مصر اور پاکستان ۔۔۔ بے عزتی اور بے حسی ساتھ ساتھ | بلاگ

مصر اور پاکستان ۔۔۔ بے عزتی اور بے حسی ساتھ ساتھ

تعرفه تبلیغات در سایت

آخرین مطالب

امکانات وب

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ریاض کانفرنس کے بعد میں بھی بہت سٹپٹایا، یار بے عزتی کرنے کی بھی کوئی حد ہوتی ہے، بہت سوچ بچار کی ، پھر سوچا کہ خالی سوچ بچار سے کچھ نہیں ہونے والا  لہذا کچھ تحقیق کرتے ہیں۔

تحقیق شروع کی تو سعودی حکمرانوں کی سرکاری دستاویزات میں سے ایک لیٹر مل گیا جس سے یہ راز افشا ہوا کہ   پاکستان اور مصر کی کیا اہمیت ہے سعودی عرب کے نزدیک!؟

سعودی عرب اور قطر کی دوستی کا پول تو کھل گیا ہے اب ذرا مصر اور پاکستان کے بارے میں بھی سعودی حکومت کے نظریات جان لیجئے۔

/04/2015  کو سعودي وزير دفاع محمد بن سلمان آل سعود نے  پاکستان کے بارے میں سعودی فرمانروا شاہ سلمان کو یہ خط لکھا ہے۔   سرکاری دستاویز کے طور پر یہ خط آج بھی  عرب ذرائع ابلاغ کی تمام معتبر  اور اہم   سائٹوں پر موجود ہے۔  محقیقین خود اس لیٹر کو عرب سائٹوں پر دیکھ سکتے ہیں۔

اس سے  اندازہ لگالیں کہہمارے جنرل [ر] راحیل شریف صاحب کو اور پاکستان کو عربوں کے نزدیک کتنا عظیم مقام و مرتبہ حاصل ہے۔

👇۔۔۔۔خط کی عبارت۔۔۔👇

“وخذلان باكستان لنا وتفاخرها علينا بشعارات الديمقراطية الزائفة وليعلم المتخاذلون الذين يتفاخرون بأعلى الرتب العسكرية بينما لا يستطيعون حل مشكلة صغيرة في بيتهم الداخلي أنه لولا دعمنا لهم بالمال والإعلام والمعلومات لم يكونوا ليطيحوا بخصومهم فيصلوا للسلطة وهم الذين كانوا يتسولوننا وما زالوا يطالبوننا بأن نتصدق عليهم مما أنعم الله به علينا ثم ينكرون جميلنا فيتشدقون بأن الحل السلمي في اليمن هو أفضل الخيارات ويتناسون أن عاصفة حزمنا في اليمن هي في الحقيقة دفاع عن العروبة وفخر لكل عربى شريف وهي من أجل إقرار السلام وقمع الفئة الباغية. ………………………………..

أننا لن نحتاج لمساعدة الذين لو نطرد مواطنيهم العمال الذين يعملون لدينا في المملكة سيرى الجميع كيف يتوسلون لنا ويعوون كما تعوي الكلاب”[1][2] [3][4]

ترجمه[یہ خط  چونکہ سرکاری دستاویز ہے لہذا ابھی  بھی عربی کی سائٹوں پر موجود ہے][5]

  "پاکستان ہمارے لئے دھوکہ باز ہےاور پاکستانی حکمران  اپنی نام نہاد جمهوريت كے دعويدار بن كر هم پر فخر كرتے هيں۔ ان دھوكه بازوں كو جان لينا جاهئيےكه وه جن اپنے اعلى فوجی عهدوں  پر  ناز كرتے  هيں انكی اصل  حالت تو  يه  هے كه وہ اتنے بے بس ہیں کہ  اپنی چھوٹی سی اندرونی  مشكل بھی تنہا  حل كرنے كی استطاعت نہیں ركھتے   اور اگر  هم  مالی طور پر  , ميڈ يا اور انفارمیشن  كے  ميدانوں  ميں انکی  مدد نه كرتے تو وه كبھی بھی اپنے  مخالفين كو هٹا كر آج حكمران نہ ہوتے   اور کل تک  تو وه هم سے بھيک اور خیرات مانگا  كرتے تھے۔ اور اب بھی ہمارے  مال ودولت ميں  سے  بھيک  اور خيرات مانگ رهے هيں۔

یہ احسان فراموش ہیں،  ہم سے  كہتے  هيں   كه يمن كے مسائل کے حل كا بہترين راسته پر امن راہ  حل تلاش كرنے ميں هے  اور یہ بات بھول جاتے  هيں  كه يمن كے    خلاف یہ  "فيصله كن طوفانی حملہ"  حقيقت ميں "عروبة" يعني عرب ازم كا دفاع ہے .

