سیاسی شعور اور جمہوریت دائرہ ۱۳ | بلاگ

سیاسی شعور اور جمہوریت دائرہ ۱۳

تعرفه تبلیغات در سایت

آخرین مطالب

امکانات وب

 

سیاسی شعور اور جمہوریت

 

نذر حافی

 

کشتی سمندر کے وسط میں تھی، صرف ایک ملاح اور ایک مسافر سوار تھا، تاریک رات میں بارش شروع ہوگئی، ملاح بالکل کیمونسٹ  اور کافرتھا، مسافر مومن تھا، ملاح تیراکی میں ماہر تھا، مسافر تیراکی سے بے خبر تھا،  طوفان کی لہروں نے ابھر کر کشتی الٹ دی،  اگلے روز سمندر کے ساحل پر اخبار چھپے، ہر اخبار میں بہادر ملاح کے قصے تھے کہ اس نے بڑی ہمت سے کام لیا ، طوفان کا مقابلہ کیا، سمندر کی خوفناک موجوں کو چیرتا ہوا  ساحل تک پہنچ گیا۔

 

اس کے اعزاز میں پارٹیاں دی گئیں، پروگرام منعقد کئے گئے لیکن ڈوب جانے والے مرد مومن کے حصے میں فقط چند آنسو آئے۔

 

یہ قانون قدرت ہے کہ ہر شعبے میں ، وہی ساحل تک پہنچتاہے، اور اسی کی عزت ہوتی ہے جسے اس شعبے کا شعور ہوتا ہے۔جو فن تیراکی جانتا ہے وہی سمندر کی لہروں کو چیر کر ساحل تک جاسکتا ہے چاہے کافر ہی کیوں نہ ہو اور جو فن تیراکی نہیں جانتا وہ ڈوب جائے گا خواہ مومن ہی کیوں نہ ہو۔

 

یہی حال جمہوریت کا بھی ہے، اگر لوگوں کو جمہوریت کا شعور ہوگا تو وہ اس سے استفادہ کریں گے خواہ کافر ہی کیوں نہ ہوں لیکن اگر عوام کو جمہوریت کا شعور نہیں ہوگا تو عوام  جمہوری حکومتوں میں اٹھنے والے طوفانوں  کے سامنے بے بس ہو جائے گی۔

 

آپ صرف  اپنی موجودہ جمہوری حکومت کے کارناموں پر نگاہ ڈالیے:

 

۱۔ اس وقت جہان اسلام کے تین بڑے دشمن ہیں، بھارت، امریکہ اور اسرائیل۔ مسلم دنیا کو دبانے کے لئے ان تینوں نے سعودی عرب کو قابو کیا ہوا ہے اور سعودی عرب نے پاکستان اور دیگر خلیجی ریاستوں کو جکڑا ہوا ہے۔ سعودی عرب، مسلمانوں کو فلسطین اور کشمیر تو آزاد کرواکر نہیں دے سکتا لیکن اس نے  پوری عرب دنیا کو فلسطین کاز اور پاکستان کو کشمیر کاز سے بہت پیچھے دھکیل دیا ہے۔ قائد اعظم نے تو   کشمیر کو پاکستان کی  شہ رگ کہا تھا ، لیکن  اب پاکستان کے عوام کو کچھ خبر نہیں کہ کشمیر کے ساتھ کیا ہو رہاہے۔ چنانچہ سجن جندل اور نواز شریف  کی  خفیہ ملاقات ہوجاتی ہے اور عوام دیکھتی رہ جاتی ہے۔ یہ ہے ہمارے ہاں کی جمہوری حکومت!

 

 

 

کشمیر کاز کی اہم شخصیت ، بھارتی مطالبے اور سعودی دباو کے باعث ،حافظ سعید چودہ ماہ سے نظر بند  ہیں! عوام کو پتہ ہی نہیں کہ انہیں کیوں نظر بند کیا گیا ہے؟اس نظر بندی کا فائدہ کسے پہنچ رہا ہے اور نقصان کسے!؟عوام کو یہ بھی نہیں پتہ کہ یہ نظر بندی کس کو خوش کرنے کے لئے لگائی گئی ہے؟ یہ ہے ہماری عوام کا جمہوری شعور!

 

۲۔ جنرل (ر) راحیل شریف  کو  عوامی نمائندوں کو اعتماد میں لئے بغیر سعودی عرب کی نوکری کے لئے بھیج دیا گیا اور اب ہماری نوّے فی صد  عوام کو پتہ ہی  نہیں  کہ انہیں کیا کرنا چاہیے!؟    کیا یمن کوئی کافر ملک ہے جس پر سعودی عرب نے جنگ مسلط کر رکھی ہے اور کیا قطر کوئی غیر مسلم ملک ہے کہ جس  کے عوام کا رمضان المبارک میں  بھی محاصرہ کیا گیا ہے!؟

 

یہ ہے ہماری موجودہ  جمہوری حکومت جہاں  عوام کو پتہ ہی نہیں کہ ان حالات میں ان کے جمہوری اختیارات کیا ہیں!؟

