کیا امریکہ ایران سے لڑائی مول لے گا!؟

تعرفه تبلیغات در سایت

امکانات وب

کیا امریکہ ایران سے لڑائی مول لے گا!؟

مجاہد فاروق

امریکہ چھپ کر بہت لڑچکا، سعودی عرب نے امریکہ کے لئے ڈھال کا بہت کام کیا،  طالبان ، داعش ، القاعدہ سب اپناکام دکھا چکے ، اس وقت عرب میڈیا میں نشر ہونے والی خبروں کے مطابق  گزشتہ چھ سالوں میں پہلی مرتبہ ایران کے حمایت یافتہ عسکری  کمانڈوز اور امریکی فوجیوں کے درمیان  صرف پچاس کلومیٹر  کا فاصلہ رہ گیا ہے۔

تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ براہ راست تصادم کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جاسکتا خاص کر کہ ابھی دو روز قبل ہی امریکہ نے اس شامی فائٹر طیارے کو مار گرایا جو رقہ میں داعش کیخلاف آپریشن میں مصروف تھا ، اسی اثنا میں گزشتہ روز  ایران کی جانب سے ساڑھے چھ سو کلومیٹر دور شام کے شہر دیر الزور میں داعش کے ٹھکانوں پر انتہائی جدید قسم کے میزائل داغے گئے ہیں ، یہ میزائل ایران  میں کرمانشاہ سے فائر کئے گئے اور یہ عراق کو عبور کر کے شام میں داعش کے ٹھکانوں پر لگے۔ ایران کا کہنا ہے کہ داعش کے ٹھکانوں پر یہ میزائل حملہ تہران میں دو مقامات پر داعشی دہشتگردانہ حملوں کے براہ راست جواب کا آغاز ہے ۔

ماہرین کے مطابق یہ میزائل حملہ جہاں داعش کو جواب ہے وہاں امریکہ و اسرائیل کے لئے بھی واضح پیغام ہے کہ  ایران بغیر فوج اتارے ، دور تک اپنے ہدف کو کامیابی سے نشانہ بنا سکتا ہے۔

ایسے میں تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اگلے کچھ ہفتوں یا ماہ میں عراق اور شام سے داعش کا صفایا ہوسکتا ہے ، اگر ایسا ہوجاتا ہے تو کیا  پھر امریکہ  اس  خطے سے   باہر نکل جائے گا؟ کیا امریکی قیادت میں لڑنے والی کرد سیرین ڈیموکرٹیک فورسز عظیم کردستان کے خواب کو پورا کر پائے گی ؟

اس وقت  امریکی مدد کے باعث لڑنے والے  کردوں  کی وجہ سے ترکی بھی سخت پریشان ہے؟ دوسری طرف خلیجی ریاستیں جو امریکہ کے سہارے پر ایک دوسرے کی پیٹھ میں خنجر گھونپ رہی ہیں، ان کا کیا بنے گا!؟اگر امریکہ  اس معرکے سے نکل جاتا ہے تو پھر امریکہ خلیجی ریاستوں کا دودھ کیسے دوہے گا!؟

  اب دوسری طرف یہ مسئلہ ہے کہ اگرامریکہ اس کے بعد منطقے میں ٹھہرتا ہے تو اسے ایران کے ساتھ دو دو ہاتھ کرنے ہی پڑیں گے۔ امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ وہ   ریاض میں بیٹھ کر ایران کے خلاف تقریر تو کر سکتا ہے لیکن براہ راست ایران سے جنگ مول نہیں لے سکتا،   چونکہ اب حالات بہت بدل چکے ہیں اور امت مسلمہ سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھ چکی ہے۔

 جس دن امریکہ نے ایران  کے خلاف طبلِ جنگ بجایا اس روز شیعہ اور سنی سارے مسلمان اپنے مشترکہ دشمن کے خلاف ایک ہو جائیں گے اور جس دن مسلمان ایک ہو گئے اس دن ریاض میں خطاب کرنے کے لئے کوئی ٹرمپ نہیں آئے گا۔  اب دیکھنا یہ ہے کہ امریکہ آگے بڑھ کر  جنگ کے شعلوں کو گلے لگاتا ہے یا واپس بھاگ کر اپنے اتحادیوں کو شرمندہ کرتا ہے اور وائٹ ہاوس میں بیٹھ کر زخم چاٹتا ہے۔اگلے  چند ہفتے  انتہائی اہم ہیں۔


افکار و نظریات: کیا امریکہ ایران سے لڑائی مول لے گا
نویسنده : بازدید : 2 تاريخ : سه شنبه 30 خرداد 1396 ساعت: 7:01
برچسب‌ها :