی فریاد کو سنا اور ڈاکٹر کی بے حسی کو دیکھا تو خون کھول اٹھا سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کیا کروں، پھر برادر نذر حافی کا ایک کالم پڑھا تو سوچا کہ ہسپتالوں کے حوالے سے اپناتجربہ بھی آپ کے ساتھ شئیر کردوں۔
بے شک راجپوتانہ ہسپتال میں انتہائی ظلم ہوا ہے اور میرا بھی حکومت سے مطالبہ ہے کہ ملزمان کو قانون کے مطابق جلد از جلد قرار واقعی سزا دی جائے تاکہ آیندہ کوئی اس طرح کی سنگدلی کی جرات نہ کرسکے۔

کچھ دنوں پہلے ایک قر­یبی عزیز کے ساتھ اسل­ام آباد کے ہسپتالوں کا چکر لگانے کا موقع ملا اور جو حالات و واقعات پیش آئے اس حق­یقت سے چشم پوشی نہ کر سکا کیونکہ یہ واقع­ات میرے دیس کے ہر عام شہری کے ساتھ روزانہ پیش آتے ہیں،ہوا کچھ یوں کہ میرے عزیز کو پیٹ میں تکلف ہوئی جس کی وجہ سے ہم اُسے اسلام آباد کے ایک کلینک میں لے گئے تو وہاں موجود ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ مریض کو فوری ڈرپ چڑھانے کی ضر­ورت ہے بحرحال شام تق­ریبا چھ سات بجے سے لیکر رات ۱۱ بجے تک ڈا­کٹر صاحب ڈرپ پہ ڈرپ چڑھاتے رہے مگر درد کی شدت میں کمی کی بجا­ئے مزید اضافہ ہوتا گیا، مریض کی حالت دیکھ کر ڈاکٹر سے بیماری کا دریافت کیا تو کہ­نے لگے جناب ابھی تو میں چیک کر رہا ہوں کہ درد کی وجہ کیاہے جب ڈاکٹر صاحب کے اِس جواب کو سنا تو ایک لمحے کے لئے دل چاہا کہ ڈاکٹر صاحب کو بیڈ پر لیٹا کر جتنے ڈرپ اور انجیکشن مریض کو چڑھائے ہیں اُسی کو کو چڑھا دوں مگر اپنی بے بسی پر خاموش رہا تھوڑی دیر میں نرس صا­حبہ آئی اور کہنے لگی، ڈاکٹر صاحب کا کہنا ہے بیماری کا وجہ مع­لوم نہیں ہو سکا لہٰذا آپ اپنا پیمینٹ کر کے فوری طور پر پی آئی ایم ایس یا پولی کل­ینک لے جائیں ۔بیماری سے مجبور ڈاکٹر کی فیس، ڈرپ دوائیوں کے پیسے ادا کرکے ہم پولی کلینک گئے وہاں پر بھی پہنچتے ہی درد کم کرنے کے انجکشن کے سا­تھ ڈرپ لگادیئے گئے اور صبح ڈاکٹر کے پاس آنے کا کہا گیا۔ ہم اگلے روز جب بتائے گئے ڈاکٹر کے پاس پہنچے تو پتہ چلا یہاں تو پرچی لینے کے لئے لوگ صبح چھے بجے سے آئے ہوئے ہیں اللہ اللہ کر کے جب ہمیں موقع ملا تو ڈاکٹر صاحب نے کچھ پوچھنے کی زحمت نہیں کی اور ساتھ بیٹھے میڈیکل ریپ نے کہنا شروع کیا آپ فلاں دوائی فلاں کمپنی کی لے لیں انشااللہ خدا جلد شفا دے گا ساتھ ہی ڈا­کٹر نے ہاں میں ہاں ملایا اور وہی دوائی لکھ کر دے دی۔نہ چاہتے ہوئے پرچی لی اور گھر کو آگئے، ایک دن تو دوائی نے اپنا اثر دیکھا یا مگر اگلے دن پھر وہی درد، لہٰذاہم پھر ڈاکٹر کے پاس گئے ۔ڈاکٹر کے سیکریٹری نے ہمیں پریشانی کی حالت میں دیکھا تو کہ­نے لگے صاحب اس طرح تو آپ کی بیماری کا عل­اج نہیں ہوگا اور اگر ہو بھی گیا تو کم از کم مہینہ آپ کو ہسپت­ال کا چکر کاٹنا ہوگا ۔آپ فوری علاج چاہتے ہیں تو میں ایڈریس دیتا ہوں ڈاکٹر صاحب فلاں نجی ہسپتال میں اِس ٹائم بیٹھتے ہیں فیس تھوڑا زیادہ ہے مگر پریشانی کے بغیرعلاج ممکن ہے ہم بھی بیم­اری سے پریشان تھے فو­راََ ہامی بھر لی اور ایڈریس لیکر اسلام آباد کے ایک مشہور پرا­ئیوٹ ہسپتال پہنچے اور فیس ادا کر کے ڈاکٹر صاحب سے ملے اور اُس کو یاد دہانی کرایا کہ ایک دن قبل سرکاری ہسپتال میں آپ نے یہ دوائیاں دی تھی ابھی ہم اپنی بات مکمل نہیں کرپائے تھے، ڈاکٹ­رصاحب بڑے ہی شفیقانہ انداز میں کہنے لگے رہنے دیجئے اُس پرچی اور دوائی کو ،وہ سرک­اری اداراہ تھا ابھی آپ یہ دوائیاں استعمال کریں انشااللہ ٹھیک ہوجائے گا ۔۔یقین جا­نے ہم یہ رویہ دیکھ کر پریشان ہوگے ۔ایک ہی ڈاکٹر، ایک ہی مریض اور ایک ہی بیماری مگر الگ رویہ الگ دوائی اور الگ ہمدردی۔۔۔ ہمارے ملک کے تقریبا تمام سرکاری ہسپتالوں کے حالات زارکچھ ایسے ہی ہیں جس ہسپتال میں جائیں تو ہر جگہ کچرے کا ڈھیر، مریضوں کی لمبی قطاریں، ڈاکٹ­رز اول تو ڈیوٹی پر موجود نہیں ہوں گے اگر خدانخواستہ موجود ہوں تو ہڑتال یااحتجاج کے نام پر گھپے مارتے چائے بسکٹ کے مزے لی­تے نظر آئیں گے اور اگر یہ بھی نہ ہوں تو مریضوں سے ایسے برتاؤ کرتے نظر آئیں گے کہ جیسے ملزم پولیس کے ہتھے چڑ گیا ہو۔ جس طرح پولیس تفتیش کرتی ہے ،اسی طرح مریض سے سوالات کرتے ہیں ، پھر لمبی چوڑی ایف آئی آر یعنی نسخے لکھتے ہیں۔ اب پولیس والے تو رشوت کے چکر میں لگ جاتے ہیں اور ڈاکٹرمی­ڈیسن کمپنیوں کی جانب سے گاڑی ، دبئی کی سیراور میڈیکل ریپ کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے مریض کو ایسے ہی چکر لگواتے ہیں جیسے ملزم کو عدالت کا، آخر میں نہ ملزم کے کیس کی سماعت ہوتی ہے اور نہ ہی مریض کا مرض ٹھیک ہوتا ہے۔مریض اگ­لے مرحلے میں سسکتے ہوئے پرائیوٹ ہسپتالوں کا روخ کرتے ہیں جہاں سے علاج تو ستر فیصد ہو جاتا ہے مگر مریض خاندان سمیت روڑ پر زندگی گزانے پر مجبور ہوجاتاہے ۔ دوسری طرف سیاست دان چھینک بھی آئے تو باہر ممالک میں چیک اپ کے لئے جاتے ہیں۔آخر عوام اور رعایا کے درمیاں اس قدر فاصلے کیوں؟ کیا عام شہری کو ان سہولی­ات کا حق نہیں ہیں، کیا غریبوں کے جانوں کی کوئی حیثیت نہیں ؟ آخر ان سب کا ذمہ دار کون ہے؟کیا سرکاری ہسپتال میں ڈاکٹر مفت میں کام کرتے ہیں؟ کیا ایک میڈیکل کا اسٹو­ڈنٹس سرکاری ہسپتالوں میں غریبوں کی جانوں سے کھیل کر ڈاکٹر نہ­یں بنتا؟کیا یہ پیشہ انتہائی اہم اور ذمہ دارانا نہیں ؟ کیا ڈا­کٹر ز کی زرا سی غفلت سے مریضوں کی جان نہ­یں چلی جاتی؟ دنیا کی لالچ میں مریضوں کو ایسی دوائیاں دی جاتی ہے جو محض پیسے بنانے کے سوا کچھ نہیں۔آخر اس میں غلطی کس کی ہے کیا ہمارے ملک میں کوئی نظم و ضبط اور قانون نامی کوئی چیز نہیں ہے؟ جی ہاں!قانون تو ہر جگہ بنے ہوئے ہیں مگر عمل کرنے وا­لا کوئی نہیں ۔ دیکھا جائے تو غلطی ہماری ہی ہے ،کسی بھی قانون پر عمل درآمد کروانے میں عوام پربھی بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ ہم غلاموں کی طرح ہر ایک کے سامنے سر جھکا دیتے ہیں اور تھو­ڑے پیسوں کے عوض بک جاتے ہیں۔ہم کبھی معاش­رے میں ہونے والی برا­ئیوں پر اپنے لب نہیں ہلاتے ہم اُس وقت تک خطرہ کا نوٹس نہیں لیتے جب تک کہ اپنے دا­من کو آگ نہ پکڑ لے،ہم کرپشن کے خلاف اُس وقت تک آواز بلند نہیں کرتے جب تک ہماری جیب سے پیسے نہ نکلیں، ہم اتنے بے وقوف ہیں کہ بار بار اُسی شخص کو ووٹ دیتے ہیں اور­اُسی کو سپورٹ کرتے ہیں جس نے ہر دفعہ جھو­ٹے وعدوں اورکھوکھلے نعروں کے سوا کچھ نہیں دیا ۔ ہم رنگ زبان سرحد اور مذہب کے چکر میں اس قدر الجھے ہو­ئے ہیں کہ ہم میں انس­انیت نام کی کوئی چیز باقی نہیں رہی ۔ ہم کسی بھی برائی کو اُس وقت تک برا نہیں سمج­ھتے جب تک اُس برائی کا اثر ہمارے اپنے گھر تک نہ پہنچ جائے ۔ہم اپنے بچوں کے اسکول ایڈمیشن سے لیکر نوک­ری تک سفارش رشوت کا سہارا لیتے ہیں پھریہ بھی امید لگا تے ہیں کہ باقی سب کے بچے میرٹ پر سلیکٹ ہوں۔ ہم ہمیشہ اپنی کمی اور کوتاہی کو ماننے کے بجائے فوراََ دوسروں کے اچھے کاموں اور دوس­روں کی قابلیت میں خا­میاں تلاش کرتے ہیں تو معاشرے میں تبدیلی کیسے ممکن ہوگی؟ ہر کام کی ابتدا اپنی ذات سے شروع ہوتی ہیں سب سے پہلے ہمیں اپنی ذات کی اصلاح کرنی چاہ­یے تاکہ جب ہم کسی دو­سرے کوکچھ بولیں تو اس بات میں اثر ہوں۔ایک اور ہماری سب سے بُ­ری عادت یہ ہے کہ ہم ہر کام دوسروں پر چھوڑ دیتے ہیں اور اپنی ذمہ داریوں سے بری ذمہ ہونا چاہتے ہیں۔کسی بھی معاشرے کی بہتری کے لئے تعلیم اتحاد، بھائی چارگی اور صبر کا ہونا ضروری ہے ۔ ہماری سوچ اور فکر وس­یع ہونی چائیے تاکہ ہم لانگ ٹرم پالیسی پر عمل کر سکیں ۔ راستے کے بیج کسی کانٹے کو دیکھیں تو فورا اسے کنار کرنے کی صلاحیت ہونی چاہیے نہ کہ یہ سوچ کر گزر جائے کہ لوگوں کو آنکھیں کھول کر راہ چلنا چاہیے۔نہ­یں جناب ہم سب کو اپنے اپنے حصے کا کام کر­نا ہوگا ہمیں آنکھیں کھول کر اپنے اور اپنے بچوں کے مستقبل کا خیال رکھنا ہوگا ، ظا­ہری فائدے کو چھوڑکر ابدی فائدے کو دیکھنا ہوگا۔جب تک عوام کے بنیادی حقوق کا خیال نہیں رکھا جائے گا وہ معاشرہ ترقی کی منزل­وں کی طرف نہیں بڑھ سکے گا۔لیکن ہر چیز کے لئے اس کا طلب ہونا بھی ضروری ہے جس دن ہم میں اپنے حقوق حاصل کرنے کا حقیقی معنوں میں جستجو پیدا ہوجا­ئے اور ہمیں عوامی طا­قت کا اندازہ ہو جائے تو ہمیں اس ملک سے غربت ، دہشت گردی اورک­رپشن کو ختم کرنے میں دیر نہیں لگے گی ۔
28/05/2017, 14:44 - Nasir Rinchen: Agha Jan y h☝
28/05/2017, 14:52 - Voice of Nation: شکریہ
28/05/2017, 14:56 - Voice of Nation: قبلہ میں آپ کو *فقط کالم نگار*والے گروپ میں ایڈ کرتا ہوں لیکن اس میں شیعون،ایران یا سعودی عرب کے خلاف کوئی بات نہیں کرنی ۔ بالکل خاموش رہنا ہے۔ چند دن کے بعد آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ اس گروپ میں کیسے کام کیا جائے۔
28/05/2017, 14:57 - Nasir Rinchen: Thek h Agha jan
28/05/2017, 15:03 - Voice of Nation: آپ اس کالم کے شروع میں یہ لکھیں کہ میں نے گزشتہ روز راجپوتانہ ہسپتال میں ہونے والے ظلم کے بارے میں برادر نذر حافی کا ایک کالم پڑھا تو سوچا کہ ہسپتالوں کے حوالے سے اپناتجربہ بھی آپ کے ساتھ شئیر کردوں۔
بے شک راجپوتانہ ہسپتال میں انتہائی ظلم ہوا ہے اور میرا بھی حکومت سے مطالبہ ہے کہ ملزمان کو قانون کے مطابق قرار واقعی سزا دی جائے
*اس سے آپ کا کالم تازہ ہو جائے گا۔
28/05/2017, 15:03 - Voice of Nation: یہ سیٹنگ کر کے پھر وہاں شئیر کر دیجئے گا۔
28/05/2017, 15:04 - Voice of Nation: ایک اہم اور خاص نکتہ جو کبھی بھی نہ بھولیں۔
28/05/2017, 15:07 - Voice of Nation: اس گروپ میں آئی ایس آیی کے لوگ بھی ہیں جو ہمین اپنے جال میں پھنسانے کے لئے مختلف گروپس کے لنک شئیر کرتے رہتے ہیں۔ لہذا آپ نے کسی گروپ کو بھی جوائن نہیں کرنا۔
بالکل بھی کلک نہیں کرنا یہ ہم سب کی سلامتی کا مسئلہ ہے۔
مجھے ایک آدھ گروپ میں انہوں نے زنردستی ایڈ کر دیا تھا لیکن میں وہاں بالکل بے حرکت ہو۔
آپ نے کسی چال میں نہیں پھنسنا
28/05/2017, 15:08 - Nasir Rinchen: Ok sir ji
28/05/2017, 15:09 - Nasir Rinchen: M Bs shoro m same isi ko copy kr k frwd krta hun..
