فلسطین اور عرب دنیا

تعرفه تبلیغات در سایت

امکانات وب

فلسطین اور عرب دنیا 
تحریر: صابر کربلائی

ایک زمانے کی بات ہے کہ مائیں اپنے بچوں کو عرب قومیت اور حمیت کی لا جواب داستانیں سنایا کرتی تھیں اور کئی نسلیں یہی داستانیں سن سن کر پروان چڑھتی رہیں اورحقیقت میں دیکھا جائے تو واقعا عرب حمیت و غیرت اور بہادری میں دوسری قوموں سے آگے ہی تھے البتہ عجم بھی ایسی کئی خصوصیات رکھتے تھے لیکن عرب معاشروں میں عربوں کی حمیت اور قومیت اور دلیری و شجاعت کی داستانیں نئی نسل کر پروان چڑھاتے وقت گھول گھول کر پلائی جاتی تھیں ۔
سنہ 1948ء سے قبل اور اس کے بعد، کہ جب سرزمین فلسطین پر ناجائز صیہونی ریاست کے قائم کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی تو یہ عرب ہی تھے کہ جنہوں نے صیہونی سازشوں کا نہ صرف اسرائیل کے غاصبانہ تسلط سے پہلے مقابلہ کیا بلکہ تسلط کے بعد بھی سینہ سپر رہتے ہوئے جوانمردی کا مظاہرہ کیا۔انہی عربوں نے کہ جن میں مسلمان، عیسائی اور دیگر مذاہب کے لوگ بھی شامل تھے عرب قومیت پر اکھٹا ہو کر صیہونیوں کی نیندیں حرام کر دی تھیں، سنہ48ء میں بھی جب صیہونیوں نے بڑی طاقت اور بھاری اسلحوں کے ساتھ برطانوی و امریکی سامراج کی سرپرستی میں ان عرب فلسطینیوں پر حملہ کیا تو یہ اس وقت بھی ان کے سامنے ڈٹ گئے جس کے نتیجہ میں انہیں بڑی سخت قسم کی قربانیاں بھی دینا پڑیں، جس میں فلسطینی خواتین کو برہنہ سڑکوں پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا، جوانوں کو سخت شکنجہ دئیے گئے ، بزرگوں کے ساتھ بھی سخت سے سخت سلوک کیا گیا حتیٰ ماؤں کے پیٹ میں بچوں تک کو قتل کر دیا گیااس طرح کے اور کئی ایک مظالم ہیں جو اس وقت ان کو برداشت کرنا پڑا لیکن عرب حمیت بیدار تھی اس نے کبھی بھی سامراجی قوتوں کے سامنے شکست تسلیم نہ کی۔
وقت گزرتا چلا گیا، یہاں تک کہ سنہ1967ء میں انہی عربوں نے اپنی قوت کو مجتمع کر کے غاصب اسرائیل سے فلسطین آزاد کروانے کا عز م کیا اور چھ روز تک گھمسان کی لڑائی میں بالآخر عرب ایک مرتبہ پھر بغیر کسی بڑی کامیابی کے خالی ہاتھ ہی رہے، ہاں البتہ یہ ایک کامیابی ضرور تھی کہ اپنی پھنسی ہوئی فوجوں کو واپس نکال لے گئے اور اس سے بڑھ کر جو نقصان ان کو ہوا وہ یہ تھا کہ فلسطین کا تو ایک بڑا حصہ غاصب صیہونی ریاست کے تسلط میں گیا ہی ساتھ ساتھ اس نے شام، مصر، اردن اور لبنان کے علاقوں پر بھی قبضہ کر لیا، پھر کچھ وقت گزرا تو اسرائیل نے سنہ 1982ء میں لبنان پر قبضہ کر ڈالا، صبرا و شاتیلا میں ہونے والا فلسطینیوں کا بد ترین قتل عام بھی اسی سال میں صیہونیوں کے ہاتھوں انجام پایا، حتیٰ اسرائیل رفتہ رفتہ پورے لبنان پر قابض ہو بیٹھا اور اب اگلے شکار کے انتظار میں تھا شاید شام، یاکوئی اور سرزمین ۔
