نواز شریف اور خوشحال پاکستان

تعرفه تبلیغات در سایت

امکانات وب

نواز شریف اور خوشحال پاکستان

تحریر:  ڈاکٹر سید شفقت حسین شیرازی

نوازشریف سے ہماری ہمدردیاں اپنی جگہ بجاہیں لیکن بطور وزیراعظم میاں نواز شریف سے متعلق  حقا ئق ایک قومی امانت ہیں جنہیں منظر عام پر آنا چاہیے۔

1- انڈیا کی  طرف سے الیکشن میں نواز شریف  کی مدد کرنے اور انہیں اقتدار میں لانے کا اقرار کئی انڈین عہدیدار متعدد موقعوں پر کر چکے ہیں.  یہی وجہ ہے کہ میاں صاحب نے  تمام شعبوں میں ہندوستان کی بالا دستی کو قبول کیا اوران کی ملوں اور فیکٹریوں میں آنے والے اور بعض بغیر ویزہ کے داخل ہونے والے را کے کارندے، انجینئرز کے لباس میں  دسیوں انڈین جاسوس ، انڈیا میں کی جانے والی سرمایہ گزاری کہ جس کی رپورٹس بھی شایع ہو چکی ہیں، اس کا بین ثبوت ہیں۔

نوٹ:۔ پاکستان میں انڈیا کی بالا دستی کے لئے کام کرنا مالی کرپشن سے بھی بڑا اور سنگین جرم ہے

دوسری طرف  پاکستان وہ ملک ہے جو 1967 اور 1973 کی عرب اسرائیل وار میں اپنی فضائیہ کے ساتھ شریک ہو چکا ہے اور اسرائیل کے طیارے گرانے اور ان کی پیش قدمی کو روکنے پر شام حکومت سے ہمارے پائلٹ تمغے حاصل کر چکے ہیں  اور فلسطینی اور دیگر عرب پاکستانی فضائیہ کی جرات کا  برملا اظہار کر چکے ہیں اور ببانگِ دہل یہ کہتے ہیں  کہ اسرائیل ہمیں تنہا نہ سمجھے ہمارا برادر اسلامی ملک پاکستان ہمارے ساتھ ہے. اس وقت ہندوستان کے ساتھ پاکستان کے غیر معقول اور نامعقول تعلقات اسرائیل کے حوصلے بلند کرنے کا سبب تھا۔ لیکن اس کے باوجود میاں صاحب نے اپنے ہندوستان کے ساتھ تعلقات پر نظر ثانی کی زحمت گوارا نہیں کی۔

ایسے میں کیا ہمیں اپنے  دشمنوں سے غافل رھنا چاہئے ؟ اور یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ  اب پاکستان میں  میں آنے والی  حکومتی تبدیلی کے تناظر میں  ہندوستانی اور اسرائیلی  جب  پاکستان سے انتقام لیں گے تو ہماری حکمت عملی کیا ہونی چاہیے ؟

کیا ہمیں یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ  نواز شریف جیسے انڈین کٹھ پتلی حکمران کے چلے جانے کے بعد ہندوستان ہمارے ساتھ کیا کچھ کرے گا؟.

2- نواز شریف کی ہندوستان نواز پالیسیوں کو صرف پاکستان آرمی سے خطرہ تھا چنانچہ ان کے دور حکومت  میں فوج کے لئے  میٹھی میٹھی دھمکیاں بھی ن لیگیوں کی  طرف سےآتی رہیں اور اسی کے ضمن میں وکی لیکس کی کہانی بھی ہے۔

جن حضرات کو اب تک اندرونی معاملات کا علم نہیں وہ تحقیق کر کے دیکھ لیں کہ  فیڈرل گورنمنٹ کے تابع ایجنسیوں کو آرمی ایجنسیوں کے مد مقابل کھڑا کرنے اور پاکستانی اداروں کے مابین کھلی جنگ کا ماحول  مسٹرنواز شریف نے بنایا. جس سے انڈیا اور دیگر پاکستان دشمن ممالک   کے کئی مقاصد پورے ہوئے اور اس کے ساتھ ساتھ  میاں صاحب نے بھی اپنے سیاسی مخالفین کو شکنجوں میں جکڑا اور سیاسی انتقام لیا.

میاں صاحب نے ملٹری فورسسز کی گرفت کمزور کرتے ہوئے جدید فورسسز کو سامنے لایا تاکہ اگر کل کو  ملٹری فورسسز سے ٹکر لینا پڑے تو ٹکر لی جا سکے۔

3- آرمی کا کمزور ہونا نام نہاد خلافت وشریعت کے نفاذ کرنے کے خواب دیکھنے والے متشدد مذہبی جنونیوں کو بھی سوٹ کرتا ہے. یہاں پر نواز شریف اور یہ سب تکفیری اور متشدد ایک ہی پیج پر آ جاتے ہیں.  اور ملک میں نا امنی اور افراتفری پھیلانے سے آرمی کے مد مقابل جو عوام نکالنے کی نواز شریف دھمکی دیتے رھتے ہیں شاید وہ یہ تکفیری مسلح گروہ ہیں جو کسی بھی وقت اقتدار پر قابض ہونے اور خلافت وشریعت کی قیام کے لئے پورے ملک میں خانہ جنگی کی صورتحال بنا سکتے ہیں.

