تاجدار ولایت کی شہادت | بلاگ

تاجدار ولایت کی شہادت

تعرفه تبلیغات در سایت

آخرین مطالب

امکانات وب

تاجدار ولایت کی شہادت            

تحریر: نذر حافی

nazarhaffi@gmail.com

 

یہ ایاّم تاجدارِ ولایت اور خلیفہ راشد حضرت امام علی ؑ کی شہادت کے ایام ہیں، پورا عالم اسلام سوگوار اور اداس ہے، لیکن فقط سوگواری اور اداسی، اس زخم کا مرہم نہیں ہے۔ اگر ہمیں مقتول سے محبت ہے اور ہم شہید کے ساتھ اپنی محبت کے تقاضے کو پورا کرنا چاہتے ہیں تو  فقط اشک بہانے یا قاتل کو برا بھلا کہنے سے اس محبت کا حق ادا نہیں ہو جائے گا۔ محبت کے دعویداروں کو یہ دیکھنا  پڑے گا کہ قاتل اور مقتول کے درمیان اختلاف کیا تھا؟ یہ ٹھیک ہے کہ انیس رمضان المبارک کو قاتل نے امام مبین کے سر اقدس پر ضرب لگائی اور اکیس رمضان المبارک کو  آپ شہید ہوگئے، لیکن اب محبت کے دعوے داروں نے یہ فیصلہ کرنا ہے کہ  کیا آپ کے کفن دفن کے ساتھ آپ ؑ کی سیرت اور مشن کو بھی دفن کر دیا جائے یا اسے دنیا میں باقی رکھا جائے۔ حقیقی محبت کا تقاضا یہ ہے کہ قاتل سے نفرت کے ساتھ ساتھ، امام علیؑ کے مشن اور سیرت کو بھی زندہ رکھا جائے۔ اگر ہم نے فقط قاتل کو برا بھلا کہا اور امام کے مشن اور سیرت کو نہیں بچایا تو ہم بھی قاتل کے مددگاروں میں سے ہیں۔ چونکہ قاتل نے امام مبینؑ کو اُن کے مشن اور سیرت کی وجہ سے قتل کیا ہے۔

اگر ہم نے چودہ سو سال کے بعد آج بھی امامؑ کی سیرت کا احیا کر لیا تو گویا ہم نے ابن ملجم کو شکست دیدی، لیکن اگر فقط ہماری زبان پر تو علیؓ علیؓ رہا اور ہم زبانوں سے تو قاتل کو برا بھلا کہتے رہے، لیکن اپنے اعمال کو سیرت علی ابن ابی طالب ؑ کے مطابق انجام نہ دیا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہماری محبت فقط چند آنسووں اور نعروں تک محدود ہے۔ امیرالمومنین حضرت علی ابن ابیطالبؑ کی شہادت کا واقعہ ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ وہ محبت جو صرف زبانوں تک محدود ہو اور سیرت و عمل کی پابند نہ ہو، اسی سے  خوارج اور ابن ملجم جنم لیتے ہیں۔

حضرت امام علی ؑ کے فضائل و مناقب سے عالم اسلام کی لائبریریاں اور علمائے اسلام کے سینے پر ہیں ۔ مباہلہ کے میدان میں حضرت امام علی ؑ نفس رسولؐ قرار پائے اور آپ کی فضیلت کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جتنی احادیث صادر ہوئی ہیں ، اتنی کسی اور کے بارے میں نہیں ہوئیں۔ اسی لئے  خلیفہ اوّل نے آپ کے فضائل کے بارے میں کہا ہے کہ جو بھی چاہتا ہو کہ وہ ایک ایسے انسان کی زیارت کرے جسکی رسول خدا(ص) کے نزدیک عظیم منزلت تھی اور جسکی قرابت بھی آپ (ص) سے سب سے زیادہ تھی اور آپ (ص) کی ضروریات کو پورا کرنے میں جو شخص سب سے زیادہ  پیش پیش رہا ہے اور جو شخص اپنے آپ کو دوسروں سے بے نیاز رکھتا ہو اسے چاہیئے کہ وہ اس مرد یعنی علیؑ کو دیکھے ۔[1]

