دین ملا اور جمہوریت

تعرفه تبلیغات در سایت

امکانات وب

نذر حافی

nazarhaffi@gmail.com

علامہ اقبال کو ملا اور دین ملا سے بیر تھا، اقبال کو ملاوں سے کوئی مسلکی اختلاف نہیں تھا ، بلکہ اقبال کو ملاوں سے یہ گلہ تھا کہ “تری نگاہ سے ہے پوشیدہ آدمی کا مقام”۔ اقبال اس حقیقت کو جان چکے تھے کہ دینِ ملا میں انسان اور آدمی کے بجائے فقط ملا کے مسلک کا مقام و احترام ہے۔

اگر ملا کا مسلک اجازت نہ دے تو آپ قوالی نہیں سن سکتے، دھمال نہیں ڈال سکتے اور اس جرم میں قاری سعید چشتی جیسا نامور قوال مارا جائے گا، لیکن اگر ملا کا ہم مسلک بادشاہ ،امریکی صدر کے ساتھ رقص کرے تو دین ملا چپ سادھ لیتا ہے۔

اگر ملا کا مسلک اجازت نہ دے تو آپ اس کی مسجد میں نماز نہیں پڑھ سکتے لیکن سرزمین حجاز میں ملا کے ہم مسلک ٹرمپ کا استقبال کریں تو دین ملاں کے ماتھے پر کوئی شکن نہیں آتی۔

اگر ملا کا مسلک اجازت نہ دے تو آپ گیارھویں شریف کے لئے چندہ نہیں دے سکتے لیکن اگر ملا کا کوئی ہم مسلک کروڑوں ڈالر وقت کے فرعون امریکی صدرکو ہدیہ کردے تو دین ملا میں یہ جائز ہے۔

اگر ملا کا مسلک اجازت نہ دے تو کسی دوسری مسجد کا مولوی اس کی مسجد میں اسلام کے موضوع پر خطبہ نہیں دے سکتا لیکن اگر ملاں کے ہم مسلک چاہیں تو مکے اور مدینے میں کافروں کا سردار ٹرمپ مسلمانوں کو خطبہ دے سکتا ہے۔

اگر ملا کا مسلک چاہے تو اسلام کے قلعے پاکستان میں جگہ جگہ سپاہِ صحابہ، لشکر جھنگوی، پنجابی طالبان، نیلے طالبان، پیلے طالبان۔۔۔ لیکن اگر ملاں کا مسلک نہ چاہے تو کفرستان کے مرکز ہندوستان میں نہ کوئی سپاہِ صحابہ ہے اور نہ ہی کوئی لشکر، نہ ہی کوئی طالبان، نہ ہی کو نفاذ اسلام کی تحریک۔۔۔

اگر ملا کا مسلک چاہے تو ناموس صحابہ کے نام پر سینکڑوں پاکستانی ڈاکٹروں، انجینئروں، شاعروں اورا دیبوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا جائے اور اگر ملا کے ہم مسلک سعودی عرب میں صحابہ کرام کے گھروں اور مزارات کو مسمار کریں تو دین ملا اس کو صحابہ کی توہین ہی نہ سمجھے۔

اگر ملاں کا مسلک چاہے تو لال مسجد اسلام آباد میں پاکستان کی پاک فوج پر گولیاں چلا دی جائیں لیکن اگر ملا کے مسلکی مرکز ریاض میں امریکی صدر رقص کر کے واپس چلا جائے تو پورے سعودی عرب میں ایک گولی بھی نہ چلے۔

اگر ملا کا مسلک مناسب سمجھے تو پورا پاکستان اسلام ، اسلام ،اسلام کی چیخ و پکار سے گونج اٹھے اور کشمیر کی آزادی کے ترانے گائے جائیں۔ لیکن اگر ملا کا مسلک گوارا نہ کرے تو دنیائے اسلام کے مرکز سعودی عرب میں ایک بھی مردہ باد اسرائیل ، یا مردہ باد ہندوستان کا نعرہ نہ لگے۔

اگر ملا کی ہم مسلک ہو تو سعودی عرب کی امریکہ نواز اور اسرائیل نواز بادشاہت قابل قبول ہے لیکن اگر ملا کی ہم مسلک نہ ہو تو شام کی اسرائیل دشمن اور امریکہ دشمن بادشاہت کا خاتمہ ضروری ہے۔

اگر ملا کے مسلک پر گرفت پڑے تو آپریشن رد الفساد حرام ہے لیکن اگر ملا کے ہم مسلک جا کر دوسرے ملک یمن کے نہتے عوام پر بمباری کریں تو یہ جائز ہے۔

دین ملا میں کسی کی حمایت اور مخالفت کا معیار انسانیت اور آدمیت نہیں بلکہ مولوی کا مسلک ہے، اگر بادشاہ بھی ملا کا ہم مسلک ہو تو وہ ظلِّ الٰہی ہے اور اگر بحرین کی طرح عوام ملا کی ہم مسلک نہ ہوتو وہ باغی ہے۔

یہ ایک کھلی حقیقت ہے کہ مشعال خان اگر داڑھی بڑھا لیتا اور ملاوں کا ہم مشرب و ہم مسلک ہوجاتا تو پھر چاہے آرمی پبلک سکول کے ننھے بچوں کو ہی گولیوں سے بھون دیتا ، وہ پھر بھی غازی اور شہید کہلاتا۔ لیکن وہ چونکہ کسی ملا کا ہم مسلک نہیں تھا اس لئے وہ کفر کی موت پر مرا۔۔۔

ہاں دوستو! اگر آپ اس ملک میں انسانی مساوات چاہتے ہیں، اخلاقی اقدار چاہتے ہیں، بھائی چارہ چاہتے ہیں، انسانی حقوق چاہتے ہیں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ تبدیلی اور جمہوریت چاہتے ہیں تو پھر خواہ آپ اسلامی جمہوریت ہی چاہیں لیکن سب سے پہلے اس بے لگام ملائیت کے جن کو بوتل میں بند کرنا ضروری ہے۔ یہ بات لکھ کر رکھ لیں کہ جب تک ملائیت کا یہ بے قابو جن، بوتل سے باہر ہے تب تک اس ملک میں حقیقی تبدیلی اور جمہوریت نہیں آسکتی۔

اقبال کے بقول وہ ملا جو آدمی کے مقام سے آگاہ نہیں وہ آدمی کو جمہوریت ، شعور اور مساوات کیا دے گا۔

نوٹ: ظاہر ہے کہ ہمارے مخاطب ، مسالک سے بالاتر ہوکر معاشرے کی خدمت کرنے والے، پاکستان دوست،پاکستان آرمی سے محبت کرنے والے ، محب وطن ، بیدار اور بصیر علمائے کرام نہیں ہیں۔


موضوعات مرتبط: فیچرز ، نذر حافی ، Top News ، شعور
ٹیگز: دین ملا اور جمہوریت
نویسنده : بازدید : 2 تاريخ : شنبه 13 خرداد 1396 ساعت: 11:57
برچسب‌ها :