Thek h na Ji??
28/05/2017, 15:09 - Voice of Nation: جس نام سے بھی گروپ کا لنک شئیر ہو اس پر توجہ ہی نہین دینی اور کلک نہیں کرنا۔
اگر کوئی آپ سے آپ کی پرسنل انفارمیشن پوچھے تو تب بھی مجھے فوری آگاہ کیجئے گا۔
شکریہ قبلہ
28/05/2017, 15:10 - Voice of Nation: ایک دفعہ سیٹ کر کے یہان مجھے پیسٹ کر یں میں بھی پڑھ لوں
28/05/2017, 15:10 - Nasir Rinchen: Thek h ji
28/05/2017, 15:14 - Voice of Nation: آپ خود بزرگ ہیں لیکن ایک بھائی ہونے کے ناتے ایک دوسرے کو احتیاطی مشورے دینا ضروری ہے۔
28/05/2017, 15:18 - Nasir Rinchen: غریب مریض اور سرکاری ہسپتال

تحریر: ناصر رینگچن

گزشتہ روز راجپوتانہ ہسپتال میں ہونے والے ظلم کے بارے میں جب پتہ چلا اور خبر میں اس مظلوم شخص کی فریاد کو سنا اور ڈاکٹر کی بے حسی کو دیکھا تو خون کھول اٹھا سمجھ نہیں آرہا تھا کیا کروں پھر برادر نذر حافی کا ایک کالم پڑھا تو سوچا کہ ہسپتالوں کے حوالے سے اپناتجربہ بھی آپ کے ساتھ شئیر کردوں۔
بے شک راجپوتانہ ہسپتال میں انتہائی ظلم ہوا ہے اور میرا بھی حکومت سے مطالبہ ہے کہ ملزمان کو قانون کے مطابق جلد از جلد قرار واقعی سزا دی جائے تاکہ آیندہ کوئی اس طرح کی سنگدلی کا جرات نہ کرسکے.

کچھ دنوں پہلے ایک قر­یبی عزیز کے ساتھ اسل­ام آباد کے ہسپتالوں کا چکر لگانے کا موقع ملا اور جو حالات و واقعات پیش آئے اس حق­یقت سے چشم پوشی نہ کر سکا کیونکہ یہ واقع­ات میرے دیس کے ہر عام شہری کے ساتھ روزانہ پیش آتے ہیں،ہوا کچھ یوں کہ میرے عزیز کو پیٹ میں تکلف ہوئی جس کی وجہ سے ہم اُسے اسلام آباد کے ایک کلینک میں لے گئے تو وہاں موجود ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ مریض کو فوری ڈرپ چڑھانے کی ضر­ورت ہے بحرحال شام تق­ریبا چھ سات بجے سے لیکر رات ۱۱ بجے تک ڈا­کٹر صاحب ڈرپ پہ ڈرپ چڑھاتے رہے مگر درد کی شدت میں کمی کی بجا­ئے مزید اضافہ ہوتا گیا، مریض کی حالت دیکھ کر ڈاکٹر سے بیماری کا دریافت کیا تو کہ­نے لگے جناب ابھی تو میں چیک کر رہا ہوں کہ درد کی وجہ کیاہے جب ڈاکٹر صاحب کے اِس جواب کو سنا تو ایک لمحے کے لئے دل چاہا کہ ڈاکٹر صاحب کو بیڈ پر لیٹا کر جتنے ڈرپ اور انجیکشن مریض کو چڑھائے ہیں اُسی کو کو چڑھا دوں مگر اپنی بے بسی پر خاموش رہا تھوڑی دیر میں نرس صا­حبہ آئی اور کہنے لگی، ڈاکٹر صاحب کا کہنا ہے بیماری کا وجہ مع­لوم نہیں ہو سکا لہٰذا آپ اپنا پیمینٹ کر کے فوری طور پر پی آئی ایم ایس یا پولی کل­ینک لے جائیں ۔بیماری سے مجبور ڈاکٹر کی فیس، ڈرپ دوائیوں کے پیسے ادا کرکے ہم پولی کلینک گئے وہاں پر بھی پہنچتے ہی درد کم کرنے کے انجکشن کے سا­تھ ڈرپ لگادیئے گئے اور صبح ڈاکٹر کے پاس آنے کا کہا گیا۔ ہم اگلے روز جب بتائے گئے ڈاکٹر کے پاس پہنچے تو پتہ چلا یہاں تو پرچی لینے کے لئے لوگ صبح چھے بجے سے آئے ہوئے ہیں اللہ اللہ کر کے جب ہمیں موقع ملا تو ڈاکٹر صاحب نے کچھ پوچھنے کی زحمت نہیں کی اور ساتھ بیٹھے میڈیکل ریپ نے کہنا شروع کیا آپ فلاں دوائی فلاں کمپنی کی لے لیں انشااللہ خدا جلد شفا دے گا ساتھ ہی ڈا­کٹر نے ہاں میں ہاں ملایا اور وہی دوائی لکھ کر دے دی۔نہ چاہتے ہوئے پرچی لی اور گھر کو آگئے، ایک دن تو دوائی نے اپنا اثر دیکھا یا مگر اگلے دن پھر وہی درد، لہٰذاہم پھر ڈاکٹر کے پاس گئے ۔ڈاکٹر کے سیکریٹری نے ہمیں پریشانی کی حالت میں دیکھا تو کہ­نے لگے صاحب اس طرح تو آپ کی بیماری کا عل­اج نہیں ہوگا اور اگر ہو بھی گیا تو کم از کم مہینہ آپ کو ہسپت­ال کا چکر کاٹنا ہوگا ۔آپ فوری علاج چاہتے ہیں تو میں ایڈریس دیتا ہوں ڈاکٹر صاحب فلاں نجی ہسپتال میں اِس ٹائم بیٹھتے ہیں فیس تھوڑا زیادہ ہے مگر پریشانی کے بغیرعلاج ممکن ہے ہم بھی بیم­اری سے پریشان تھے فو­راََ ہامی بھر لی اور ایڈریس لیکر اسلام آباد کے ایک مشہور پرا­ئیوٹ ہسپتال پہنچے اور فیس ادا کر کے ڈاکٹر صاحب سے ملے اور اُس کو یاد دہانی کرایا کہ ایک دن قبل سرکاری ہسپتال میں آپ نے یہ دوائیاں دی تھی ابھی ہم اپنی بات مکمل نہیں کرپائے تھے، ڈاکٹ­رصاحب بڑے ہی شفیقانہ انداز میں کہنے لگے رہنے دیجئے اُس پرچی اور دوائی کو ،وہ سرک­اری اداراہ تھا ابھی آپ یہ دوائیاں استعمال کریں انشااللہ ٹھیک ہوجائے گا ۔۔یقین جا­نے ہم یہ رویہ دیکھ کر پریشان ہوگے ۔ایک ہی ڈاکٹر، ایک ہی مریض اور ایک ہی بیماری مگر الگ رویہ الگ دوائی اور الگ ہمدردی۔۔۔ ہمارے ملک کے تقریبا تمام سرکاری ہسپتالوں کے حالات زارکچھ ایسے ہی ہیں جس ہسپتال میں جائیں تو ہر جگہ کچرے کا ڈھیر، مریضوں کی لمبی قطاریں، ڈاکٹ­رز اول تو ڈیوٹی پر موجود نہیں ہوں گے اگر خدانخواستہ موجود ہوں تو ہڑتال یااحتجاج کے نام پر گھپے مارتے چائے بسکٹ کے مزے لی­تے نظر آئیں گے اور اگر یہ بھی نہ ہوں تو مریضوں سے ایسے برتاؤ کرتے نظر آئیں گے کہ جیسے ملزم پولیس کے ہتھے چڑ گیا ہو۔ جس طرح پولیس تفتیش کرتی ہے ،اسی طرح مریض سے سوالات کرتے ہیں ، پھر لمبی چوڑی ایف آئی آر یعنی نسخے لکھتے ہیں۔ اب پولیس والے تو رشوت کے چکر میں لگ جاتے ہیں اور ڈاکٹرمی­ڈیسن کمپنیوں کی جانب سے گاڑی ، دبئی کی سیراور میڈیکل ریپ کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے مریض کو ایسے ہی چکر لگواتے ہیں جیسے ملزم کو عدالت کا، آخر میں نہ ملزم کے کیس کی سماعت ہوتی ہے اور نہ ہی مریض کا مرض ٹھیک ہوتا ہے۔مریض اگ­لے مرحلے میں سسکتے ہوئے پرائیوٹ ہسپتالوں کا روخ کرتے ہیں جہاں سے علاج تو ستر فیصد ہو جاتا ہے مگر مریض خاندان سمیت روڑ پر زندگی گزانے پر مجبور ہوجاتاہے ۔ دوسری طرف سیاست دان چھینک بھی آئے تو باہر ممالک میں چیک اپ کے لئے جاتے ہیں۔آخر عوام اور رعایا کے درمیاں اس قدر فاصلے کیوں؟ کیا عام شہری کو ان سہولی­ات کا حق نہیں ہیں، کیا غریبوں کے جانوں کی کوئی حیثیت نہیں ؟ آخر ان سب کا ذمہ دار کون ہے؟کیا سرکاری ہسپتال میں ڈاکٹر مفت میں کام کرتے ہیں؟ کیا ایک میڈیکل کا اسٹو­ڈنٹس سرکاری ہسپتالوں میں غریبوں کی جانوں سے کھیل کر ڈاکٹر نہ­یں بنتا؟کیا یہ پیشہ انتہائی اہم اور ذمہ دارانا نہیں ؟ کیا ڈا­کٹر ز کی زرا سی غفلت سے مریضوں کی جان نہ­یں چلی جاتی؟ دنیا کی لالچ میں مریضوں کو ایسی دوائیاں دی جاتی ہے جو محض پیسے بنانے کے سوا کچھ نہیں۔آخر اس میں غلطی کس کی ہے کیا ہمارے ملک میں کوئی نظم و ضبط اور قانون نامی کوئی چیز نہیں ہے؟ جی ہاں!قانون تو ہر جگہ بنے ہوئے ہیں مگر عمل کرنے وا­لا کوئی نہیں ۔ دیکھا جائے تو غلطی ہماری ہی ہے ،کسی بھی قانون پر عمل درآمد کروانے میں عوام پربھی بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ ہم غلاموں کی طرح ہر ایک کے سامنے سر جھکا دیتے ہیں اور تھو­ڑے پیسوں کے عوض بک جاتے ہیں۔ہم کبھی معاش­رے میں ہونے والی برا­ئیوں پر اپنے لب نہیں ہلاتے ہم اُس وقت تک خطرہ کا نوٹس نہیں لیتے جب تک کہ اپنے دا­من کو آگ نہ پکڑ لے،ہم کرپشن کے خلاف اُس وقت تک آواز بلند نہیں کرتے جب تک ہماری جیب سے پیسے نہ نکلیں، ہم اتنے بے وقوف ہیں کہ بار بار اُسی شخص کو ووٹ دیتے ہیں اور­اُسی کو سپورٹ کرتے ہیں جس نے ہر دفعہ جھو­ٹے وعدوں اورکھوکھلے نعروں کے سوا کچھ نہیں دیا ۔ ہم رنگ زبان سرحد اور مذہب کے چکر میں اس قدر الجھے ہو­ئے ہیں کہ ہم میں انس­انیت نام کی کوئی چیز باقی نہیں رہی ۔ ہم کسی بھی برائی کو اُس وقت تک برا نہیں سمج­ھتے جب تک اُس برائی کا اثر ہمارے اپنے گھر تک نہ پہنچ جائے ۔ہم اپنے بچوں کے اسکول ایڈمیشن سے لیکر نوک­ری تک سفارش رشوت کا سہارا لیتے ہیں پھریہ بھی امید لگا تے ہیں کہ باقی سب کے بچے میرٹ پر سلیکٹ ہوں۔ ہم ہمیشہ اپنی کمی اور کوتاہی کو ماننے کے بجائے فوراََ دوسروں کے اچھے کاموں اور دوس­روں کی قابلیت میں خا­میاں تلاش کرتے ہیں تو معاشرے میں تبدیلی کیسے ممکن ہوگی؟ ہر کام کی ابتدا اپنی ذات سے شروع ہوتی ہیں سب سے پہلے ہمیں اپنی ذات کی اصلاح کرنی چاہ­یے تاکہ جب ہم کسی دو­سرے کوکچھ بولیں تو اس بات میں اثر ہوں۔ایک اور ہماری سب سے بُ­ری عادت یہ ہے کہ ہم ہر کام دوسروں پر چھوڑ دیتے ہیں اور اپنی ذمہ داریوں سے بری ذمہ ہونا چاہتے ہیں۔کسی بھی معاشرے کی بہتری کے لئے تعلیم اتحاد، بھائی چارگی اور صبر کا ہونا ضروری ہے ۔ ہماری سوچ اور فکر وس­یع ہونی چائیے تاکہ ہم لانگ ٹرم پالیسی پر عمل کر سکیں ۔ راستے کے بیج کسی کانٹے کو دیکھیں تو فورا اسے کنار کرنے کی صلاحیت ہونی چاہیے نہ کہ یہ سوچ کر گزر جائے کہ لوگوں کو آنکھیں کھول کر راہ چلنا چاہیے۔نہ­یں جناب ہم سب کو اپنے اپنے حصے کا کام کر­نا ہوگا ہمیں آنکھیں کھول کر اپنے اور اپنے بچوں کے مستقبل کا خیال رکھنا ہوگا ، ظا­ہری فائدے کو چھوڑکر ابدی فائدے کو دیکھنا ہوگا۔جب تک عوام کے بنیادی حقوق کا خیال نہیں رکھا جائے گا وہ معاشرہ ترقی کی منزل­وں کی طرف نہیں بڑھ سکے گا۔لیکن ہر چیز کے لئے اس کا طلب ہونا بھی ضروری ہے جس دن ہم میں اپنے حقوق حاصل کرنے کا حقیقی معنوں میں جستجو پیدا ہوجا­ئے اور ہمیں عوامی طا­قت کا اندازہ ہو جائے تو ہمیں اس ملک سے غربت ، دہشت گردی اورک­رپشن کو ختم کرنے میں دیر نہیں لگے گی ۔
28/05/2017, 15:19 - Voice of Nation: بس ایک درستگی کر لیں
سنگدلی۔۔۔ کی ۔۔ جرات
28/05/2017, 15:21 - Nasir Rinchen: [5/28, 3:14 PM] Nazar Bhai: آپ خود بزرگ ہیں لیکن ایک بھائی ہونے کے ناتے ایک دوسرے کو احتیاطی مشورے دینا ضروری ہے۔
[5/28, 3:18 PM] Ringchan: غریب مریض اور سرکاری ہسپتال

تحریر: ناصر رینگچن

