اگر فلسطین کی بات نہیں تو پھر بادشاہ جو بھی ہو۔

تعرفه تبلیغات در سایت

امکانات وب

اگر فلسطین کی بات نہیں تو پھر بادشاہ جو بھی ہو

تحریر: صابر کربلائی

ترجمان فلسطین فاونڈیشن

ماہ رمضان المبارک کی آمد سے قبل ہی مسلم دنیا کو ایک اور خوشی ملی ہے جسے ہم اس طرح بیان کریں تو غلط نہ ہوگا، یعنی مسلم دنیا کا نیا خلیفہ ڈونلڈ ٹرمپ۔اس سے پہلے کہ میں کچھ اور بیان کروں یہاں پر امریکا کی سو سالہ تاریخ پر ہلکی سی روشنی ڈالنا چاہتا ہوں، کہ امریکا کی ایک سو سالہ تاریخ میں چاہے صدر کوئی بھی آیا ہو لیکن اقدامات سب نے ایک جیسے ہی کئے ہیں، ماضی میں ایک مقالہ میں امریکی سو سالہ دہشت گردی کی تاریخ بیان کی تھی جو اسی روزنامہ میں شائع ہو چکی ہے، اگر اس تاریخ کا مطالعہ کیاجائے تو سامنے آتا ہے کہ امریکا کی حکومت نے ہمیشہ مظلوم اور کمزور ملتوں پر حملے کر کے اور فوجی چڑھائی کی مدد سے اپنے ناپاک عزائم کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کی کوشش کی ہے۔

لیکن اب کیونکہ امریکی صدر نے مسلم دنیا کے سربراہی اجلاس میں خصوصی طور پر تشریف لا کر اسلام پر جو سنہرا لیکچر دیا ہے اس کے بعد اب تاریخ میں کچھ ایسے لکھا جائے گا کہ ویت نام نے امریکا پر چڑھائی کی تھی، لاکھوں امریکیوں کا قتل عام کیا، ہیرو شیما اور ناگا ساکی نے امریکا پر ایٹم بم حملے کئے تھے،پاکستان کے ڈرون طیاروں نے امریکی فضائی حدود کی خلاف ورزیاں کیں اور وہاں پر معصوم انسانوں کو قتل کیا، افغانستان نے امریکا میں فوجیں اتاریں اور دسیوں ہزار انسانوں کا قتل کیا، اسی طرح عرا ق نے بھی امریکا میں اپنی فوجیں بھیج کر امریکیوں کا قتل کیا اور مہلک ہتھیار بھی برآمد نہ کر سکے۔اس طرح کے کئی اور واقعات کہ جن میں امریکیوں نے نقصان اٹھایا ہے ۔

اسی طرح ریاض میں امریکی صدر کی سربراہی میں اسلام پر ہونے والے سنہرے لیکچر کے بعد اس لیکچر میں موجود ہر اسلامی ملک کے حکمران پر لازم ہے کہ وہ دنیا کو بتائے کہ فلسطین میں بسنے والے جو فلسطینی ہیں وہ دہشت گرد ہیں او ر اسرائیل ایک امن پسند اور انسانی حقوق کی پاسداری کرنے والا دنیا کا سب سے اچھا ملک ہے، اسی طرح یہ عرب حکمران یہ بھی بتائیں گے کہ فلسطینی بچے جو ٹینکوں کے نیچے آ کر قتل ہو رہے ہیں دراصل یہ اسرائیلی ٹینکوں کے نیچے نہیں بلکہ خود فلسطینی ان کے قاتل ہیں، اسی طرح جو معصوم بچوں کے سینوں میں بھاری ہتھیار کی گولیاں پیوست ہوئی تصاویر آپ دیکھتے ہیں یہ بھی گولیاں نہیں ماری گئیں بلکہ ہوائی فائرنگ کے دوران یہ بچے ہوا میں اڑ کر گولیوں کے سامنے آ گئے،اگر فلسطینی عوام کے گھروں کی مسماری کی بات ہو گی تو یقیناًیہ کام فلسطینیوں کا آپسی جھگڑا ہے نہ کہ اسرائیل کی بھاری مشینری کا، اور ہاں مسجد اقصٰی مسلمانوں کا نہیں بلکہ صیہونیوں کا بیت المقدس اور قبلہ اول ہے اس لئے اس کی تو بات ہی نہ کریں۔

قارئین! ٹرمپ کے دورہ ریاض اور اسرائیل دونوں میں ہی باہم ربط موجود ہے کیونکہ جہاں ایک طرف مسلم دنیا کو یہ باور کروایا گیا ہے کہ اسرائیل تمھارا دشمن نہیں بلکہ دوست ہے وہاں ریاض سے پروز اڑا کر براہ راست غاصب اسرائیل جانا یقیناًاسرائیل کو بھی ایک پیغام دیا گیا ہے کہ امریکا نے عرب دنیا کو سمجھا دیا ہے کہ اسرائیل ایک دیانت دار او ر امن پسند ریاست ہے لہذٰا عرب دنیا اب اسرائیل کو دہشت گرد نہیں سمجھتے بلکہ فلسطینیوں کو سمجھتے ہیں اور اس کا نتیجہ چند دنوں میں ہی سامنے آیا ہے کہ نیتن یاہو نے اپنی کابینہ کا اجلاس مسجد دیوار براق کہ جو مسجد اقصیٰ کا حصہ ہے اس کے نزدیک منعقد کیا ہے اور پوری دنیا کو یہ پیغام دیا ہے کہ یہ مقام مسلمانوں کا قبلہ اول نہیں بلکہ صیہونیوں کا ہے۔

