اولڈ ایج ہومز ، ڈاکٹر حفیظ الر حمان

تعرفه تبلیغات در سایت

امکانات وب

ڈاکٹر حفیظ الر حمان           

ہماری پسماندگی کی ایک وجہ ہمارا جزباتی پن بھی  ہے  اور ہماری روائتی ہچکچاہٹ بھی   اور ہمارا غیر حقیقت پسند ہونا بھی  ۔

ہم ماں باپ کے بارے میں بڑے جذباتی  ہو جاتے ہیں ،اس میں کسی شکے و  شبہے کی گنجائش نہیں کے ماں باپ کا کوئی نعم البدل نہیں لیکن اس کا یہ بھی  مطلب نہیں کے ہم حقیقت سے آنکھیں چراتے پھر یں جو کہ ہمارا ثقافتی خاصہ بھی  ہے  ۔

ہماری زندگی میں ہونے والے تجربات ہی سے ہم زندگی کے بارے میں رائے قائم کرتے ہیں ،ہمارے والدین نے ایک خوشحال زندگی دیکھی جو شاید ہم بھی  نہ دیکھ سکیں ۔

بیت اللہ شریف کی زیارت سے لے کر ورلڈ ٹور تک کیا،  اور اپنی پچپن سالہ رفاقت میں صرف دس سال بغیر گاڑی کے رہے ،

آج بھی  ہمارے پاس جو کچھ ہے  ،انکی خیرات ہے  ۔ ہماری زندگی کی ہر آسودگی سے لے کر زاتی گھر بنانے تک انہوں نے ہماری مدد کی ،دونوں ، میرے انتہائی پیارے ماں باپ از جان عزیز ،زہنی بیماری کا شکار ہوئے اور انکی یادداشت انتہائی کمزور ہو گئی ۔

الزئمر یا ڈیمینشیہ کے مرض میں مبتلا ہوئے اور اپنے ضروری زاتی کاموں کی ادائیگی سے بھی  محروم رہ گئے ،جیسے کے کھانا پینا ،بدن کی صفائی اور لباس وغیرہ تبدیل کرنا ۔والدہ محترمہ کا انتقال ہو گیا ہے  اور والد محترم ابھی  حیات ہیں ۔

ہماری دعا ہے  کہ   بڑھاپا اپنی جگہ پہ سو بیماریوں کی جڑ ہے  اور بڑھاپے میں کوئی بھی  دیگر مرض ہو جائے لیکن دماغی بیماری نہ ہو ۔

ہمارے لیے یہ انتھائی تکلیف دہ لمحات تھے  اور ہیں ،وہ کے جن کا ایک ایک لفظ ہمارے لیے روشنی کا مینار ہوا کرتا تھا ،آج ہمارے رحم و کرم پہ تھے  اور ہیں ۔

میرےُ والد بھی  ڈاکٹر ہیں اور میرا کلینک جس سنٹر میں ہے  ،وہاں ستر کے قریب اور بھی  اسپیشلسٹ ہیں اور مجھے  طبی علاج  کے لحاظ سے والدین کے سلسلے میں کبھی  کوئی پریشانی نہیں ہوئی البتہ یہ سوچ کر تکلیف ہوتی ہے  کہ جن لوگوں کو یہ سہولتیں نہیں ہیں ،وہ کیا کرتے ہونگے ۔

پھر بڑھاپے میں سب سے بڑا مسلہُ تنہائی کاہے  ،خاندان کے افراد کے لیے عملی طور پہ ناممکن ہے  کے وہ ہمہ وقت اپنے بزرگوں کو وقت دے سکیں اور سب سے اہم انکی دلچسپیوں اور زندگی کے حوالے سے مو ضوعات میں فرق آ جاتا ہے  ۔

ہمُ اپنے ذاتی تجربے کے حوالے سے اس نتیجے پرپہنچے ہیں کہ اولڈ ایج ہومز بزرگوں کے لیے ایک بہتر حل ہے  ،جہاں میڈیکل ،ڈینٹل اور کئی دوسری ایمرجنسیز کا حل ہوا کرتا ہے  ۔