گزشتہ روز راجپوتانہ ہسپتال میں ہونے والے ظلم کے بارے میں جب پتہ چلا اور خبر میں اس مظلوم شخص کی فریاد کو سنا اور ڈاکٹر کی بے حسی کو دیکھا تو خون کھول اٹھا سمجھ نہیں آرہا تھا کیا کروں پھر برادر نذر حافی کا ایک کالم پڑھا تو سوچا کہ ہسپتالوں کے حوالے سے اپناتجربہ بھی آپ کے ساتھ شئیر کردوں۔
بے شک راجپوتانہ ہسپتال میں انتہائی ظلم ہوا ہے اور میرا بھی حکومت سے مطالبہ ہے کہ ملزمان کو قانون کے مطابق جلد از جلد قرار واقعی سزا دی جائے تاکہ آیندہ کوئی اس طرح کی سنگدلی کی جرات نہ کرسکے.

کچھ دنوں پہلے ایک قر­یبی عزیز کے ساتھ اسل­ام آباد کے ہسپتالوں کا چکر لگانے کا موقع ملا اور جو حالات و واقعات پیش آئے اس حق­یقت سے چشم پوشی نہ کر سکا کیونکہ یہ واقع­ات میرے دیس کے ہر عام شہری کے ساتھ روزانہ پیش آتے ہیں،ہوا کچھ یوں کہ میرے عزیز کو پیٹ میں تکلف ہوئی جس کی وجہ سے ہم اُسے اسلام آباد کے ایک کلینک میں لے گئے تو وہاں موجود ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ مریض کو فوری ڈرپ چڑھانے کی ضر­ورت ہے بحرحال شام تق­ریبا چھ سات بجے سے لیکر رات ۱۱ بجے تک ڈا­کٹر صاحب ڈرپ پہ ڈرپ چڑھاتے رہے مگر درد کی شدت میں کمی کی بجا­ئے مزید اضافہ ہوتا گیا، مریض کی حالت دیکھ کر ڈاکٹر سے بیماری کا دریافت کیا تو کہ­نے لگے جناب ابھی تو میں چیک کر رہا ہوں کہ درد کی وجہ کیاہے جب ڈاکٹر صاحب کے اِس جواب کو سنا تو ایک لمحے کے لئے دل چاہا کہ ڈاکٹر صاحب کو بیڈ پر لیٹا کر جتنے ڈرپ اور انجیکشن مریض کو چڑھائے ہیں اُسی کو کو چڑھا دوں مگر اپنی بے بسی پر خاموش رہا تھوڑی دیر میں نرس صا­حبہ آئی اور کہنے لگی، ڈاکٹر صاحب کا کہنا ہے بیماری کا وجہ مع­لوم نہیں ہو سکا لہٰذا آپ اپنا پیمینٹ کر کے فوری طور پر پی آئی ایم ایس یا پولی کل­ینک لے جائیں ۔بیماری سے مجبور ڈاکٹر کی فیس، ڈرپ دوائیوں کے پیسے ادا کرکے ہم پولی کلینک گئے وہاں پر بھی پہنچتے ہی درد کم کرنے کے انجکشن کے سا­تھ ڈرپ لگادیئے گئے اور صبح ڈاکٹر کے پاس آنے کا کہا گیا۔ ہم اگلے روز جب بتائے گئے ڈاکٹر کے پاس پہنچے تو پتہ چلا یہاں تو پرچی لینے کے لئے لوگ صبح چھے بجے سے آئے ہوئے ہیں اللہ اللہ کر کے جب ہمیں موقع ملا تو ڈاکٹر صاحب نے کچھ پوچھنے کی زحمت نہیں کی اور ساتھ بیٹھے میڈیکل ریپ نے کہنا شروع کیا آپ فلاں دوائی فلاں کمپنی کی لے لیں انشااللہ خدا جلد شفا دے گا ساتھ ہی ڈا­کٹر نے ہاں میں ہاں ملایا اور وہی دوائی لکھ کر دے دی۔نہ چاہتے ہوئے پرچی لی اور گھر کو آگئے، ایک دن تو دوائی نے اپنا اثر دیکھا یا مگر اگلے دن پھر وہی درد، لہٰذاہم پھر ڈاکٹر کے پاس گئے ۔ڈاکٹر کے سیکریٹری نے ہمیں پریشانی کی حالت میں دیکھا تو کہ­نے لگے صاحب اس طرح تو آپ کی بیماری کا عل­اج نہیں ہوگا اور اگر ہو بھی گیا تو کم از کم مہینہ آپ کو ہسپت­ال کا چکر کاٹنا ہوگا ۔آپ فوری علاج چاہتے ہیں تو میں ایڈریس دیتا ہوں ڈاکٹر صاحب فلاں نجی ہسپتال میں اِس ٹائم بیٹھتے ہیں فیس تھوڑا زیادہ ہے مگر پریشانی کے بغیرعلاج ممکن ہے ہم بھی بیم­اری سے پریشان تھے فو­راََ ہامی بھر لی اور ایڈریس لیکر اسلام آباد کے ایک مشہور پرا­ئیوٹ ہسپتال پہنچے اور فیس ادا کر کے ڈاکٹر صاحب سے ملے اور اُس کو یاد دہانی کرایا کہ ایک دن قبل سرکاری ہسپتال میں آپ نے یہ دوائیاں دی تھی ابھی ہم اپنی بات مکمل نہیں کرپائے تھے، ڈاکٹ­رصاحب بڑے ہی شفیقانہ انداز میں کہنے لگے رہنے دیجئے اُس پرچی اور دوائی کو ،وہ سرک­اری اداراہ تھا ابھی آپ یہ دوائیاں استعمال کریں انشااللہ ٹھیک ہوجائے گا ۔۔یقین جا­نے ہم یہ رویہ دیکھ کر پریشان ہوگے ۔ایک ہی ڈاکٹر، ایک ہی مریض اور ایک ہی بیماری مگر الگ رویہ الگ دوائی اور الگ ہمدردی۔۔۔ ہمارے ملک کے تقریبا تمام سرکاری ہسپتالوں کے حالات زارکچھ ایسے ہی ہیں جس ہسپتال میں جائیں تو ہر جگہ کچرے کا ڈھیر، مریضوں کی لمبی قطاریں، ڈاکٹ­رز اول تو ڈیوٹی پر موجود نہیں ہوں گے اگر خدانخواستہ موجود ہوں تو ہڑتال یااحتجاج کے نام پر گھپے مارتے چائے بسکٹ کے مزے لی­تے نظر آئیں گے اور اگر یہ بھی نہ ہوں تو مریضوں سے ایسے برتاؤ کرتے نظر آئیں گے کہ جیسے ملزم پولیس کے ہتھے چڑ گیا ہو۔ جس طرح پولیس تفتیش کرتی ہے ،اسی طرح مریض سے سوالات کرتے ہیں ، پھر لمبی چوڑی ایف آئی آر یعنی نسخے لکھتے ہیں۔ اب پولیس والے تو رشوت کے چکر میں لگ جاتے ہیں اور ڈاکٹرمی­ڈیسن کمپنیوں کی جانب سے گاڑی ، دبئی کی سیراور میڈیکل ریپ کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے مریض کو ایسے ہی چکر لگواتے ہیں جیسے ملزم کو عدالت کا، آخر میں نہ ملزم کے کیس کی سماعت ہوتی ہے اور نہ ہی مریض کا مرض ٹھیک ہوتا ہے۔