ری پبلک، ڈیموکریسی ، نظریاتی جمہوریت اور نظریاتی جمہوریت نیز جمہوریت کی خوبیاں | بلاگ

ری پبلک، ڈیموکریسی ، نظریاتی جمہوریت اور نظریاتی جمہوریت نیز جمہوریت کی خوبیاں

تعرفه تبلیغات در سایت

آخرین مطالب

امکانات وب

دائرہ

سلسلہ ۱۳                        

ری پبلک، ڈیموکریسی ، نظریاتی جمہوریت اور نظریاتی جمہوریت نیز جمہوریت کی خوبیاں

نذر حافی

مقدمہ :۔ جس طرح تمام ادیان اپنے اپنے زمانے کے لحاظ سے جامع تھے،  اسی طرح دین اسلام بھی ایک  جامع نظام ہے۔اس جامع نظام کے اندر مختلف شعبے ہیں اور اس کی جامعیت کا تقاضا ہے کہ ہر شعبہ اپنی حدود کے اندر کام کرے۔

مثلا دین اسلام کا ایک شعبہ ہےعبادات ، ایک اقتصاد، ایک تعلیم و تربیت، ایک اخلاق، اور ایک حکومت ہے۔ اب اگر ہم کسی بھی ایک شعبے کو اٹھا کر اسلام کے مقابلے میں لے آئیں اور یہ کہیں کہ اگر اس شعبے پر عمل کیا جائے تو انسانیت فلاح پا جائے گی۔  تو ایسا ممکن نہیں ۔

یہ بالکل ایسے ہی ہے کہ جیسے ایک آدمی بالکل سیاسی ہوجائے، وہ سیاسی تقریریں کرے، نعرے لگائے ، ووٹ دے اور الیکشن میں حصہ لے  لیکن  تعلیم و تربیت ،عبادات اور اخلاق سے عاری ہو، ایسا آدمی اسلام کو مطلوب نہیں ہے۔

اسلام کو ایسا انسان چاہیے جو تمام ابعاد میں متوازن ترقی اور رشد کرے۔ تمام شعبہ جات ایک جسم کے اعضا کی مانند ہیں۔

 مثلا اگر کسی کی صرف ناک بڑی ہونی شروع ہوجائے  اور باقی جسم رشد نہ کرے تو اسے حقیقی رشد نہیں کہتے۔ ناک بہت اچھی اور مفید شئے ہے ، اس کے ان گنت فوائد ہیں، اس سے انسان سانس لیتا ہے اور زندہ رہتا ہے لیکن ایک انسان کے لئے فقط ناک کافی نہیں ہے۔

اسلام کے شعبوں  میں سے ایک شعبہ حکومت کا ہے،   لیکن اگر اسلام کی حکومت قائم ہوجائے اور وہ حکومت  اسلام کے دیگر شعبوں کی رعایت نہ کرے تو اسلام کی رو سے ایسی حکومت اسلام کی مطلوبہ حکومت نہیں ہے۔

اسلام کو ایسی حکومت چاہیے جو اسلام کے تمام شعبوں کو نافذ کرے۔  یعنی  خود حکومت اسلام کے متبادل نہیں ہے۔ ممکن ہے کہ کہیں پر اسلام ہو لیکن اسلامی حکومت نہ ہو۔ جیسا کہ ہندوستان میں، اسلام ہے، مسلمان بھی ہیں لیکن اسلامی حکومت نہیں ہے ۔ وہاں جمہوریت ہے تو اب ہم وہاں کی جمہوریت کو وہاں کے مسلمانوں کے لئے اسلام کا متبادل قرار نہیں دے سکتے۔

دوسری اہم بات یہ ہے کہ اسلام نے ہمیشہ عوام کی رائے کو اہمیت دی ہے اور خدا نے پیغمبر اسلام ﷺ سے بھی فرمایا  ہے:

و شاور هم فی الامر فاذا عزمت فتوکل علی الله ( (آل عمران) سیاق و سباق کے مطابق  اس آیہ مجیدہ میں فرمایا گیا ہے کہ حکومت و انتظام کے معاملہ میں آ پ لوگوں سے مشورہ کریں،اورجب آپ متعلقہ معاملہ میں عزم کریں تو اب اللہ پر اعتماد کیجیے۔

ایک دوسرے مقام پر ارشاد ہوا :  وامرھم شوریٰ بینھم  (شوری)ان کے درمیان معاملات باہم مشورہ سے انجام پاتے ہیں۔