ایک ہی عمر کے لوگ ،انکی دلچسپیاں اور یادیں بھی  ایک جیسی ہوتی ہیں اور سب سے اہم کے اگر بڑھاپا بیماری کے ساتھ ہو تو جس قدر سہولیات یکجا ہونگی ،بہتر ہے  ،

مغرب میں ذہنی یادداشت کے حوالے سے تربیت یافتہ اسٹاف ہوا کرتا ہے  اور جو کہ یہاں بھی  ممکن ہے  ۔حکومت وقت کو اس سلسلے میں اولڈ ایج ہومز پہ ضرور توجہ دینی چاہیے ۔

بزرگوں سے محبت اپنی جگہ پہ لیکن ہمیں ان سے اس محبت کی قیمت وصول نہیں کرنی چاہیے اور جہاں وہ سکوں اور آرام سے رہ سکتے ہیں ،وہاں انکے رہنے کا بندوبست کرنا چائیے ۔

معاشرے کے خوف سے اپنے بزرگوں کو ازیت میں نہ ڈالیں اور دنیا کو سمجھائیں کہ ہمارے بزرگوں کے لیے یہی بہتر ہے  ۔

جہاں تک پیار ،محبت اور وقت کا تعلق ہے  ،تو اس کے لیے مقدار کی ضرورت نہیں ،اس کے لیے اس کا بھر پور ہونا ضروری ہے  ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 

تبصرہ:۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ڈاکٹر صاحب آپ نے انتہائی حساس موضوع پر بات کی ہے۔المیہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں ہر معاملے میں جذباتیت کے ساتھ بے حسی بھی  ہے، اولڈ ایج ہاوسز کا مسئلہ بھی  کچھ ایسا ہے۔  اگر اس مسئلے کو چھیڑا جائے تو ایک طرف سے قران و حدیث اور اخلاقیات کی باتوں  کے ڈھیر لگا دئیے جاتے ہیں اور دوسری طرف بے حسی کی انتہا ہے۔ہمارے ہاں بزرگ افراد جابجا دھکے کھاتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

جولوگ بزرگوں کا خیال رکھ سکتے ہیں اور ہم سب کو دینی و اخلاقی نکتہ نظر سے رکھنا بھی  چاہیے۔ لیکن جو کسی بھی  وجہ سے خیال نہیں رکھ سکتے انہیں خواہ مخواہ کے جذباتی پن کے بجائے معمر افراد کو اولڈ ایج ہاوسز میں چہوڑ دینا چاہیے تاکہ وہ اپنی عمر کے آخری دنوں میں، بیماری اور ضعیفی کے ایام میں ایک ایک نوالے اور کسی سے بات کرنے کو نہ ترسیں۔

بزرگوں کی بہتر زندگی کے لئے سوچنا بھی  انسانیت کی بہت بڑی خدمت ہے۔میں نے سڑکوں ، بازاروں،گلیوں اور محلوں میں ایسے معمر افراد کو بھیک  مانگتے، مشقت کرتے،پھیری کرتے، لوگوں کی جھڑکیاں سہتے اور آنسو پونچھتے ہوئے  دیکھا  ہے اور ایک عرصے سے میں اس صورتحال پر دلی طور پر اداس ہں۔ایک مرتبہ پھر کہوں گا کہ جو خدمت کر سکتے ہیں وہ یقینا سعادت مند اور خوش بخت ہیں لیکن جو نہیں کر سکتے اور جن بزرگوں کا کوئی خیال رکھنے والا نہیں ہے، ہم سب کو مل کر ان کے بارے میں  حل سوچنا چاہیے۔ بنی نوع انسان کی خدمت دارصل اپنی ہی خدمت ہے۔

ہمارے ہاں معاشرتی جمود کی انتہا یہ ہے کہ اولڈ ایج ہاوسز کو گالی بنا دیا گیا ہے،  لیکن دوسری طرف چوکچھ ہورہاہے اس سے ہم سب نظریں چرا رہے ہیں۔ ہم سب  کو مل کر ہی اس جمود کو توڑنا ہوگا۔

والسلام

نذر حافی


افکار و نظریات: اولڈ ایج ہومز, ڈاکٹر حفیظ الر حمان
نویسنده : بازدید : 1 تاريخ : پنجشنبه 25 خرداد 1396 ساعت: 12:26
برچسب‌ها :