بہر حال عربوں کی جو بہادری اور شجاعت قصوں اور داستانوں میں سنائی جاتی رہی ان گذشتہ چند سالوں میں بس تھوڑی بہت ہی جھلک نظر آئی اور وہ بھی فلسطین کے باسیوں میں کہ جو نہتے پہلے روز سے اب تک صیہونیوں کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بنے رہے۔وقت پہلے کی طرح ہی گذرتا رہا، لبنان میں اسلامی مزاحمت نے حزب اللہ کے نام سے جنم لیا، اس تنظیم کی قیادت پہلے شیخ راغب حرب کر رہے تھے اور ان کی شہادت کے واقعہ کے بعد سید عباس موسوی نے قیادت سنبھال لی ، اس تنظیم کے جوان لبنان سے فلسطین جا کر پاپولر فرنٹ کے جوانوں کے ساتھ مل کر اسرائیل کے خلاف کاروائیاں انجام دیتے تھے، اسی طرح اس تنظیم کا گروہ لبنان میں قابض اسرائیلی فوج کے خلاف بھی کاروائی پر مامور تھا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ سنہ2000ء میں عربوں نے اپنی سالہا سال سے کھوئی ہوئی طاقت اور عزت کو دوبارہ پا لیا اور عرب قومیت و حمیت کا لوہا منوا لیا، کیونکہ اس سال اسرائیل کو لبنان کے چند ہزار جوانوں نے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا اور اسرائیل لبنان کے علاقوں سے دستبردار ہوا اور رسوا ہوتا ہو ذلت کا نشان ماتھے پر سجائے فوجیں واپس لوٹ گئیں۔اسی اثناء میں جہاں لبنان میں اسلامی مزاحمت جنم لے چکی تھی وہاں فلسطین میں بھی اسلامی مزاحمتی تحریک حماس شیخ احمد یاسین جیسے عظیم اور با ہمت مجاہد کی قیادت میں کھڑی ہو چکی تھی جس نے اسرائیل کے لئے مشکل وقت پیدا کر رکھا تھا۔
اسرائیل بھی اپنی اس شکست سے نالاں تھا او ر چاہتا تھا کہ بدلہ لیا جائے، لہذٰا اسرائیل ایک مرتبہ پھر سنہ 2006ء میں لبنان پر حملہ آور ہوا اور 33روز تک اسلامی مزاحمت حزب اللہ کے ساتھ گھمسان کی لڑائی کے بعد شکست سے دوچار ہوا، بھاری جانی نقصان بھی اٹھانا پڑا، یہ ایک اور موقع تھا کہ جب عربوں نے ثابت کیا تھا کہ وہ واقعا دلیری و بہادری میں اپنی مثال آپ ہیں، اسی طرح اسرائیل سے جب یہ شکست بھی برداشت نہ ہوئی تو اس نے فلسطین کی پٹی غزہ پر ایک نہ ختم ہونے والی خطر ناک جنگ کا آغاز کر دیا ، یہاں بھی اسلامی مزاحمت حماس ،عزالدین القسام اور جہاد اسلامی کے جوانوں نے اسرائیل کے سامنے تر نوالہ بننے کے بجائے اسرائیل کو اینٹ کا جواب پتھر سے دیا جس کے نتیجہ میں اسرائیل اپنے جنگی اہداف حاصل کئے بغیر ہی جنگ بند کرنے پر مجبو ر ہوا اور اس طرح ایک اور فتح و کامرانی فلسطینی مظلوموں کے حصہ میں آئی۔