بہر حال دور حاضر میں اب مختلف دہشت گرد گروہوں کے سربراہوں کا وقت ختم ہو چکا ہے کہ جنہوں نے مسلم دنیا کی خلافت کے دعوے کئے تھے اب نیا ورژن متعارف ہو چکا ہے یا شاید یہ کہ پرانا ہی ہے بس اسٹائل تھوڑا سا بدل گیا ہے جی ہاں اگر دیکھا جائے تو پہلے پہل تو دنیا میں جتنے بھی دہشت گرد گروہ جنم دئیے گئے ان سب کا خالق امریکا ہی رہا ، کسی نے آ کر خلافت کا دعویٰ کیا، کسی نے دولۃ الاسلامیہ کا نعرہ لگایا ، نہ جانے کیا کچھ ہوتا رہا، فلسطین سے پاکستان تک القاعدہ، طالبان، داعش، النصرۃ وغیرہ وغیرہ لیکن کسی ایک نے بھی آج تک یہ نہیں کہا کہ فلسطین کو آزاد کریں گے،قبلہ او ل کو بازیاب کریں گے، کیونکہ اس لئے نہیں کہہ سکتے تھے کہ ان کو درس پڑھانے والا بھی یہی امریکا اور اسرائیل تھے کہ جنہوں نے اب ان دہشت گرد گروہوں کی شام، لبنان، عراق اور پاکستان سمیت دیگر مقامات پر ہونے والی شکست کے بعد نیا طریقہ واردات اپناتے ہوئے خلافت کا بوجھ اپنے کاندھوں پر خود اٹھا لیا ہے اور ریاض پہنچ کر سب سے پہلے خلیفہ جی نے اسلام پر جو لیکچر عنایت کیا ہے اس کا خلاصہ تو ہم آ پ کو اسی تحریر کی بالا سطور میں ہی پیش کر چکے ہیں۔

مسلم و صیہونی دنیا مشترک ہوتی نظر آ رہی ہے اور اس حوالے سے دونوں نے ہی ایک متفقہ خلیفہ پر اطمینان کا اظہار کیا ہے جو خود تو ڈوبے گا ہی ساتھ میں ان سب کو بھی لے ڈوبے گا۔البتہ پاکستانی ہونے کی حیثیت سے سوال یہ اٹھتا ہے کہ وزیر اعظم نواز شریف جب اس اجلاس میں موجود تھے کہ جہاں اسلام پر ڈونلڈ ٹرمپ لیکچر دے رہے تھے تو اس لیکچر کے بعد انہوں نے اپنا موقف کیوں واضح نہیں کیا ؟ کیا حکومت پاکستان بھی امریکا اور عرب دنیا کی اسرائیل دوست پالیسی پر متفق ہو گئی ہے؟ اگر ایسا ہے تو یقیناًیہ پاکستان کی نظریاتی اساس اور بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح ؒ کے افکار ونظریات کو پیروں تلے روند ڈالنے کے مترادف ہے۔

عرب دنیا کے حکمران ایران دشمنی میں یہ بات بھول چکے ہیں کہ اسرائیل جس نے فلسطین پر ناجائز تسلط قائم کیا ہے صرف یہاں تک نہیں رکے گا بلکہ گریٹر اسرائیل کے نقشوں کے مطابق اس کی سرحدیں نیل سے فرات تک آئیں گی اور اس کی لپیٹ میں یہ سب عرب حکمران بھی آئیں گے کہ جو آج ٹرمپ کو اپنا خلیفہ مان کر اسرائیل کو اپنا دوست سمجھ رہے ہیں۔

خلاصہ یہ ہے کہ مسلم دنیا ہو یا اسرائیل، دونوں کی کمان ٹرمپ کے ہاتھوں میں ہے، لیکن ایسے حالات میں قطر نے ٹرمپ اور سعودی بادشاہ کی قرار داد کی مخالفت کی ہے کہ جس میں فلسطینی تحریکوں کو دہشت گرد قرار دیا گیا اور یہی وجہ ہے کہ اب عرب دنیا کے چند ایک ممالک کی توپوں کا رخ بالکل اسی طرح سے قطر کی طرف ہے جس طرح انہوں نے پہلے لیبیا کو برباد کیا، بعد میں مصر میں منتخب حکومت کا تختہ الٹ دیا، اور اب شام میں ناکامی کے بعد یمن کی ناکامی اور اب قطر کو نشانہ بنا رہے ہیں، قطر نے اصولی با ت کی ہے اور دوٹوک کہا ہے کہ ٹرمپ چاہے عرب دنیا کا خلیفہ بن جائے لیکن فلسطینی تحریکیں اسلامی مزاحمت کی تحریکیں ہیں۔

بہر حال دنیائے اسلام کے حکمران اگر حقیقی اسلام کی طرف نہیں لوٹ آتے اور دنیا کے مظلوموں کا ساتھ نہیں دیتے خصوصا اگر فلسطین کی حمایت نہیں کرتے  تو پھر اس بات میں کوئی مضحکہ نہیں ہے کہ ان کا خلیفہ شاہ سلمان ہو یا شاہ ٹرمپ۔


موضوعات مرتبط: کالمز ، Top News
ٹیگز: اگر فلسطین کی بات نہیں تو پھر بادشاہ جو بھی ہو۔
نویسنده : بازدید : 3 تاريخ : پنجشنبه 11 خرداد 1396 ساعت: 7:37
برچسب‌ها :