این جی اوز کے گھپلے اور آزاد کشمیر حکومت کا کردار | بلاگ

این جی اوز کے گھپلے اور آزاد کشمیر حکومت کا کردار

تعرفه تبلیغات در سایت

آخرین مطالب

امکانات وب

این جی اوز کے گھپلے اور آزاد کشمیر  حکومت کا کردار

دانش ارشاد

 آزاد کشمیر میں 275 این جی اوز رجسٹرڈ ، 141 فعال جبکہ 134 غیر فعال ہیں۔رجسٹرڈ این جی اوز کو آزاد حکومت اور آزاد کشمیر کونسل کی جانب سے کسی قسم کی فنڈنگ نہیں کی جاتی اور حکومت آزاد کشمیر کی جانب سے ان کے فنڈنگ سورس کی بھی جانچ کی جاتی ہے نہ ہی چیک اینڈ بیلنس کا کوئی نظام موجود ہے۔ اس سے قبل مختلف انین جی اوز کو پاکستان کا واحد ادارہ ٹرسٹ فار والنٹئیرز آرگنائزیشن(TVO ) فنڈنگ کرتا تھا تاہم گزشتہ چار سال سے ٹی وی او کا بورڈ غیر فعال ہونے کے باعث فنڈنگ نہیں کر رہاہے۔

آزاد کشمیر میں رجسٹرڈ این جی اوز کے مالکان کا کاروبار صرف یہی ہے لیکن چند ایک کے سوا کسی این جی او کا بھی کام نظر نہیں آ رہا ہے ۔حکومت کے سوشل ویلفئیر ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے این جی اوز سے رابطہ کا ایک شعبہ بنایا گیا ہے لیکن اس کے پاس بھی این جی اوزکو اندرون یا بیرون ملک سے کی جانے والی فنڈنگ کا ریکارڈ موجود نہیں ہے۔

کشمیر کونسل کے مطابق اب تک آزاد کشمیر میں 363 این جی اوز رجسٹرڈ ہوئیں جن میں سے 88 کی رجسٹریشن منسوخ کر دی گئی ہے ۔ سب سے زیادہ این جی اوز مظفر آباد میں رجسٹرڈ ہوئیں جن کی تعداد 95 تھی ۔ ان میں سے 42 کی رجسٹریشن منسوخ کر دی گئی۔ ابھی موجود 53 میں سے صرف 21 فعال ہیں جبکہ 32 غیر فعال ہیں۔

اسی طرح پونچھ میں 82 این جی اوز کو رجسٹریشن دی گئی جن میں سے 7 کی رجسٹریشن منسوخ کر دی گئی تھی۔ موجودہ 75 این جی اوز میں سے 35 فعال جبکہ 40 غیر فعال ہیں۔

میرپور میں اس وقت موجود این جی اوز کی تعداد 41 ہے جن میں سے 31 فعال اور 10 غیر فعال ہیں ۔

کوٹلی میں موجود 20 این جی اوز میں سے 12فعال ہیں۔

باغ میں موجود 31 این جی اوز میں سے 14 فعال ہیں۔

بھمبر میں موجود 13 میں سے این جی اوز فعال ہیں۔

ہٹیاں میں 7 میں سے تین این جی اوز فعال ہیں۔

حویلی میں چھ میں سے چار این جی اوز فعال ہیں۔

نیلم میں سات میں سے تین ان جی اوز فعال ہیں جبکہ سدھنوتی میں موجود 22 این جی اوز میں سے صرف دس فعال ہیں۔

ان این جی اوز کو سرکاری سطح پر پاکستان کا ایک ادارہ ٹرسٹ فار والنٹئیرز آرگنائزیشن (TVO)فنڈنگ کیا کرتا ہے۔اس ادارے کے بورڈ ممبرز میں وفاقی سیکرٹری فنانس ، سیکرٹری اکنامک افئیرز اور چاروں صوبوں سمیت آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے نمائندے شامل ہوتے ہیں تاہم جب سے وفاق میں مسلم لیگ ن کی حکومت آئی ہے تب سے (TVO ) کا بورڈ غیر فعال ہے اور کسی این جی او کو سرکاری سطح پر کوئی فنڈنگ نہیں ہو رہی۔

کچھ این جی اوز مالکان کا کہنا ہے کہ وہ اپنی مدد آپ کے تحت کام کرتے ہیں انہیں حکومت یا کونسل کی طرف سے کوئی فنڈنگ نہیں کی جاتی جس کی تصدیق آزاد کشمیر کے سیکرٹری سوشل ویلفئیر بشیر مغل اور کشمیر کونسل کے این جی اوز سے متعلقہ ڈیپارٹمنٹ نے بھی کی۔ ان کا کہنا تھا کہ فنڈز کی کمی کے باعث این جی اوز کو فنڈنگ نہیں کی جاتی۔

آزاد کشمیر میں این جی اوز کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وزیر سماجی بہبودنورین عارف کا کہنا تھا کہ ”جو پیسے دیتے ہیں وہ چیک کرتے ہونگے ،ہم دیتے ہیں نہ چیک کرتے ہیں”۔ان کا کہنا تھا کہ آزاد حکومت این جی اوز کو فنڈنگ نہیں کرتی اس لئے ان سے پوچھ گچھ بھی نہیں کر سکتی۔ ہمیں یہ معلوم نہیں کہ ان کے فنڈنگ سورس کیا ہیں، جو ان کو پیسے دیتے ہیں وہی ان سے اس کا حساب لینے کا حق رکھتے ہیں آزاد حکومت این جی اوز کو پیسے دیتی ہے نہ پوچھنے کا حق رکھتی ہے۔جبکہ کشمیر کونسل کے شعبہ این جی اوز نے بتایا کہ کشمیر کونسل ابتدائی دور میں این جی اوز کو فنڈز دیتی تھی گزشتہ آٹھ دس سال سے کونسل کی جانب سے این جی اوز کو فنڈز نہیں دئے جاتے۔

بشکریہ: http://ibcurdu.com/news/52603


افکار و نظریات: این جی اوز کے گھپلے اور آزاد کشمیر حکومت کا کردارگھپلے,آزاد,کشمیر,حکومت,کردار,...
نویسنده : بازدید : 3 تاريخ : پنجشنبه 30 شهريور 1396 ساعت: 6:53