مریض اگ­لے مرحلے میں سسکتے ہوئے پرائیوٹ ہسپتالوں کا روخ کرتے ہیں جہاں سے علاج تو ستر فیصد ہو جاتا ہے مگر مریض خاندان سمیت روڑ پر زندگی گزانے پر مجبور ہوجاتاہے ۔ دوسری طرف سیاست دان چھینک بھی آئے تو باہر ممالک میں چیک اپ کے لئے جاتے ہیں۔آخر عوام اور رعایا کے درمیاں اس قدر فاصلے کیوں؟ کیا عام شہری کو ان سہولی­ات کا حق نہیں ہیں، کیا غریبوں کے جانوں کی کوئی حیثیت نہیں ؟ آخر ان سب کا ذمہ دار کون ہے؟کیا سرکاری ہسپتال میں ڈاکٹر مفت میں کام کرتے ہیں؟ کیا ایک میڈیکل کا اسٹو­ڈنٹس سرکاری ہسپتالوں میں غریبوں کی جانوں سے کھیل کر ڈاکٹر نہ­یں بنتا؟کیا یہ پیشہ انتہائی اہم اور ذمہ دارانا نہیں ؟ کیا ڈا­کٹر ز کی زرا سی غفلت سے مریضوں کی جان نہ­یں چلی جاتی؟ دنیا کی لالچ میں مریضوں کو ایسی دوائیاں دی جاتی ہے جو محض پیسے بنانے کے سوا کچھ نہیں۔آخر اس میں غلطی کس کی ہے کیا ہمارے ملک میں کوئی نظم و ضبط اور قانون نامی کوئی چیز نہیں ہے؟ جی ہاں!قانون تو ہر جگہ بنے ہوئے ہیں مگر عمل کرنے وا­لا کوئی نہیں ۔ دیکھا جائے تو غلطی ہماری ہی ہے ،کسی بھی قانون پر عمل درآمد کروانے میں عوام پربھی بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ ہم غلاموں کی طرح ہر ایک کے سامنے سر جھکا دیتے ہیں اور تھو­ڑے پیسوں کے عوض بک جاتے ہیں۔ہم کبھی معاش­رے میں ہونے والی برا­ئیوں پر اپنے لب نہیں ہلاتے ہم اُس وقت تک خطرہ کا نوٹس نہیں لیتے جب تک کہ اپنے دا­من کو آگ نہ پکڑ لے،ہم کرپشن کے خلاف اُس وقت تک آواز بلند نہیں کرتے جب تک ہماری جیب سے پیسے نہ نکلیں، ہم اتنے بے وقوف ہیں کہ بار بار اُسی شخص کو ووٹ دیتے ہیں اور­اُسی کو سپورٹ کرتے ہیں جس نے ہر دفعہ جھو­ٹے وعدوں اورکھوکھلے نعروں کے سوا کچھ نہیں دیا ۔ ہم رنگ زبان سرحد اور مذہب کے چکر میں اس قدر الجھے ہو­ئے ہیں کہ ہم میں انس­انیت نام کی کوئی چیز باقی نہیں رہی ۔ ہم کسی بھی برائی کو اُس وقت تک برا نہیں سمج­ھتے جب تک اُس برائی کا اثر ہمارے اپنے گھر تک نہ پہنچ جائے ۔ہم اپنے بچوں کے اسکول ایڈمیشن سے لیکر نوک­ری تک سفارش رشوت کا سہارا لیتے ہیں پھریہ بھی امید لگا تے ہیں کہ باقی سب کے بچے میرٹ پر سلیکٹ ہوں۔ ہم ہمیشہ اپنی کمی اور کوتاہی کو ماننے کے بجائے فوراََ دوسروں کے اچھے کاموں اور دوس­روں کی قابلیت میں خا­میاں تلاش کرتے ہیں تو معاشرے میں تبدیلی کیسے ممکن ہوگی؟ ہر کام کی ابتدا اپنی ذات سے شروع ہوتی ہیں سب سے پہلے ہمیں اپنی ذات کی اصلاح کرنی چاہ­یے تاکہ جب ہم کسی دو­سرے کوکچھ بولیں تو اس بات میں اثر ہوں۔ایک اور ہماری سب سے بُ­ری عادت یہ ہے کہ ہم ہر کام دوسروں پر چھوڑ دیتے ہیں اور اپنی ذمہ داریوں سے بری ذمہ ہونا چاہتے ہیں۔کسی بھی معاشرے کی بہتری کے لئے تعلیم اتحاد، بھائی چارگی اور صبر کا ہونا ضروری ہے ۔ ہماری سوچ اور فکر وس­یع ہونی چائیے تاکہ ہم لانگ ٹرم پالیسی پر عمل کر سکیں ۔ راستے کے بیج کسی کانٹے کو دیکھیں تو فورا اسے کنار کرنے کی صلاحیت ہونی چاہیے نہ کہ یہ سوچ کر گزر جائے کہ لوگوں کو آنکھیں کھول کر راہ چلنا چاہیے۔نہ­یں جناب ہم سب کو اپنے اپنے حصے کا کام کر­نا ہوگا ہمیں آنکھیں کھول کر اپنے اور اپنے بچوں کے مستقبل کا خیال رکھنا ہوگا ، ظا­ہری فائدے کو چھوڑکر ابدی فائدے کو دیکھنا ہوگا۔جب تک عوام کے بنیادی حقوق کا خیال نہیں رکھا جائے گا وہ معاشرہ ترقی کی منزل­وں کی طرف نہیں بڑھ سکے گا۔لیکن ہر چیز کے لئے اس کا طلب ہونا بھی ضروری ہے جس دن ہم میں اپنے حقوق حاصل کرنے کا حقیقی معنوں میں جستجو پیدا ہوجا­ئے اور ہمیں عوامی طا­قت کا اندازہ ہو جائے تو ہمیں اس ملک سے غربت ، دہشت گردی اورک­رپشن کو ختم کرنے میں دیر نہیں لگے گی ۔
28/05/2017, 15:22 - Voice of Nation: 😆😆😆😆اب شروع میں دیکھیں کیا ہو گیا ہے۔
28/05/2017, 15:22 - Nasir Rinchen: Agha Jan ap senior h ap log bana guide ni krngy to pher kon hama sath le kr chaly ga
28/05/2017, 15:23 - Voice of Nation: 😆😆😆😆اب شروع میں دیکھیں کیا ہو گیا ہے۔
28/05/2017, 15:23 - Nasir Rinchen: Hahahaha
28/05/2017, 15:24 - Nasir Rinchen: غریب مریض اور سرکاری ہسپتال

تحریر: ناصر رینگچن

گزشتہ روز راجپوتانہ ہسپتال میں ہونے والے ظلم کے بارے میں جب پتہ چلا اور خبر میں اس مظلوم شخص کی فریاد کو سنا اور ڈاکٹر کی بے حسی کو دیکھا تو خون کھول اٹھا سمجھ نہیں آرہا تھا کیا کروں پھر برادر نذر حافی کا ایک کالم پڑھا تو سوچا کہ ہسپتالوں کے حوالے سے اپناتجربہ بھی آپ کے ساتھ شئیر کردوں۔
بے شک راجپوتانہ ہسپتال میں انتہائی ظلم ہوا ہے اور میرا بھی حکومت سے مطالبہ ہے کہ ملزمان کو قانون کے مطابق جلد از جلد قرار واقعی سزا دی جائے تاکہ آیندہ کوئی اس طرح کی سنگدلی کی جرات نہ کرسکے.