 

۳۔ عمران خان صاحب نے حکومت کی کرپشن کے خلاف مقدمہ لڑا تو عدالت سے فیصلے کے بجائے جے آئی ٹی برآمد ہوئی۔ یہ ہمارے ہاں کی جمہوری حکومتوں میں اعلی اداروں کی کارکردگی ہے ، جبکہ  دوسری طرف فیس بک پیجز چلانے پر لوگوں کو اغوا کرنے اور پھانسیاں دی جانے کی  خبریں گشت کررہی ہیں۔

 

 یعنی ہماری  جمہوری حکومت میں بھی  عام عوام کے خلاف ادارے چوکس ہیں ، ملک کے معروف ترین ائیر پورٹ پر خواتین کی پٹائی کی جاتی ہے اور اس کے بدلے میں سزا یہ  دی جاتی ہے کہ ایک کانسٹیبل کو معطل کیا جاتاہے۔!یہ ہے ہمارے جمہوری اداروں میں عوام کی اوقات!

 

آپ کو یاد ہوگا، یہ ابھی ابھی کی بات ہے کہ کسی مدرسے میں نہیں بلکہ ایک یونیورسٹی میں، مشال خان جیسے قومی سرمائے کو قتل کردیا جاتا ہے ، اور سرکاری ادارے اسے تحفظ نہیں دے پاتے، اور اس کے قتل میں اپنے آپ کو جمہوری اور سیاسی کہنے والے لوگ ملوث پائے جاتے ہیں۔

 

یہ ایک جمہوری ملک ہے جہاں ہر ڈگڈگی بجانے والا چند لوگوں کو اپنے ارد گرد اکٹھا کرلیتا ہے اور پھر مشال خان جیسے لوگوں کو قتل کر کے یہ تاثر دیتا ہے کہ اسے عوام نے قتل کیا ہے۔

 

 مشال کے قتل سے عوام اور جمہوریت کی بدنامی ہوئی لیکن عوام کوئی رد عمل نہیں دکھا سکے چونکہ  قاتلوں میں جمہوری  لوگ ، سیاسی عناصر  اور کونسلر بھی شامل  ہیں۔

 

 

 

یقینا یہ جمہوریت کے نام پر ڈھونگ ہے، جمہوریت ایک ایسا طرز حکومت ہے جس میں عوامی اور انسانی اقدار  کو اہمیت دی جاتی ہے لیکن ہمارے ہاں جمہوری حکومت  کے  اندر وہی آمریت ہوتی ہے لیکن اس کا نام جمہوریت رکھ دیا جاتا ہے۔

 

 مثلا  اگر آپ آٹے کے اوپر چینی لکھ کر اسے چینی چینی کہتے رہیں تو کیا آٹا میٹھا ہو جائے گا!؟

 

یاد رکھئے ! غیر جمہوری پارٹیوں میں تربیت اور پرورش پانے والے لوگ بھی جب پارٹیاں بدلتے ہیں تو اپنا ایجنڈا بھی ساتھ لے جاتے ہیں۔  یہ لوگ جمہوری اقدار کے فروغ کے لئے پارٹیاں نہیں بدلتے بلکہ ساری پارٹیوں کو اپنی گرفت میں  رکھنے کے لئے ، ہر پارٹی میں اپنے ایجنٹ تیار کرتے ہیں۔

 

ہمیں آٹےکو چینی کہنے کے بجائے لوگوں کو حقیقی چینی سے متعارف کروانا چاہیے تاکہ وہ چینی کے نام پر چینی ہی خریدیں۔

 

ہمارے ہاں لیبل بدلے جاتے ہیں، جنس نہیں بدلی جاتی ،  افسوس ہماری ملکی مارکیٹ میں  جس بوری  پر بھی چینی کا لیبل لگایا جاتا ہے اس کے اندر ہوتا آٹا ہی ہے۔

 

یہ انتہائی تلخ حقیقت ہے کہ ہمارے ہاں جمہوریت کے لیبل جتنے زیادہ ہیں عوام میں جمہوری شعور اتنا ہی کم ہے۔بات یہ نہیں کہ جمہوریت غلط ہے یا آمریت ،  بات یہ ہے کہ فرقوں، مسلکوں، مسجدوں، مدرسوں،مولویوں، وڈیروں، قوموں، قبیلوں، صوبوں اور علاقوں میں بٹی ہوئی ہماری عوام کو سیاسی شعور ہی نہیں ہے، اور  جب تک عوام باشعور نہیں ہوتے تب تک  الیکشن اور جمہوریت کے نام پر عوام کا استحصال ہوتا رہے گا۔

 

جمہوریت کے کلمے پڑھنے سے انسان جمہوری نہیں ہوجاتا۔ جمہوریت کو سمجھنے اور اس کی اقدار پر عمل کرنے کا نام جمہوریت ہے۔

 


افکار و نظریات: سیاسی شعور اور جمہوریت دائرہ ۱۳
...
نویسنده : بازدید : 2 تاريخ : پنجشنبه 25 خرداد 1396 ساعت: 12:26