 ((اور تم عربوں کے نوکر ہو )) اور هر با شرف عربی كي لئے باعث فخر هے  اور یہ حملہ  امن كے  قيام اور باغی  گروه كو     كچلنے  كيلئے  هے .

اے خادم حرمین شریفین!

ہمیں ان نمک حرام لوگوں کی ہر گز ضرورت نہیں كه جنكے ہمارے ملک میں  مزدور ی کرنے والے شہريوں كو اگر هم ملك بدر كر ديں  تو پھر  ديكھيں كه وہ  كس طرح  هماری  منت وسماجت كرتے هيں اور كيسے وہ كتوں  كی  طرح بھونكتے هيں۔

اس خط میں صرف پاکستانیوں  کی عزت افزائی نہیں کی گئی بلکہ مصر کی بھی خوب بے عزتی کی گئی ہے ، دستاویز میں لکھا گیا ہے کہ

ہم تو یہ گمان کر رہے تھے کہ یہ جنرل (عبدالفتاح السیسی ) جس کو مشیر کا رتبہ ہمارے فضل وکرم اور ہماری بھرپور اور فعال حمایت سے ملا ہے. اسے ہمارا احسان یاد ہو گا اور وہ  اسکا شکریہ ادا کرے گا.اور یمن کے معرکے میں عسکری طور پر ہمارے ساتھ تعاون کرے گا. لیکن اس نے ایک بار پھر وعدے کی خلاف ورزی اور خیانت کی ہے. اب  تو اس کو  اس کے فوجی عہدے اور رتبے سے سبکدوش کر دینا چاہئے ، یہ پہلے بھی اس کا حقدار نہیں تھا، حسنی مبارک کا زمانہ اور اسکی عظیم فوج کا زمانہ اس مغرور جنرل کے زمانے سے بہترین زمانہ تھا، اور یہ اپنے ان جھوٹے رتبوں پر فخر کرتا ہے.  سب کو جان لینا چاہئے کہ "عاصفۃ الحزم " (یمن پر جنگ مسلط کرنے) کا مشن اتنا بلند مرتبہ  ہے کہ اس میں عرب ازم کے جھوٹے دعویداروں  اور بزدلوں کی شرکت کی ہرگز ضرورت نہیں ۔

مجھے بہت تعجب ہوا کہ سعودی عرب کو پاکستان اور مصر کے خلاف ہرزہ سرائی کی ہمت کیسے ہوئی۔چونکہ سعودی عرب تو اپنی حفاظت کے لئے بار بار پاکستان کی طرف دیکھتا ہے۔ 

 کچھ مزید چھان بین کی تو  سعودی عرب کی سائٹوں سے وہ ٹیلی گرام بھی میرے ہاتھ لگ گیا جو  کہ  پچھلے سال 29 جمادی الثانی 1437 ھ کا ہے۔ یہ اس وقت کا ہے جب  سعودی فرمانروا مصر کا دورہ کرنے والے تھے تو ان کے دورہ اردن سے 11 دن پہلے18 جمادی الثانی کو

سعودیہ کے مصر میں سفیر احمد عبد العزیز قطان نے ایک ارجنٹ ٹیلی گرام کی صورت میں دیوان سعودیہکے رئیس خالد بن عبدالرحمن العبسی کو لکھا تھا۔

 اس ٹیلی گرام کو پڑھ کر مجھے سمجھ آئی کہ حکمران کیوں اور کب بے حس ہو جاتے ہیں۔

آپ بھی اس ٹیلی گرام کو پڑھئیں تاکہ آپ بھی سمجھ جائیں کہ کرپٹ حکمران کیوں بے عزتی کو پی جاتے ہیں؟ 

اس ٹیلی گرام میں  ان  قیمتی نذرانوں اور تحائف کی تفصیل ہے  جنھیں مصری صدر ،حکومت، پارلیمنٹ ممبران اور  صحافیوں میں سے ہر ایک کو انکے رتبے کے لحاظ سے نوازا گیا ہے۔

ٹیلی گرام کے مطابق  سعودی سفیر لکھتا ہے کہ سلام کے بعد آپکو ان مصری مسوولین کے بارے میں بتا رہا ہوں جو کہ  خادم الحرمین الشریفین کے دورے کی مناسبت سے نذرانوں کے مستحق قرار دیئے گئے ہیں.