اسی طرح خلیفہ دوم کا بھی ایک قول بطور نمونہ نقل کرتے ہیں جس میں خلیفہ ثانی نے  حضرت امام علیؑ کے بارے میں کہا ہے کہ  علی علیہ السلام  میرے مولا ہیں،  کیونکہ پیغمبر اکرم (ص)  نے  ہر طرح کے شرف کو ولایت علی  علیہ السلام میں ہی قرار دیا ہے اسی لئے آپ (ص) فرمایا کرتے تھے: شریف اور با شخصیت افراد کے ساتھ دوستی اور محبت سے پیش آؤ اور اپنی عزت و آبرو کی حفاظت کے سلسلے میں پست اور بے شخصیت افراد سے ڈرتے رہو اور آگاہ رہو اور جان لو کہ کوئی بھی بلندی اور شرف اپنے کمال تک نہیں پہنچ سکتی جب تک کہ علی علیہ السلام کی ولایت نہ ہو۔[2]

اب دیکھنا یہ ہے کہ ابن ملجم کون تھا اور اس نے اتنی عظیم ہستی کو کیوں شہید کیا!؟ تاریخ کی کتابوں سے پتہ چلتا ہے کہ عبدالرحمن بن ملجم مرادی یمن کا رہنے والا تھا۔ جب خلیفہ سوم کو قتل کر دیا گیا اور حضرت علی ؑ مسند خلافت پر بیٹھے تو آپ نے یمن کے سابق حاکم کو اپنی جگہ برقرار رکھا اور انہیں خط لکھا کہ اپنے علاقے کے دس ایسے افراد کو میری طرف بھیجو جو  فصیح ترین، عقلمند ترین، دانا اور فہیم ہوں تو ان دس آدمیوں میں سے ایک یہی ابن ملجم مرادی تھا۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ ابن ملجم کوئی عام سا، سادہ لوح بندہ نہیں تھا کہ جسے دھوکے کے ساتھ قتل پر آمادہ کیا گیا ہے بلکہ اس کا شمار اپنے زمانے کے سمجھدار لوگوں میں ہوتا تھا۔

بعد ازاں ابن ملجم کوفہ میں ساکن ہوا۔ یہ  جنگ جمل اور صفین حضرت علی ؑ کے لشکر میں تھا، بعد ازاں خوارج کا ہم فکر ہوگیا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اس ابن ملجم کو ایسا کیا ہوا کہ یہ خلیفہ راشد اور امام وقت کا جانی دشمن بن گیا!؟

تاریخی دستاویزات کے مطابق  ابن ملجم کو امام کی پیروی سے نکال کر امام کی دشمنی پر آمادہ کرنے والے دو خارجی تھے۔ ایک کا نام برک ابن عبد اللہ اور دوسرے کا نام عمرو بن بکر تمیمی ہے۔ یہ خارجی وہ لوگ تھے، جو صرف قرآن پر عمل کرنے کا دعویٰ کرتے تھے اور یہ جنگ صفین میں حضرت امام علی ؑ سے جدا ہوگئے تھے۔ یہ لوگ اپنے آپ کو اتنا سمجھدار سمجھتے تھے کہ قرآن سے اپنے مسائل خود حل کرنے کے درپے تھے اور امام علیؑ کی اطاعت کے بجائے صرف اللہ اور قرآن کی اطاعت کا نعرہ لگاتے تھے۔ یہ لوگ اول درجے کے عبادت گزار اور قاری قرآن تھے، لیکن قومی، سیاسی اور اجتماعی مسائل کو نہیں سمجھتے تھے۔ چنانچہ مکے میں ابن ملجم کو انہوں نے اس بات پر قائل کیا کہ کیا تم دیکھ نہیں رہے کہ نعوذ باللہ حضرت امام علیؑ، قرآن پر عمل نہیں کر رہے اور حکم خدا پر عمل نہیں ہو رہا۔ ابن ملجم ان کی دلیلوں سے قائل ہوگیا اور اس نے ان سے وعدہ کیا کہ عالم اسلام کے سیاسی مسائل کے حل کے لئے وہ امیرالمومنین ؑ کو شہید کرے گا۔

