گدھ انقلاب نہیں لایا کرتے

تعرفه تبلیغات در سایت

امکانات وب

 

نذر حافی

دن بھرکے تھکے ہوئے شکاری نے ایک مرتبہ حسرت بھری نگاہوں سے بھوک اور پیاس سے نڈھال اپنے گھوڑے کودیکھا اور پھر ٹھنڈی آہ بھر کراس نے ایک بڑے پتھرکے ساتھ ٹیک لگالی۔اس کی آنکھیں نینداور سستی کی وجہ سے آہستہ آہستہ خود بخود بند ہوتی جارہی تھیں۔اس نے کئی مرتبہ نیند اور غنودگی کے خلاف لڑنے کی کوشش کی لیکن بالاخرسخت سردی کے باوجودبے سدھ ہوکر کسی نیم مردہ شکار کی طرح اوندھے منہ گر پڑا۔

گھوڑے نے کئی مرتبہ ہنہنا کر شکاری کو بیدار کرنا چاہالیکن وہ مردِ بے ہوش کسی طرح بھی ہوش میں نہ آیا۔اب رات کی تاریکی نے جنگل کو اپنی لپیٹ میں لینا شروع کردیا۔رفتہ رفتہ بڑے بڑے پہاڑوں اور درختوں نے کسی سیاہ کمبل کی طرح رات کو اپنے اوپر اوڑھ لیا اور ہرطرف سنّاٹا چھا گیا۔وفادار گھوڑا شب بھراپنے مالک کے گرد چکر کاٹتا رہا۔

جب شکاری کی آنکھ کھلی توافق پر صبح کے آثار نمودار ہو چکے تھے، اس نے شاباش دینے کی خاطراپنے یخ بستہ ہاتھوں سے گھوڑے کی نرم و گرم پیٹھ کو سہلایا اور تھپتھپایا،گھوڑے نے ہنہنا کر مالک کا شکریہ ادا کیا۔پھر شکاری نے گھوڑے کی پیٹھ پر باندھی ہوئی تھیلی کو کھول کرکچھ چنے نکالے اورگھوڑے کے منہ کے سامنے رکھ دئیے۔

گھوڑا چر چر کرکے دانے کھانے لگا اور شکاری نے دوبارہ پتھرسے ٹیک لگانے کے بعد اپنی آنکھیں موند لیں۔رات بھر گہری نیند سونے کے باوجود ابھی اس کے بدن میں تھکاوٹ اور سستی موجود تھی۔وہ  خاندانی شکاری تھا،جنگل میں ہی پیدا اور جوان ہواتھا،جب کبھی کسی جانورکی کھال یا گوشت بیچنے کی خاطر، شہرکی طرف جاتاتوبڑی بڑی عمارتیں اور گاڑیاں دیکھ کر اس کا دم گھٹنے لگتا۔

وہ بہت سوچتاکہ ان عمارتوں اورگاڑیوں کا آخر فائدہ کیاہے لیکن اسے کچھ بھی سمجھ میں نہ آتا۔اس نے اپنی گردن میں لٹکے ہوئے کیمرے کو بھی کئی مرتبہ گھور کر دیکھا کہ اس کا کیا فائدہ ہے ،یہ کیمرہ  چندروزپہلے اسے ایک شہری دوست نے تحفے میں دیا تھا اور اسے تصویریں لینے کاطریقہ بھی سکھایاتھالیکن اس نے  ابھی تک اس سے کوئی تصویر نہ لی تھی۔

ماضی کے حالات و واقعات ایک ایک کرکے ابر کے ٹکڑوں کی مانند اس کی آنکھوں کے سامنے تیرنے لگے۔اسے یاد آرہاتھاکہ کیسے اس نے شکارکرنے کے گُرسیکھے تھے اور کیسے اس نے مختلف جانوروں کی بولیاں ازبر کی تھیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ یہ بھی سوچ رہاتھا کہ آخر کیوں گزشتہ چند روز سے کوئی شکار اس کے ہاتھ نہیں لگ رہا۔

وہ یہ سب کچھ سوچتے سوچتے دوبارہ زمین سے اٹھا،گھوڑے کے سامنے سے کچھ چنے اس نے بھی اٹھا کر کھائے اورپانی کی بوتل کوگھوڑے کے منہ میں انڈیل دیا ،بچاکھچاپانی اس نے خود پیا اورگھوڑے کی لگام تھام کر جلد جلدپہاڑوں سے واپس اپنی جھونپڑی کی طرف نیچے اترنے لگا۔وہ تیزی کے ساتھ چھوٹے چھوٹے نالوں کو عبور کررہاتھااورکھائیوں کو پھلانگ رہاتھاکہ اچانک ایک کھائی میں اسے کچھ گدھ گپ شپ کرتے نظرآئے۔