انکے بیانات اور خطابات میں آنے والے اھداف سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے. اور نواز شریف کی ریلی کے ساتھ ہی بڑھتی ہوئی ٹارگٹ کلنگ کی لہر خصوصا ڈیرہ اسماعیل خان میں اور یکے بعد دیگرے کوئٹہ میں ہونے والے دھماکے اس طرف نشاندھی کر رہے ہیں.

4- نواز شریف کی تین دھائیوں سے جاری کرپشن اور ملک کو قرضوں میں ڈبونا اور ملک کی ہر چیز سستے داموں کو بیچنا اور گروی رکھوانا اور اسکی فیملی اور قریبی لوگوں کا اقتدار سے ناجائز استفادہ کرتے ہوئے قومی خزانے کو لوٹنا اور جن تمام کیسسز پر اس کو عدالت عظمیٰ نے ناہل اور مجرم قرار دیا ہے یہ سب  قرینے بتاتے ہیں کہ وہ آرمی ، عدلیہ اوردیگر قومی ادارے کمزور کرکے جمہوریت کو بادشاہت اور سول ڈکٹیٹرشپ میں تبدیل کر رہا تھا اور اسکے پاس ایک مضبوط سیاسی مافیا ہے جو رانا ثناءاللہ ، شہباز شریف ، سعد رفیق ، حمزہ شہباز ، اسحاق ڈار اور احسن اقبال جیسے لوگوں کی شکل میں ہے. کچھ اندرونی اور کچھ بیرونی امور اور سب پاکستان عوام کو بے خبر اور لاعلم رکھنے کی سیاست پر عمل پیرا ہیں.

5- ہمیں ایسا بھی قطعا نظر نہیں آ رھا کہ آرمی تکفیری مائنڈ سیٹ سے پاک ہو چکی ہے اور اس میں کالی بھیڑیں نہیں ہیں.  بلکہ خوف اس بات کا بھی ہے کہ خلافتی اور شریعتی پروپیگنڈہ زدہ لوگ بھی آرمی کی صفوں میں ہیں جو کسی ممکنہ مشکل وقت میں اپنے ہی  ادارے کو دھوکہ دے سکتے ہیں. اور بغاوت کر سکتے ہیں. کیونکہ جنکی تعیناتی ، تربیت اور پرورش ایک خاص ماحول میں ہوئی ہے اور وہ خاص مائنڈ سیٹ سے متاثر ہیں ، وہ ان بہت سی آنیوالی تبدیلیوں کو صحیح درک نہیں کر سکتے.

لیکن ہمیں یہ بھی امید ہے کہ ہماری آرمی کے اندر محب وطن ، قومی غیرت و دفاع ، بہادر اور جذبہ شہادت سے سرشار جوانوں اور آفیسرز اور جنرلوں کی بھی کمی نہیں. جو اندرونی وبیرونی پریشر اور خطرات کا مقابلہ کر رہے ہیں. اور ملک کی حفاظت کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں.

دیکھنا یہ ہے کہ ایسے میں اب ہمارا موقف کیا ہونا چاہیئے ؟

اس وقت ایک  اصولی موقف کا تقاضا  یہ ہے کہ ہم آزمائے ہوئے کرپٹ شخص کی حمایت کے بجائے اپنے ملک کو بحرانوں سے نکالنے کی فکر کریں اور اس کا واحد راستہ پاکستان آرمی کی مضبوطی ہے۔ مضبوط آرمی ہی مضبوط پاکستان کی ضامن ہے لہذا  آرمی کو بدنام کرنے والا اور کمزور کرنے والا سیاستدان ہو یا جنرل یا کوئی اور وہ ملک کا دوست اور خیر خواہ نہیں . بلکہ وہ  انڈین  اور اسرائیلی ایجنڈے پر کام کر رہا ہے۔

ہمیں سمجھنا چاہیے کہ  قوم کو اس وقت انتشار اور فتنوں سے بچانے کی ضرورت ہے.  سب ادارے اس ملک کے ادارے ہیں انکی کمزوری ملک کو کمزور کرتی ہے. ان کے ما بین فتنہ فقط دشمن وطن ہی کھڑا کر سکتا ہے.

ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ آئین اگر کسی کے اقتدار کی راہ میں رکاوٹ بنے یا خاتمے کا سبب بنے تو آئین کے خلاف اعلان جنگ کرنا  اور اسے ذاتی مفادات کے لئے تبدیل کرنے کی سوچ ڈکٹیٹر شپ کی تو ہو سکتی ہے جمہوریت کی نہیں. 

قانون کی بالا دستی کو قبول کرنا سب کی زمہ داری ہے اور  حکمران پارٹی اسے قبول کرنے کی سب سے زیادہ زمہ دار ہے. عدلیہ کے فیصلے اگر نہ ماننے اور سڑکوں پر  عدلیہ کے فیصلوں کے خلاف مہم چلانے کی سیاست غالب آ گئی تو پھر بچا کھچا  پاکستان بھی تباہ ہو جائے  گا اورپھر  ہر گروہ اپنی اپنی سڑک پر نکلے گا اور عدالتی فیصلوں کو لتاڑے گا.

المختصر یہ کہ نوازشریف کے نظریات اور باقیات سے چھٹکارا حاصل کئے بغیر پاکستان ، مضبوط اور خوشحال نہیں ہو سکتا۔


افکار و نظریات: نواز شریف اور خوشحال پاکستان
نویسنده : بازدید : 0 تاريخ : شنبه 28 مرداد 1396 ساعت: 17:38
برچسب‌ها : نواز,شریف,اور,خوشحال,پاکستان,