اس کے بعد جب ابن ملجم کوفے میں پہنچا تو کوفے میں ابن ملجم کو قطام نامی عورت نے بلایا، قطام کا باپ اور دو بھائی خارجیوں میں سے تھے اور مولاؑ کے ساتھ جنگ میں مارے گئے تھے۔ اس نے بھی ابن ملجم کو امیرالمومنینؑ کو شہید کرنے کے صلے میں شادی کا لالچ دیا۔ یوں ابن ملجم جیسا سمجھدار شخص بھی قومی، ملی، اجتماعی اور سیاسی سوجھ بوجھ نہ ہونے کی وجہ سے خوارج کے ہمراہ ہوگیا اور خلیفۃ اللہ اور خلیفۃ الرسولﷺ کے قتل کا مرتکب ہوا۔ اس سے پتہ یہ چلتا ہے کہ اسلام فقط عبادات اور تلاوت قرآن تک محدود نہیں ہے بلکہ ایک مسلمان کے لئے مقامی، ملی، اجتماعی، بین الاقوامی اور سیاسی شعور بھی ضروری ہے۔ ورنہ جس آدمی کو اسلام کا حقیقی شعور نہ ہو تو خوارج کی طرح کوئی بھی اپنی مرضی کی چند آیات سنا کر اور چند احادیث کو جوڑ توڑ کر، اس کے دین سے کھیل سکتا ہے، اس کی نماز و روزے کو بدل سکتا ہے، اسے خودکش بمبار بننے پر تیار کرسکتا ہے اور اسلام کی محبت کے نام پر بے گناہ انسانوں کو قتل کروا سکتا ہے۔ آج بھی یہ جتنے بھی بے گناہ انسانوں کے قاتل، ہمارے ارد گرد موجود ہیں، ان سب کو اسلام کے نام پر ہی تیار کیا گیا ہے۔

یہ آج جو دنیا میں قرآن و حدیث کا نام لے کر، لوگوں کو گمراہ کیا جا رہا ہے اور بے گناہ انسانوں کا قتل عام ہو رہا ہے، یہ خوارج اور ابن ملجم کا طرز عمل ہے۔ اگر ہم اپنے زمانے کے خوارج اور ابن ملجم کو روکنا چاہتے ہیں، اگر ہم امیرالمومنینؑ حضرت علی ابن بیطالب ؑ کی طرح دین کی حفاظت کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں معاشرے میں سنی سنائی باتوں کے بجائے، دین کی حفاظت کے لئے دین کے فہمِ عمیق اور حقیقی دینی تعلیمات کی حاکمیت کے لئے جدوجہد کرنی ہوگی۔ ہماری زبانوں پر نام علیؑ کے ساتھ ہمارے کاموں میں بھی سیرت علیؑ کی جھلک ہونی چاہیے۔ ورنہ  یاد رکھئے! وہ محبت جو صرف زبانوں تک محدود ہو اور سیرت و عمل کی پابند نہ ہو، اسی سے گمراہیاں پھیلتی ہیں اور خوارج اور ابن ملجم جنم لیتے ہیں۔



[1]  کنزالعمال، ج 13، ص 115

[2]  المناقب الخوارزمی، ص 97


افکار و نظریات: تاجدار ولایت کی شہادت
...
نویسنده : بازدید : 3 تاريخ : سه شنبه 30 خرداد 1396 ساعت: 7:01