قومی پالیسیاں ۔۔۔ہو رہے ہیں بے نقاب آہستہ آہستہ | بلاگ

قومی پالیسیاں ۔۔۔ہو رہے ہیں بے نقاب آہستہ آہستہ

تعرفه تبلیغات در سایت

آخرین مطالب

امکانات وب

نذر حافی

nazarhaffi@gmail.com

ہمارے ہاں گنگا الٹی بہتی ہے، دنیا میں ہر جگہ دشمن کا دوست دشمن ہوتا ہے، لیکن ہمارے ہاں دشمن کا دوست ہمارا بھی دوست ہوتا ہے، دنیا کہاں سے کہاں پہنچ گئی ہے،  بھارت ہمارے پہلو سے اٹھا اوراس نے  عالم اسلام کے مرکز سعودی عرب پر کمندیں ڈال لیں،  نہرو کے زمانے سے لے کر آج تک، بھارت سعودی عرب کو مسلسل  اپنے جال میں پھنساتا گیا اور ہم سعودی عرب کی دوستی  کے جال میں جکڑتے گئے۔ ہمارے  حکمرانوں نے  کبھی ٹھہرکر یہ دیکھا ہی نہیں کہ ہم کن راہوں پر چل رہے ہیں!

جماعت الدعوۃ نامی تنظیم کے سربراہ حافظ محمد سعید اور ان کے چار قریبی ساتھیوں کی نظر بندی  کو  ایک سال سے زائد کا عرصہ گزر گیا ہے،  یہ پابندی بھارت کی ضرورت تھی جو وہ براہ راست نہیں لگوا سکتا تھا ، یہ پابندی سعودی عرب کے ساتھ بھارت کے   ان معائدوں کا نتیجہ ہے جن کی رو سے ۲۰۱۲ میں سعودی عرب نے  سید ذبیح الدین انصاری عرف ابو جندل کو ملک بدر کر کے بھارت کے حوالے کردیا تھا۔  یاد رہے کہ بھارت  نے ابوجندل کو  ۲۰۰۸ کے بمبئی حملوں اور  بعد ازاں پونا میں ہونے والے دھماکوں  کا ماسٹر مائنڈ  اور دیگر متعدد دہشت گردانہ کارروائیوں کا ذمہ دار قرار دیا تھا۔

بعد ازاں  چند سالوں کے اندر سعودی اور بھارتی ایجنسیوں کے درمیان انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے  سے  سعودی حکومت نے محمد اسداللہ خان عرف ابو سفیان،  اور  محمد عبدالعزیز کو بھی  گرفتار کیا تھا۔  قابل ذکر ہے کہ مذکورہ افراد کئی سالوں سے بھارت کو مطلوب تھے۔ بھارت کو مطلوب افراد میں سے ایک بڑا نام حافظ سعید صاحب کا ہے جن  کو ہماری سعودی نواز حکومت نے  پاکستان میں ہی نظر بند کر دیا ہے۔

ہمارے حکمرانوں نے بھارت کا دیرینہ مطالبہ تو پورا کردیا لیکن یہ نہیں سوچا کہ اس سے  تحریک آزادی کشمیر پر کیا اثرات مرتب ہونگے اور دہشت گردوں کو کیا پیغام پہنچے گا!؟

دہشت گرد اچھی طرح جان چکے ہیں حکومت کی طرف سے ان پر کوئی دباو نہیں، کسی کو فیس بک پیجز  سے اٹھا کر سزا دی جاتی ہے اور کسی کو کشمیر کاز پر سمجھوتہ نہ کرنے کی وجہ سے،  لیکن خود دہشت گرد چونکہ  بھارت کے بجائے پاکستان کو نقصان پہنچا رہے ہیں اس لئے ان کے لئے کسی قسم کی نظر بندی نہیں ہے۔

اس وقت   تقریباً پچیس لاکھ بھارتی  باشندےسعودی عرب میں  اور ستر لاکھ دیگر خلیجی ممالک میں  مشغول کار ہیں۔ سعودی عرب کے لئے ایشا کی منڈی میں بھارت سے بڑی مارکیٹ کوئی اور نہیں چنانچہ   سعودی آرامکو جو کہ سعودی عرب کی سرکاری تیل کمپنی ہے، اس نے  بھارتی آئل ریفائنریوں میں  بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔

اس وقت بھارت اور سعودی عرب کے تعلقات فقط اقتصاد اور مشیشت تک محدود نہیں ہیں بلکہ    ان کے تعلقات کا دائرہ پالیسی افئیرز تک پھیل چکا ہے۔ بھارت سعودی پالیسیسز  کے اشتراک کی وجہ سے اب بھارت براہ راست بھی ہمارے حکمرانوں کو ڈکٹیٹ کر رہا ہے ، جیسا کہ  نریندر مودی کے قریبی دوست سجن جندال نے  وزیراعظم سے  مری میں خفیہ ملاقات کی۔

دوسری طرف  ہماری موجودہ حکومت نے سینٹ کو اعتماد  میں لئے بغیر جنر ل راحیل شریف کو سعودی اتحاد کی کمان سنبھالنے کے لئے بھیج دیا۔ بھیجنا تو آسان تھا لیکن  اس وقت سعودی اتحاد کا یہ حال ہے کہ    خود وزیراعظم نواز شریف سعودی قیادت سے ملاقات کر کے ان کے باہمی اختلافات کو حل کرنے کے چکر میں ہیں۔ اس موقع پر  سیانے کہتے ہیں کہ کیا پدی اور کیا پدی کا شوربہ۔

