قومیات بطور پروفیشن

تعرفه تبلیغات در سایت

امکانات وب

 پروفیسر عالم شاہ

قومی مسائل توجہ چاہتے ہیں، لیکن اکثر پروفیشنل لوگ قومیات سے دور ہی رہتے ہیں،میرا تجربہ  ہے کہ  جب لوگوں میں شعور بڑھتا ہے تو انہیں احساس ہوتا ہے کہ یہ قومیات کی کہانی بھی اپنی جگہ  ایک پروفیشن ہے، لہذا انہیں دو پروفیشنز میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہوتا ہے ۔

رسول الله صلی الله علیہ و آلہ وسلم کا یہ دعویٰ "لا اسئلکم علیہ اجرا الا المودۃ فی القربیٰ"  اسی طرف اشارہ کر رہاہے کہ "میں کوئی پروفیشنل قومی لیڈر نہیں ہوں " ایک پروفیشنل لیڈر جو آپ سے نعروں، ووٹ، اور واہ واہ کی امید رکھتا ہے،  تمام انبیائے کرام  جن قوموں میں مبعوث ہوئے وہ ان قوموں کے پروفیشنل قومی لیڈر نہیں تھے اور قوم پر کسی قسم کا احسان نہیں جتلاتے تھے اور نہ ہی قوم کے کاندھوں پر سوار ہوکر نعرے لگواتے تھے اور نہ ہی ان کے معاشی اخراجات ان کی قوم پر بوجھ ہوتے تھے، ہر نبی کا اپنا مستقل پیشہ ہوتا تھا وہ خواہ کھیتی باڑی ہو یا گلہ بانی۔

میں نے ایران میں آنے والے اسلامی انقلاب کا مطالعہ کیا تو اس انقلاب کی کامیابی اور اس کے رہنماوں کی عوام میں مقبولیت کی ایک وجہ یہ بھی سمجھ میں آئی کہ یہ سب لوگ بھی  پروفیشنل قومی لیڈر نہیں تھے۔  انہوں نے اپنی لیڈرشپ کے اخراجات کے لئے کوئی قومی یا دینی  خزانہ نہیں بنا رکھا تھا جو ان کے اخراجات پورے کرتا تھا بلکہ وہ اپنی  دینی زمہ داری سمجھتے ہوئے  اپنے حصے کا کام اپنی جیب سے انجام دیتے تھے۔

جس طرح پروفیشنل قومی لیڈر قوم پر بوجھ ہوتا ہے اسی طرح  پروفیشنل عالم ہونا بھی اقوام کی بدبختی کا سبب ہے،  یعنی  کوئی شخص علم سے تو عاری ہو لیکن ظاہری طور پر علمی شخصیت کا روپ دھار کر وجوہات شرعی وصول کرنے لگ جائے یا قوم کی بھاگ ڈور اپنے ہاتھوں میں لے لے۔

ہم ویسے تو جمہوریت، اسلامی جمہوریت اور قومی قیادت کی بڑی بڑی باتیں کرتے ہیں لیکن   ہم  اپنے قومی رہنماؤں کے اثاثوں کا حساب  نہیں مانگ سکتے۔

ایک زمانے میں ملک کے ایک دور افتادہ پسماندہ علاقے سے ایک نوجوان طالب علم نے ایک بڑے شہر میں واقع ایک دینی مدرسے میں ایک تربیتی کیمپ میں شرکت کی۔ رہائش و کھانا بھی مدرسے میں تھا۔نوجوان  متاثر ہوا اوراس میں مدرسے سے اپنائیت کا احساس پیدا ہوا۔ کچھ عرصے کے بعد جب اس طالب علم کی پڑھائی مکمل ہوئی اور اسے اسی شہر میں سیکنڈری بورڈ میں نوکری کے انٹرویو کے لئے بلایا گیا تو وہ اپنی سادگی اور اپنائیت کی وجہ سے اسی مدرسے میں ایک رات رہنے کی خواہش کر بیٹھا۔