اب جنگل میں آہستہ آہستہ سورج طلوع ہورہاتھااورجنگل کی ٹھنڈی ہوا میں سورج کی گرمی برف کی ڈلی کی طرح آہستہ آہستہ گھلتی ملتی جارہی تھی۔وہ فارغ تو ویسے ہی تھا،اس نے گھوڑے کو دھوپ تاپنے کے لئے ایک طرف آزاد چھوڑدیا اور خوددھوپ کی تمازت میں گپیں ہانکتے ہوئے گدھوں کی باتیں سن کر محظوظ ہونے لگا۔

کچھ دیرتوجہ سے سننے کے بعد اسے محسوس ہوا کہ آج گدھ خوش گپیاں نہیں کررہے بلکہ کسی اہم مسئلے پر انتہائی سنجیدہ گفتگو کررہے ہیں۔اس نے سروٹھ کی جھاڑیوں میں سے اپنے سر کوکچھ بلندکیااور ٹکٹکی باندھ کرگدھوں کو دیکھنے اوران کی باتیں،غورسے سننے لگا۔

ایک موٹاتازہ گدھ دوسرے گدھوں کو عقابوں کی زندگی کے اسرارورموزسے آگاہ کررہاتھااور انھیں بتارہاتھاکہ ہم لوگ توادھرکھائیوں اور نالیوں میں زندگی ضائع کردیتے ہیں جبکہ عقاب جہانوں کی سیر کرتے ہیں اور آسمانوں پر کمندیں ڈالتے ہیں۔

ساتھ ہی اس نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اس نے خود بھی کئی مرتبہ عقابوں کے ساتھ اڑانیں بھری ہیں اورستاروں پر کمندیں ڈالی ہیں۔اس کی باتیں سن کر نہ صرف یہ کہ دوسرے گدھ عش عش کر اٹھے بلکہ خود شکاری بھی اپنے زانو پر ہاتھ مارکر افسوس کرنے لگا کہ وہ خواہ مخواہ ایک عرصے تک سارے گدھوں کو حقیر خیال کرتا رہا۔

اس کے گمان میں بھی نہ تھا کہ کائنات میں ایسے گدھ بھی پائے جاتے ہیں جوانقلابی فکررکھتے ہیں اور گدھوں کی دنیامیں انقلاب لانے کے خوا ہاں ہیں۔اس نے سرعت کا مظاہرہ کرتے ہوئے مگر خاموشی کے ساتھ اپنی گردن میں لٹکا ہوا کیمرہ ہاتھوںسے اپنی آنکھوں کے برابرکیا اور جھٹ سے انقلابی گدھ کی تین چار تصویریں لے لیں۔

گدھوں کو اپنے اجلاس کی تصویریں لینا شاید ناگورارگزرا،انھوں نے غڑغڑکرکے پر پھڑپھڑائے اور اوپرہوا میں بلندہوگئے۔فضاء میں تین چار چکرکاٹنے کے بعد پھر وہیں آکر بیٹھ گئے،چنانچہ گفتگوکاسلسلہ جہاں سے ٹوٹا تھا وہیں سے پھرجڑگیا۔انقلابی گدھ نے دوبارہ عقابوں کے قصّے چھیڑے ہی تھے کہ آسمان پر عقابوں کا ایک غول نمودار ہوا۔جسے دیکھتے ہی انقلابی گدھ نے اپنے دوستوں کو خدا حافظ کہا اور فضاء میں رقص کرتے ہوئے عقابوں کی صف میں شامل ہو کر رقص کرنے لگا۔

شکاری نے یہ دیکھا تو حیرانگی سے وہ بھی گھوڑے کی لگام تھام کر عقابوں کے ڈار کے نیچے نیچے چلنے لگا۔جیسے جیسے خلامیں عقاب دائیں بائیں مڑتے تھے وہ بھی جنگلی گھاٹیوں میں اِدھر اُدھر چھلانگیں لگاتا جاتاتھا۔

موقع پاکر اس نے عقابوں کے ساتھ اُڑتے ہوئے گدھ کی کئی اور تصویریں بھی بنا لیں۔ابھی کچھ دیر ہی گزری تھی کہ گدھ عقابوں کی صف سے ایک دم جدا ہوکرتیزی سے نشیب کی جانب اترنے لگا۔یہ دیکھتے ہی شکاری نے بھی عقابوں کا پیچھا چھوڑ کراپنے انقلابی گدھ کے تعاقب میں تیزی سے پہاڑکی چوٹی سے نیچے اترناشروع کردیا۔

اسے سمجھ میں نہیں آرہاتھا کہ بے چارے انقلابی گدھ کو اچانک کیا ہواکہ وہ ان سے جدا ہوکر تیزی سے نیچے اتر گیا ہے۔ہانپتا ہوا شکاری جب پہاڑ کے دامن میں پہنچا تو اس نے دیکھاکہ کسی جانور کے تازہ مردار پر وہی انقلابی گدھ ہڈیاں بھنبھوڑرہاہے۔