قابل توجہ نکتہ یہ ہے کہ خود حضور صلی اللہ علیہ وآلہ سلم کو باوجود منصبِ رسالت پر فائز ہونے کے  عوام سے مشورہ کرنے کا حکم دیا گیا۔ 

یہ نہیں کہا گیا کہ یہ لوگ  تو ابھی مسلمان ہوئے ہیں، یہ تو بے شعور ہیں، نہیں بلکہ  عوام کو  اہمیت دی گئی ہے۔یہی وجہ ہے کہ صدر اسلام سے ، اسلام میں شوریٰ کا وجود مسلسل ہے۔

اب جب ہم اسلامی حکومت کی بات کریں گے تو اس میں بھی عوامی مشورت اور تائید  کی ضرورت پڑے گی۔   قدیم زمانے میں حکومت بنانے کے لئے  عوامی تائید کی خاطر بیعت لی جاتی تھی اور آج ووٹ لیا جاتاہے۔عوامی تائید سے جو حکومت وجود میں آتی ہے ، وہ دو طرح کی ہوتی ہے۔ ری پبلک یا ڈیمو کریسی ۔

پولیٹیکل سائنس کے مطابق اگر افراد مل کر کسی ایک شخص یا چند اشخاص کو معینہ مدت کے لئے منتخب کریں تو اسے ری پبلک کہتے ہیں، ڈیمو کریسی نہیں۔

ڈیمو کریسی  میں آئین محور ہوتا ہے اور آئین کے اعتبارسے ڈیمو کریسی دو طرح کی ہے ۔ نظریاتی اور غیر نظریاتی

نظریاتی ڈیموکریسی میں  عوام کے نمائندے ایک خاس مکتب کی روشنی میں  آئین سازی کرتے ہیں یا اس مکتب کے آئین کو نافذ کرتے ہیں  جبکہ غیر نظریاتی ڈیمو کریسی میں کسی مکتب کے بجائے عوامی نمائندے خود سے بحث و تمحیص کے ذریعے آئین بناتے ہیں اور اسے نافذ کرتے ہیں۔

غیر نظریاتی ڈیموکریسی یعنی عوام کی حکومت عوام کے ذریعے عوام پر

اسلامی ڈیمو کریسی چونکہ ایک مکتبی اور نظریاتی ڈیموکریسی ہے لہذا اس کی تعریف ی کچھ یوں بنتی ہے :

اقتدار اعلی اللہ کے پاس ہے ، اسی کی حکومت اس کے نیک اور صالح افراد کے ذریعے اس کے بندوں پر۔

پس جب ہم جمہوریت کی بات کرتے ہیں تو ہمیں معلوم ہونا چاہیے کہ ہم کسے جمہوریت کہہ رہے ہیں!؟

 ری پبلک کو یا ڈیمو کریسی کو ، اور  جب جمہوریت کے نفاذ کی بات کرتے ہیں تو ہمیں پتہ ہونا چاہیے کہ ہم نظریاتی یا مکتبی جمہوریت کی بات کرتے ہیں یا غیر نظریاتی جمہوریت کی۔

جب مکتبی جمہوریت کی بات کرتے ہیں تو پھر  بھی مختلف مکاتب  کے درمیان  میں   فرق ہے:

مکتب عیسائیت کی جمہوریت ، مکتب اسلام کی یا مکتب یہود کی جمہوریت سے مختلف ہے۔  مکتب عیسائیت میں کلیسا اور ریاست دو مختلف چیزیں ہیں جبکہ اسلام میں پوری ریاست مسجد کا درجہ رکھتی ہے اور مسلمانوں کا حاکم،  امام ،خلیفہ، یا ولی فقیہ  ان کا دینی پیشوا بھی ہوتا ہے۔

اب جمہوریت چاہے مکتبی ہو یا غیر مکتبی ، اس کی کچھ خامیاں تھیں جنہیں ہر ملک میں کنٹرول کرنا اور دور کرنا ضروری ہوتا ہے ۔ اس سے پہلے خامیوں کا ذکر ہم کر چکے ہیں  اب اس کی کچھ خوبیاں بھی ہیں ، وہ پیش خدمت ہیں:

۱۔ حق رائے دہی

جمہوریت کی پہلی خوبی ہے کہ لوگوں کو باصلاحیت افراد کو منتخب کرنے کا موقع دیتی ہے۔ یہ موقع دینے کا مقصد یہ ہے کہ جمہوری حکومت میں عوام کو بے شعور نہیں سمجھا جاتا ۔ پس اگر کسی جمہوری حکومت میں عوام کو بے شعور کہا جائے تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ  اگر عوام بے شعور ہے تو پھر بے شعور عوام  سے ووٹ کیوں مانگے جاتے ہیں ، بے شعور سے تو رائے لینا فضول ہے۔