 اس پر اسے خوب سنائی گئیں اور شرمندگی کے ساتھ وہ وہاں سے نکل گیا اور ایک عام ہوٹل جہاں ٹی وی اور دنیا داری کا باقی سامان بھی تھا رہائش پذیر ہوا۔ الحمد لله! اسے  نوکری بھی مل گئی اور وہ رفتہ رفتہ ایک بڑا افسر بن گیا اور اسی شہر میں رہنے لگا مگر اس کے بعد وہ  قومیات سے لاتعلق رہا اوراس نے پھر کبھی  مدرسے کا  رخ نہیں کیا۔

چند سال اور بیت گئے اور اس شخص کے اختیارات میں اضافہ بھی ہو گیا۔وہ  ایک دن دفتر میں معمول کے کاموں میں مصروف تھا کہ اس کی سیکرٹری نے اسے بتایا کہ کوئی صاحب آپ سے ملنے آئے ہیں،اس نے دیکھتے ہی پہچان لیاکہ یہ تو اسی  مدرسے کے پرنسپل (بلکہ مالک کہا جائے تو بہتر ہے) ہیں ، جہاں سے اسے بد اخلاقی کے ساتھ دھتکارا گیا تھا۔

 خاندانی اخلاق اور مذہبی حس کی وجہ سے اس نے  علامہ صاحب کو خوش آمدید کہا اور اپنی سامنے والی کرسی پر بیٹھا دیا۔ مولاناموصوف کا لب و لہجہ اب مختلف تھا، وہ بھول چکے تھے کہ  یہ وہی نوجوان ہے جسے میں ایک مرتبہ اپنے مدرسے میں ایک رات قیام کرنے کی خواہش پر بے عزت کرکے نکال چکا ہوں۔

 بہر حال مولانا موصوف نے پہلے اسے دین کے درد سے لبریز درس دیا اور پھر امت مسلمہ کے قومی مسائل پر آنسو بہائے۔

 پھر گلہ کیا کہ آپ اتنے عرصہ سے اس شہر میں ہیں لیکن کبھی ہمارے مدرسے تشریف  نہیں لائے۔ اس افسر نے مولانا کے سامنے ادب کے ساتھ اپنی کاہلی اور کوتاہی کا اعتراف کیا اور پوچھا کہ میں کیا خدمت انجام دے سکتا ہوں ؟

مولانا موصوف نے اپنے بیٹے کے میٹرک کے سرٹیفیکٹ کے حوالے سے کسی پھنسے ہوئے کام کا اس افسر کو بتایا جو اس نے قوم کی خدمت کے طور پر فورا انجام دے دیا ۔ آج بھی جب بورڈ آفس کے حوالے سے مولانا کچھ لکھ کر بھیجتے ہیں تو وہ دینی خدمت سمجھ کر انجام دیتا ہے۔ یوں مدتوں بعد دو  دو پروفشنلز میں وحدت قائم ہو گئی۔

یوں ہوتے ہیں  پروفیشنل مولانا  اور پروفیشنل لیڈر، جو عطیات و صدقات و ذکواۃ و قربانی کی کھالیں اور ووٹ  جب جمع کرتے ہیں تو ان کا رویہ بالکل مختلف ہوتا ہے لیکن اگر ان سے کسی کو کوئی کام پڑ جائے تو پھر ان کا وہ خلوص ، مٹھاس اور قوم کا درد سب کچھ غائب ہوجاتاہے۔

المختصر یہ کہ پروفیشنل لیڈروں کے پاس عطیات و زکاوت و کھالیں و ٹیکس و ووٹ ۔۔۔ جمع کرنے کے تو شعبے ہوتے ہیں لیکن عوام کی خدمت اور عوام کو دینے کا کوئی شعبہ نہیں ہوتا۔

یعنی پروفیشنل لیڈر بلکل انبیائے کرام کے برعکس کام کرتے ہیں۔ 


موضوعات مرتبط: کالمز ، Top News
ٹیگز: قومیات بطور پروفیشن
نویسنده : بازدید : 3 تاريخ : يکشنبه 7 خرداد 1396 ساعت: 18:37
برچسب‌ها :