یہ دیکھتے ہی شکاری کا سارا شوق و ولولہ خاک میں مل گیا،اس نے خُرّخُرّکرکے تین چار مرتبہ نفرت سے تھوکا اورواپس اپنی جھونپڑی کی طرف چل پڑا۔جنگل سے  بغیر شکار کے خالی ہاتھ لوٹنے کا احساس اب اس کے دماغ سے کافور ہوچکا تھا۔ وہ بظاہرخالی ہاتھ لوٹ رہاتھا لیکن درحقیقت اس کے ہاتھ ایک بہت بڑادرس اورتجربہ لگ چکاتھا۔اب اسے سمجھ آچکی تھی کہ گدھ کی عقابوں سے دوستی صرف دوسروں پر اپنی برتری جتلانے کے لئے ہوتی ہے،وہ اندر سے ہروقت ہڈّی اور بوٹی کے چکرمیں رہتاہے۔اس کا کوئی انقلابی خط اور فکر نہیں ہوتی ،اسے جیسے ہی مردار نظر آتا ہے وہ اپنے تمام تر انقلابی دعووں اور نعروں کو پسِ پشت ڈال کرمردار کی لاش پر ٹوٹ پڑتاہے۔

جی ہاں ! تاریخ بشریت اس بات پر شاہد ہے کہ جو ہڈّی اور بوٹی کی خاطرہرکسی کے ساتھ دستر خوان پر بیٹھ جائیں،چند ٹکوں کے لئے ہر کسی کے سامنے اپنی جھولی پھیلالیں،رائے عامہ کو اپنے حق میں ہموارکرنے کے لئے دوسروں کی کردار کُشی پر اتر آئیں،اپنی ذات کے اثبات کے لئے دوسری شخصیات کی نفی کریں ،اپنے مفادات کے حصول کے لئے رائی کو پہاڑ اور پہاڑ کو رائی بنا کر پیش کریں،دودھ کو کالا اور کوّے کو سفید کہیں ،جواپنی تعریف اور دوسروں پرتنقید کے لئے زمین و آسمان کے قلابے ملا ئیں،جن کی کھوکھلی انقلابی باتوں کی جھاگ  سے سادہ لوح انسان مرعوب ہوجائیں اور جن کے زُہدکی بغل میں ریا کاری کاخنجرچھپاہواہو۔۔۔

ایسے لوگ اپنی قوم کی خدمت نہیں کرتے قوم کے ساتھ خیانت کیا کرتے ہیں۔تاریخِ پاکستان شاہد ہے کہ آج تک کتنے ہی لوگ پاکستانی قوم کو اسلامی انقلاب کے خواب دکھاکراورنظامِ مصطفیٰۖ کے نعرے لگاکر اپنی تجوریاں بھرچکے ہیں۔کاش !ہماری یہ سیدھی سادھی اور بھولی بھالی قوم ہرکسی پر آنکھیں بند کر کے اعتماد کرنے سے پہلے تھوڑی سی تحقیق کرلیا کرے۔۔۔کسی کے ووٹ باکس میں ووٹ ڈالنے سے پہلے یہ سوچ لیا کرئے،کسی کے ہاتھوں میں چیک تھمانے سے پہلے یہ دیکھ لیاکرے اور کسی کابینراٹھانے اور پیچھے چلنے سے پہلے اتنی فکر کرلیاکرے کہ جس شخص کا دین ،مال کے گرد چکرکاٹ رہاہو وہ ملک و قوم کی کیا خدمت کرے گا،جس کی تعلیم خود اسے غیبت ،حسد اور ریاکاری سے نہیں روکتی اور اسے اپنی تعلیم سے کوئی اخلاقی و دینی فائدہ نہیں پہنچتا،اس کے بنائے ہوئی پارٹیاں اور  ادارے دوسروں کو کیا فائدہ دیں گئے ،جس کے علم نے خود اس کے اندر کوئی علمی انقلاب برپانہیں کیاوہ ملک و قوم کو کیا علمی انقلاب دے گا،جوہرزردار کوسجدہ کرنے کے لئے تیار ہوجائے  اور ہرمالدار کی چوکھٹ پرجھولی پھیلاکربیٹھ جائے وہ عوام کی کیا نظریاتی تربیّت کرے گا،وہ پاکستانی قوم کے دکھوں کا کیا علاج کرئے گا۔۔

کاش ہمیں یہ بات سمجھ میں آجائے کہ گدھ باتیں کرتے ہوئے عقابوں کی طرح اُڑانیں توبھرتا ہے لیکن بالاخرگدھ ہی ہوتاہے،اس کا سارا انقلاب ہڈّی اور بوٹی کے گرد ہی گھومتارہتاہے۔۔۔اس کا کوئی انقلابی خط اور فکر نہیں ہوتی۔۔۔وہ جیسے ہی مردار دیکھتاہے ۔۔.......


موضوعات مرتبط: کالمز ، نذر حافی
ٹیگز: گدھ انقلاب نہیں لایا کرتے
نویسنده : بازدید : 3 تاريخ : پنجشنبه 11 خرداد 1396 ساعت: 7:37
برچسب‌ها :