لہذا عوام بے شعور نہیں ہوتی عوامی رائے کے ذریعے برسر اقتدار آنے والے لوگ عوام کے ساتھ خیانت کرتے ہیں۔

۲۔آئین کے سامنے جوابدہی

جمہوریت چاہے مکتبی ہو   یا غیر مکتبی ، اس میں حکمران بھی عوام کی طرح  قانون کے سامنے جوابدہ ہوتے ہیں۔

۳۔بیرونی دباو کو برداشت کرنا

جمہوری حکومت چونکہ اکثریت کی حکومت ہوتی ہے لہذا اگر اس پر کسی  دوسری ریاست کی طرف سے کوئی دباو ڈالا جائے تو جمہوری حکومت اپنی اکثریت کے بل بوتے پر اس کے سامنے ڈٹ سکتی ہے۔

۴۔ عوامی آزادی سے استفادہ

جمہوری حکومت میں عوام کو تحریر و تقیری کی آزادی ہوتی ہے ، جس سے لوگ کھل کر حکومت پر تنقید کرتے ہیں۔ حکومت اس تنقید کی روشنی میں اپنی خامیاں دور کرتی ہے اور اپنی تعمیر کرتی ہے۔

۵۔ رواداری

 جمہوری حکومت میں اقلیتوں کے ساتھ رواداری رکھنا ، حکومت کی مجبوری ہوتی ہے ، چونکہ اگر حکومت اقلیتوں کے ساتھ الجھ جائے گی تو اکثریت کے کام بھی رک جائیں گے۔

۶۔سیاسی جماعتوں کی تشکیل

جمہوریت میں لوگوں کو سیاسی پارٹیوں کی تشکیل کو موقع ملتا ہے اور سیاسی پارٹیاں فعالیت کرتی ہیں جس سے عوام میں سیاسی شعور بیدار ہوتا ہے۔

۷۔عوامی دباو اور حمایت  کا احساس

 جمہوریت میں حکمرانوں کو عوامی دباو اور حمایت دونوں کی رعایت کرنی پڑتی ہے ۔ حکمران عوام کی تیور دیکھ کر فیصلے کرتے ہیں۔

۸۔موروثی  اور نسلی حکومتوں کا خاتمہ

جمہوریت میں عوام اپنی مرضی سے حکمران منتخب کرتے ہیں ، جس سے موروثی سیاست اور خاندانی و نسلی حکومتوں کا دروازہ بند ہو جاتا ہے۔

نتیجہ:۔

 جس طرح بنجر زمین پر بارش برسنے سے سبزہ نہیں اگتا اسی طرح خامیاں دور کئے بغیر جمہوریت کا شجر ثمر نہیں دیتا۔ آج ہمارے ہاں جمہوریت کے باوجود ہم لوگ جو باقی دنیا سے پیچھے ہیں ، اس کی  ایک اہم وجہ یہ ہے کہ ہمیں   ری پبلک اور ڈیمو کریسی اور پھر اپنے ملک میں نافذ ڈیمو کریسی کا بھی  کچھ پتہ نہیں ۔ ہم میں سے اکثریت نہیں جانتی کہ  ہمارے ہاں ڈیمو کریسی کی کونسی شکل نافذ ہے۔  ہم سمجھتے ہیں کہ فقط  لوگوں کے ووٹ ڈالنے سے جو حکومت وجود میں آئے وہ ڈیمو کریسی ہے، جبکہ حقیقت میں ایسا نہیں ہے ممکن ہے وہ ری پبلک ہو۔ اسی طرح اگر عوام جمہوریت کی خامیوں سے پہلے سے باخبر نہیں ہونگے تو  لوگ ان سے ووٹ لینے کے بعد ہمیشہ فراڈ کرتے رہیں گے اور یہی کہتے رہیں گے کہ عوام تو بے شعور ہے۔

پس عوام کو جمہوریت کی خوبیوں اور خامیوں دونوں سے آگاہ کرتے رہنا ضروری ہے۔


موضوعات مرتبط: فیچرز ، نذر حافی ، Top News ، شعور
ٹیگز: ری پبلک , ڈیموکریسی , نظریاتی جمہوریت اور نظریاتی جمہوریت نیز جمہوریت کی...
نویسنده : بازدید : 1 تاريخ : سه شنبه 16 خرداد 1396 ساعت: 7:21