 سعودی سفیر نے لکھا ہے کہ ہر ایک کو اسکے عہدے اور منصب کے لحاظ سے نذرانہ دیا جائے گا.

 ہدیے میں دی جانے والی قیمتی کلاکس کی قیمت کی تفصیل مندرجہ ذیل ہے.

1- صدر مملکت   نذرانے کی قیمت 290000 سے 300000 ڈالرز

2- چیئرمین پارلیمنٹ    185000 $ سے 190000 $

3- وزیراعظم      185000 $  سے 190000  $

4- ممبران پارلیمنٹ تعداد 508 مرد حضرات اور ہر ایک کے نذرانے کی قیمت 1300 $ سے 1500 $

5- ممبران پارلیمنٹ تعداد 87 خواتین  3800  $ سے 4500  $

ظاہر ہے جس ملک کے حکمرانوں عوامی نمائندوں اور صحافیوں کے منہ لعل و جواہر سے بھر دئیے جائیں وہ

قومی غیرت پر کیوںکر غصہ کریں گے۔

دوسری طرف جب شاہی خزانے سے لوگوں کے منہ بھرے جاتے ہیں توپھر انہیں منہ کھولنے پر کوڑے بھی مارے جاتے ہیں۔

  جیساکہ دسمبر ۲۰۱۲ کی بات ہے کہ جب  مصر کے ایک وکیل احمد الغزاوی کو اس وقت گرفتار کر  کے کوڑے مارے گئے تھے جب وہ عمرہ کے لیے جدہ پہنچے تھے۔[6]

احمد الغزاوی کو اس بات کا علم نہیں تھا کہ سعودی عرب کی عدالت ان کی غیر حاضری میں انہیں ایک برس قید اور بیس کوڑوں کی سزا سنا چکی ہے۔ ان کا قصور یہ تھا کہ

انہوں نے سعودی حکومت پر تنقید کی تھی۔ [7]

یہ بادشاہوں کا مزاج ہے کہ وہ پیٹ بھرنے کے بعد خوب سواری کرتے ہیں۔

اب ہمارے حکمرانوں کے پیٹ بھی ڈالروں اور ریالوں سے بھرے ہوئے ہیں۔

ایسے میں دکھ اور افسوس کی بات یہ ہے کہ پاکستان آرمی کے سب سے محترم اور اہم منصب کی حامل شخصیت کو سعودی عرب کی نوکری کے لئے بھیج دیا گیا ہے!!!

یہ کسی بھی لحاظ سے پارٹی بازی کی بات نہیں ہے بلکہ حقائق سب کے سامنے ہیں کہ موجودہ حالات میں ان حکمرانوں نے اپنی تجوریاں بھرنے کے لئے جس طرح ملکی سلامتی اور وقار کو داو پر لگایا ہوا ہے اور ان کے جیسے ہندوستان اور سعودی عرب کے ساتھ تعلقات ہیں ،آگے چل کر ان سے کچھ بھی بعید نہیں۔

 بحیثیت پاکستانیاگرہمیں اپنی قومی عزت و وقار اور ملک  کو بچانا ہے تو ان حکمرانوں اور  کرپٹ سیاستدانوں سے نجات بہت ضروری ہے۔


[1]https://www.google.com/url?sa=t&rct=j&q=&esrc=s&source=web&cd=1&cad=rja&uact=8&ved=0ahUKEwjT0JSj78fUAhWBC5oKHeZBCUMQFgglMAA&url=https%3A%2F%2Far-ar.facebook.com%2FElbadil%2Fposts%2F948076351903343%3A0&usg=AFQjCNFxW6T8NrrnBCHRbY-Ifq4QHLRkAQ&sig2=X3gB5IpLJmFFYsyOyMOQrw

[2] https://www.thequint.com/news/2017/06/13/fake-news-saudi-arabia-calls-pakistan-slave-country

[3] https://www.linkedin.com/pulse/letter-from-saudi-defence-minister-pakistanis-mehr-liaqat-gunpal?articleId=6278966044459655168

[4] http://www.alhadathnews.net/archives/155556

[5] http://www.sahafah24.net/show157829.html

[6] http://www.bbc.com/urdu/mobile/world/2012/04/120424_saudi_egypt_lawer_sz.shtml


افکار و نظریات: مصر اور پاکستان ۔۔۔ بے عزتی اور بے حسی ساتھ ساتھ...
نویسنده : بازدید : 1 تاريخ : سه شنبه 30 خرداد 1396 ساعت: 7:01