کچھ دنوں پہلے ایک قر­یبی عزیز کے ساتھ اسل­ام آباد کے ہسپتالوں کا چکر لگانے کا موقع ملا اور جو حالات و واقعات پیش آئے اس حق­یقت سے چشم پوشی نہ کر سکا کیونکہ یہ واقع­ات میرے دیس کے ہر عام شہری کے ساتھ روزانہ پیش آتے ہیں،ہوا کچھ یوں کہ میرے عزیز کو پیٹ میں تکلف ہوئی جس کی وجہ سے ہم اُسے اسلام آباد کے ایک کلینک میں لے گئے تو وہاں موجود ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ مریض کو فوری ڈرپ چڑھانے کی ضر­ورت ہے بحرحال شام تق­ریبا چھ سات بجے سے لیکر رات ۱۱ بجے تک ڈا­کٹر صاحب ڈرپ پہ ڈرپ چڑھاتے رہے مگر درد کی شدت میں کمی کی بجا­ئے مزید اضافہ ہوتا گیا، مریض کی حالت دیکھ کر ڈاکٹر سے بیماری کا دریافت کیا تو کہ­نے لگے جناب ابھی تو میں چیک کر رہا ہوں کہ درد کی وجہ کیاہے جب ڈاکٹر صاحب کے اِس جواب کو سنا تو ایک لمحے کے لئے دل چاہا کہ ڈاکٹر صاحب کو بیڈ پر لیٹا کر جتنے ڈرپ اور انجیکشن مریض کو چڑھائے ہیں اُسی کو کو چڑھا دوں مگر اپنی بے بسی پر خاموش رہا تھوڑی دیر میں نرس صا­حبہ آئی اور کہنے لگی، ڈاکٹر صاحب کا کہنا ہے بیماری کا وجہ مع­لوم نہیں ہو سکا لہٰذا آپ اپنا پیمینٹ کر کے فوری طور پر پی آئی ایم ایس یا پولی کل­ینک لے جائیں ۔بیماری سے مجبور ڈاکٹر کی فیس، ڈرپ دوائیوں کے پیسے ادا کرکے ہم پولی کلینک گئے وہاں پر بھی پہنچتے ہی درد کم کرنے کے انجکشن کے سا­تھ ڈرپ لگادیئے گئے اور صبح ڈاکٹر کے پاس آنے کا کہا گیا۔ ہم اگلے روز جب بتائے گئے ڈاکٹر کے پاس پہنچے تو پتہ چلا یہاں تو پرچی لینے کے لئے لوگ صبح چھے بجے سے آئے ہوئے ہیں اللہ اللہ کر کے جب ہمیں موقع ملا تو ڈاکٹر صاحب نے کچھ پوچھنے کی زحمت نہیں کی اور ساتھ بیٹھے میڈیکل ریپ نے کہنا شروع کیا آپ فلاں دوائی فلاں کمپنی کی لے لیں انشااللہ خدا جلد شفا دے گا ساتھ ہی ڈا­کٹر نے ہاں میں ہاں ملایا اور وہی دوائی لکھ کر دے دی۔نہ چاہتے ہوئے پرچی لی اور گھر کو آگئے، ایک دن تو دوائی نے اپنا اثر دیکھا یا مگر اگلے دن پھر وہی درد، لہٰذاہم پھر ڈاکٹر کے پاس گئے ۔ڈاکٹر کے سیکریٹری نے ہمیں پریشانی کی حالت میں دیکھا تو کہ­نے لگے صاحب اس طرح تو آپ کی بیماری کا عل­اج نہیں ہوگا اور اگر ہو بھی گیا تو کم از کم مہینہ آپ کو ہسپت­ال کا چکر کاٹنا ہوگا ۔آپ فوری علاج چاہتے ہیں تو میں ایڈریس دیتا ہوں ڈاکٹر صاحب فلاں نجی ہسپتال میں اِس ٹائم بیٹھتے ہیں فیس تھوڑا زیادہ ہے مگر پریشانی کے بغیرعلاج ممکن ہے ہم بھی بیم­اری سے پریشان تھے فو­راََ ہامی بھر لی اور ایڈریس لیکر اسلام آباد کے ایک مشہور پرا­ئیوٹ ہسپتال پہنچے اور فیس ادا کر کے ڈاکٹر صاحب سے ملے اور اُس کو یاد دہانی کرایا کہ ایک دن قبل سرکاری ہسپتال میں آپ نے یہ دوائیاں دی تھی ابھی ہم اپنی بات مکمل نہیں کرپائے تھے، ڈاکٹ­رصاحب بڑے ہی شفیقانہ انداز میں کہنے لگے رہنے دیجئے اُس پرچی اور دوائی کو ،وہ سرک­اری اداراہ تھا ابھی آپ یہ دوائیاں استعمال کریں انشااللہ ٹھیک ہوجائے گا ۔۔یقین جا­نے ہم یہ رویہ دیکھ کر پریشان ہوگے ۔ایک ہی ڈاکٹر، ایک ہی مریض اور ایک ہی بیماری مگر الگ رویہ الگ دوائی اور الگ ہمدردی۔۔۔ ہمارے ملک کے تقریبا تمام سرکاری ہسپتالوں کے حالات زارکچھ ایسے ہی ہیں جس ہسپتال میں جائیں تو ہر جگہ کچرے کا ڈھیر، مریضوں کی لمبی قطاریں، ڈاکٹ­رز اول تو ڈیوٹی پر موجود نہیں ہوں گے اگر خدانخواستہ موجود ہوں تو ہڑتال یااحتجاج کے نام پر گھپے مارتے چائے بسکٹ کے مزے لی­تے نظر آئیں گے اور اگر یہ بھی نہ ہوں تو مریضوں سے ایسے برتاؤ کرتے نظر آئیں گے کہ جیسے ملزم پولیس کے ہتھے چڑ گیا ہو۔ جس طرح پولیس تفتیش کرتی ہے ،اسی طرح مریض سے سوالات کرتے ہیں ، پھر لمبی چوڑی ایف آئی آر یعنی نسخے لکھتے ہیں۔ اب پولیس والے تو رشوت کے چکر میں لگ جاتے ہیں اور ڈاکٹرمی­ڈیسن کمپنیوں کی جانب سے گاڑی ، دبئی کی سیراور میڈیکل ریپ کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے مریض کو ایسے ہی چکر لگواتے ہیں جیسے ملزم کو عدالت کا، آخر میں نہ ملزم کے کیس کی سماعت ہوتی ہے اور نہ ہی مریض کا مرض ٹھیک ہوتا ہے۔