اگر دیکھا جائے تو سنہ2000ء سے سنہ2017ء تک یہ وہ چند سال ہیں کہ جب اسلامی مزاحمتی تحریکوں نے نہ صرف لبنان ،مقبوضہ فلسطین بلکہ شام سمیت دنیا کے ہر اس مقام پر اسرائیلی ناپاک عزائم کو خاک میں ملایا ہے کہ جہاں صیہونیوں نے اپنے ناپاک منصوبوں کی تکمیل کے خواب دیکھے تھے، اور ان چند سالوں کو عربوں کی کھوئی ہوئی طاقت کے پلٹنے اور عزت و کرامت کے سال بھی کہا جا سکتا ہے کیونکہ ان چند سالوں میں ہی ماضی کی ان تمام جنگوں کا بدلہ بھی اسرائیل سے لیا گیا ہے کہ جو اس نے عالمی سامراج امریکا اور برطانیہ سمیت مغربی قوتوں کی سرپرستی میں عرب ممالک کے ساتھ کی تھیں ۔
بہر حال ایسے دور میں کہ جب عرب کی کھوئی ہوئی عزت اور وقار کو حماس ، حزب اللہ اور جہاد اسلامی جیسی اسلامی مزاحمتی تحریکوں نے پوری عرب دنیا کو لوٹائی ہے ایسے میں چند نا عاقبت اندیشن عرب دنیا کے حکمران اپنی عزت کا سودا کئے بیٹھے ہیں اور افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ مظلوموں کا دفاع کرنے والے ان اسلامی مزاحمتی گروہوں کو دنیا کا سب سے بڑا دہشت گرد امریکا سرزمین مقدس حجاز میں بیٹھ کر مسلم دنیا کے حکمرانوں کے سامنے دہشت گرد کہتا ہے اور کسی بھی مسلمان حاکم میں جرات نہیں کہ وہ دنیا کے سب سے بڑے شیطان اور دہشت گرد امریکا کی زبان کو لگام دے سکے اور بتائے کہ اگر دنیا میں کوئی دہشت گرد ہے تو وہ امریکا ہے اس کی ناجائز اولاد اسرائیل ہے نہ کہ اسلامی مزاحمتی تحریکیں کہ جو براہ راست اسرائیل اور اسرائیل کے پیدا کردہ دہشت گرد گروہوں داعش، جبھۃ النصرۃ اور دیگر کے ساتھ نبرد آزما ہیں ، انہی اسلامی مزاحمتی تحریکوں کی بدولت آج شام میں اسرائیلی حمایت یافتہ دہشت گرد گروہوں کا خاتمہ ممکن ہوا ہے، عراق میں بھی صورتحال اسی طرح ہے، اگر یہ اسلامی مزاحمتی گروہ لیبیا میں بھی ہوتے تو شاید لیبیا کی صورتحال بھی ایسی نہ ہوتی جو امریکا نے وہاں بنا رکھی ہے۔عرب دنیا کے عزت و وقارمیں ان اسلامی مزاحمتی تحریکوں نے اضافہ کیا ہے جبکہ عرب دنیا کے حکمران امریکی و صیہونی کاسہ لیسی میں مصروف عمل ہیں ،اپنی عزت و کرامت، اپنی حمیت و وقار کا سودا کر چکے ہیں۔ ڈر تو یہ ہے کہ جس طرح عرب دنیاامریکی شیطانی چالوں میں پھنس کراسرائیل کے لئے راہیں ہموار کر رہی ہے ، کہیں اسرائیل اپنے گریٹر اسرائیل کے منصوبے کے تحت سرزمین مقدس حجاز تک قابض ہی نہ ہو جائے ، لیکن پھر ایک امید اسلامی مزاحمت باقی ہے، کیونکہ اسرائیل کا علاج صرف اور صرف اسلامی مزاحمت ہے۔


موضوعات مرتبط: فیچرز ، Top News
ٹیگز: فلسطین اور عرب دنیا
نویسنده : بازدید : 1 تاريخ : شنبه 13 خرداد 1396 ساعت: 11:57
برچسب‌ها :