ہماری سعودی عرب کے نزدیک کیا اہمیت ہے،  اس کا اندازہ ،ریاض کانفرنس میں ہی سب کو ہوچکا ہے۔ البتہ یہ دورہ خلیجی ممالک کے اختلافات سے ہٹ کر بھی ،   اس لئے بھی ضروری ہے تاکہ ریاض  کانفرنس میں   ہونے والی بے عزتی کو دھویا جاسکے اور عوام کو یہ کہا جا سکے  کہ دیکھو! دیکھو!  اب کی بار تو ہمیں  اچھی طرح لفٹ کرائی گئی ہے۔

اسلامی اتحاد کی آڑ میں  جنرل راحیل کو  سعودی عرب کی بارگاہ میں پیش کرنے والے حکمرانوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ اس اتحاد کے نزدیک اب تو قطر بھی دہشت گرد ہے۔ یعنی جو بھی اسرائیل اور امریکہ کی غلامی سے انکار کرے وہ اس سعودی  اتحاد کی نگاہ میں دہشت گرد ہے اوراس کا سارا منفی  کریڈٹ پاکستان کو جا رہا ہے  چونکہ اس شرمناک اتحاد کی کمان ایک  پاکستانی ریٹائڑڈ جنرل کے پاس ہے۔

افسوس کی بات ہے کہ پاکستان کے  ایٹمی قوت ہونے اور پاکستان کی  بہادرآرمی کی وجہ سے پاکستان کا پوری دنیا میں ایک وقار تھا جو نا اہل حکمرانوں نے اس سعودی اتحاد پر قربان کردیا ۔

 اس وقت سعودی عرب کی حالت یہ ہے کہ  آج  سعودی عرب کی حکومت نے قطری حمایت یافتہ عالم دین یوسف القرضاوی کی تمام کتب پر سعودی عرب میں مکمل طورپر پابندی عاید کردی ہے۔  سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر قرضاوی کا کیا قصور ہے ؟ کیا قرضاوی  اب نعوذ باللہ کافر ہو گئے ہیں؟ کیا  کسی ملک کی مخالفت یا حمایت سے علما کا علم اور دین  بھی تبدیل ہوجاتاہے ؟

 یہ پابندی سراسر ،  ایک بزرگ  عالم دین اور علم دین کی توہین ہے۔  آخر ملکی و قومی  تعصب کی بھی کوئی حد ہوتی ہے ،  عرب ٹی وی کے مطابق سعودی عرب کے وزیر تعلیم احمد بن محمد العیسیٰ نے تصدیق کی ہے کہ  معروف مصری  عالم دین  یوسف القرضاوی کی تمام کتب پر پابندی  لگا دی گئی ہے  اور اسکولوں اور جامعات کے نصاب سے ان کی تمام کتابیں  نکال دی گئی ہیں۔  نیز اس کے بعد ان کی کتب کی سعودی عرب میں طباعت و اشاعت پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

یہ کونسا اسلام ہے؟ کل تک  ایک عالم دین کی  کتابیں سعودی عرب کے سکولوں اور یونیورسٹیوں کے نصاب میں شامل تھیں ۔ آج سعودی وزارت تعلیم  کی طرف سے  ملک بھر کے تعلیمی اداروں کو ایک سرکلر جاری کیا گیا ہے جس میں تعلیمی اداروں کی انتظامیہ کو سختی سے ہدایت کی گئی ہے کہ وہ یوسف القرضاوی کی کتب کو نصاب سے نکالیں اور لائبریریوں میں موجود ان کی کتب کو وہاں سے ہٹایا جائے۔

ممالک کے درمیان اختلافات ہوتے رہتے ہیں اس کا یہ مطلب نہیں کہ اگر کوئی سعودی عرب کی مخالفت کرے تو وہ اسلامی اتحاد سے بھی نکلے گا اور اسلام سے بھی نکل جائے گا۔

پاکستان کی موجودہ نااہل اور کرپٹ حکومت ، ایک طرف سے قطری خطوط کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے اور دوسری طرف سعودی عرب کی کھودی ہوئی دلدل میں پھنسی ہوئی ہے۔

ایسے میں پوری پاکستانی عوام اور پالیسی ساز اداروں کو چاہیے کہ وہ لاتعلق ہو کر نہ بیٹھیں اور  اس ملک کو حکمرانوں کے مفادات کی بھینٹ چڑھنے سے روکیں،  موجودہ  صورتحال   میں بین الاقوامی سطح پر عالمی لیڈروں کے  چہرے بے نقاب ہوتے جارہے ہیں ، ہمیں چاہیے کہ ہم بھی ان چہروں کو بحیثیت قوم اچھی طرح پہچان کر اپنی  ملکی و قومی پالیسیاں بنائیں اور حقائق کے مطابق فیصلے کریں۔

 


افکار و نظریات: قومی پالیسیاں ۔۔۔ہو رہے ہیں بے نقاب آہستہ آہستہ
...
نویسنده : بازدید : 1 تاريخ : سه شنبه 23 خرداد 1396 ساعت: 18:53