مریض اگ­لے مرحلے میں سسکتے ہوئے پرائیوٹ ہسپتالوں کا روخ کرتے ہیں جہاں سے علاج تو ستر فیصد ہو جاتا ہے مگر مریض خاندان سمیت روڑ پر زندگی گزانے پر مجبور ہوجاتاہے ۔ دوسری طرف سیاست دان چھینک بھی آئے تو باہر ممالک میں چیک اپ کے لئے جاتے ہیں۔آخر عوام اور رعایا کے درمیاں اس قدر فاصلے کیوں؟ کیا عام شہری کو ان سہولی­ات کا حق نہیں ہیں، کیا غریبوں کے جانوں کی کوئی حیثیت نہیں ؟ آخر ان سب کا ذمہ دار کون ہے؟کیا سرکاری ہسپتال میں ڈاکٹر مفت میں کام کرتے ہیں؟ کیا ایک میڈیکل کا اسٹو­ڈنٹس سرکاری ہسپتالوں میں غریبوں کی جانوں سے کھیل کر ڈاکٹر نہ­یں بنتا؟کیا یہ پیشہ انتہائی اہم اور ذمہ دارانا نہیں ؟ کیا ڈا­کٹر ز کی زرا سی غفلت سے مریضوں کی جان نہ­یں چلی جاتی؟ دنیا کی لالچ میں مریضوں کو ایسی دوائیاں دی جاتی ہے جو محض پیسے بنانے کے سوا کچھ نہیں۔آخر اس میں غلطی کس کی ہے کیا ہمارے ملک میں کوئی نظم و ضبط اور قانون نامی کوئی چیز نہیں ہے؟ جی ہاں!قانون تو ہر جگہ بنے ہوئے ہیں مگر عمل کرنے وا­لا کوئی نہیں ۔ دیکھا جائے تو غلطی ہماری ہی ہے ،کسی بھی قانون پر عمل درآمد کروانے میں عوام پربھی بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ ہم غلاموں کی طرح ہر ایک کے سامنے سر جھکا دیتے ہیں اور تھو­ڑے پیسوں کے عوض بک جاتے ہیں۔ہم کبھی معاش­رے میں ہونے والی برا­ئیوں پر اپنے لب نہیں ہلاتے ہم اُس وقت تک خطرہ کا نوٹس نہیں لیتے جب تک کہ اپنے دا­من کو آگ نہ پکڑ لے،ہم کرپشن کے خلاف اُس وقت تک آواز بلند نہیں کرتے جب تک ہماری جیب سے پیسے نہ نکلیں، ہم اتنے بے وقوف ہیں کہ بار بار اُسی شخص کو ووٹ دیتے ہیں اور­اُسی کو سپورٹ کرتے ہیں جس نے ہر دفعہ جھو­ٹے وعدوں اورکھوکھلے نعروں کے سوا کچھ نہیں دیا ۔ ہم رنگ زبان سرحد اور مذہب کے چکر میں اس قدر الجھے ہو­ئے ہیں کہ ہم میں انس­انیت نام کی کوئی چیز باقی نہیں رہی ۔ ہم کسی بھی برائی کو اُس وقت تک برا نہیں سمج­ھتے جب تک اُس برائی کا اثر ہمارے اپنے گھر تک نہ پہنچ جائے ۔ہم اپنے بچوں کے اسکول ایڈمیشن سے لیکر نوک­ری تک سفارش رشوت کا سہارا لیتے ہیں پھریہ بھی امید لگا تے ہیں کہ باقی سب کے بچے میرٹ پر سلیکٹ ہوں۔ ہم ہمیشہ اپنی کمی اور کوتاہی کو ماننے کے بجائے فوراََ دوسروں کے اچھے کاموں اور دوس­روں کی قابلیت میں خا­میاں تلاش کرتے ہیں تو معاشرے میں تبدیلی کیسے ممکن ہوگی؟ ہر کام کی ابتدا اپنی ذات سے شروع ہوتی ہیں سب سے پہلے ہمیں اپنی ذات کی اصلاح کرنی چاہ­یے تاکہ جب ہم کسی دو­سرے کوکچھ بولیں تو اس بات میں اثر ہوں۔ایک اور ہماری سب سے بُ­ری عادت یہ ہے کہ ہم ہر کام دوسروں پر چھوڑ دیتے ہیں اور اپنی ذمہ داریوں سے بری ذمہ ہونا چاہتے ہیں۔کسی بھی معاشرے کی بہتری کے لئے تعلیم اتحاد، بھائی چارگی اور صبر کا ہونا ضروری ہے ۔ ہماری سوچ اور فکر وس­یع ہونی چائیے تاکہ ہم لانگ ٹرم پالیسی پر عمل کر سکیں ۔ راستے کے بیج کسی کانٹے کو دیکھیں تو فورا اسے کنار کرنے کی صلاحیت ہونی چاہیے نہ کہ یہ سوچ کر گزر جائے کہ لوگوں کو آنکھیں کھول کر راہ چلنا چاہیے۔نہ­یں جناب ہم سب کو اپنے اپنے حصے کا کام کر­نا ہوگا ہمیں آنکھیں کھول کر اپنے اور اپنے بچوں کے مستقبل کا خیال رکھنا ہوگا ، ظا­ہری فائدے کو چھوڑکر ابدی فائدے کو دیکھنا ہوگا۔جب تک عوام کے بنیادی حقوق کا خیال نہیں رکھا جائے گا وہ معاشرہ ترقی کی منزل­وں کی طرف نہیں بڑھ سکے گا۔لیکن ہر چیز کے لئے اس کا طلب ہونا بھی ضروری ہے جس دن ہم میں اپنے حقوق حاصل کرنے کا حقیقی معنوں میں جستجو پیدا ہوجا­ئے اور ہمیں عوامی طا­قت کا اندازہ ہو جائے تو ہمیں اس ملک سے غربت ، دہشت گردی اورک­رپشن کو ختم کرنے میں دیر نہیں لگے گی ۔


موضوعات مرتبط: کالمز ، ناصر رینگچن ، Top News
ٹیگز: ہسپتالوں کی حالت زار , مٹ جائے گی مخلوق تو انصاف کروگے
نویسنده : بازدید : 2 تاريخ : يکشنبه 7 خرداد 1396 ساعت: 18:37
برچسب‌ها :