برما اور ہماری زنگ آلود غیرت | بلاگ

برما اور ہماری زنگ آلود غیرت

تعرفه تبلیغات در سایت

آخرین مطالب

امکانات وب

 

📝 ساجد مطہری

برما میں مسلمانوں کے اوپر ڈھائے گئے  مظالم کی تصاویر اور ویڈیوز ہر شعور اور وجدان رکھنے والے شخص کو خون کے آنسو رونے پر مجبور کر دیتی ہیں، چاہے اس کا تعلق کسی بھی مذہب و مسلک سے ہو۔

 گذشتہ ایک عرصے سے یہاں ایسے مظالم ڈھائے گئے جنکی نظیر تاریخ میں کہیں نہیں ملتی، ایسے مظالم تو  حجاج، ہلاکو خان اور ہٹلر جیسے تاریخ کے سفاک ترین اور خونخوار ترین ظالموں نے بھی نہیں کئے، ان خونخوار بدھ بھکشوں نے تو طالبان، القاعدہ اور داعش جیسے وحشی درندوں کے مظالم کو بھی مات دے دی ہے۔

👈اگر جعرافیائی اعتبار سے میانمار (برما) کا جائزہ لیا جائے تو میانمار کے مشرق میں چائنہ، شمال میں لاؤس اور تھائی لینڈ اور جنوب میں بنگلہ دیش واقع ہیں جبکہ مغرب میں اس کی سرحدیں بحرہ ہند سے ٹکراتی ہیں، یہاں کی کل آبادی ۷ کروڑ ہے،جن میں ۳۰ لاکھ مسلمان ہیں، اسلام کی کرنیں یہاں پہلی صدی ہجری میں عرب ایرانی تاجروں کے واسطے سے پہنچیں، یہاں اکثریت بدھ مت کے پیروکاروں کی ہے تاہم ۴ فیصد آبادی یہاں روہنگیا  ''Rohingya"قوم تشکیل دیتی ہے جو زیادہ تر صوبہ راخین میں آباد ہیں۔

👈میانمار کے اندرونی حالات چار سال قبل مئی ۲۰۱۲ء میں اس وقت  خراب ہوئے جب ایک بدھ مت خاتون سے تین مسلمان اوباشوں کی اجتماعی زیادتی کے بعد قتل کرنے کی خبر جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی اور ’’ماگ‘‘ نامی شدت پسند بدھ متوں نے مسلمان نشین بستیوں پر حملہ کرکے بیس کے قریب بستیوں کو نذرآتش کر دیا اور سینکڑوں افراد کو بے دردی سے قتل کر ڈالا۔

اس کے بعد میانمار کے صدر ’’thein sein‘‘ نے یہاں ایمرجنسی نافذ کی۔ اس وقت سے یہاں کے حالات مسلسل خراب اور کشیدہ ہیں،  مسلمانوں کو مسلسل گاجر مولی کی طرح کاٹا جا رہا ہے، خواتین کی عصمت دری ہو رہی ہے، چھوٹے بچوں کو ذبح کیا جا رہا ہے، ان مظالم سے تنگ آکر یہاں کے مسلمان پڑوسی ممالک کا رخ کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں، اب تک ڈیڑھ لاکھ افراد نے بنگلہ دیش، پچاس ہزار نے تایلنڈ اور چالیس ھزار نے ملائیشیا میں پناہ لی ہے اور ابھی بھی لاکھوں افراد بنگلہ دیش بارڈر پر کسمپرسی کے عالم میں بنگلہ دیشی حکام کے رحم و کرم کے منتظر ہیں جو نہ راہِ پیش دارند و نہ راہ پس۔

👈بہرحال اتنے مظالم کے باوجود امت مسلمہ پر بزدلانہ خاموشی چھائی ہوئی ہے، مسلمان حکمران عملی امداد تو درکنار مذمتی بیان سے بھی کتراتے ہیں، سعودی عرب کی سربراہی میں بنی ۴۱ ممالک کی مسلمان فورس بھی کوئی ایکشن نہیں لے رہی، خادم حرمین شریفین اور دیگر عرب حکام  اب بھی چپ سادھے ہوئے ہیں ، جبکہ پاکستانی حکمران غلامی کی زنجیروں میں جھکڑے خواب خرگوش میں مست ہیں، حیرت کی بات یہ ہے کہ جب میانمار جیسے ایک چھوٹے سے پسماندہ ملک کے مقابلے میں مسلمانوں کی حالت یہ ہے تو پھر امریکا اور اسرائیل جیسے پاورفل ایٹمی ممالک کے مقابلے میں تو  ان کے سر اٹھانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

👈اس وقت میانمار کی خواتین بچے بوڑھے مسلمانوں کو مدد کے لئے پکار رہے ہیں لیکن زندہ لاشوں سے مددکی امید کرنا ہی عبث ہے اورکسی نے کیا خوب کہا ہے ’’جب غیرت کو زنگ لگ جائے تو پھر تلواریں جنگ کے بجائے رقص کے لیے ہی استعمال ہوتی ہیں‘‘

اس وقت مسلمان  اذانوں ، نمازوں ،فریضہ حج کی ادائیگی اور دیگر عبادات میں مشغول ہیں اور انہیں میانمار، یمن اور دیگر ممالک میں مسلمانوں کی حالتِ زار دکھائی نہیں دے رہی۔ 👈

سچ پو چھئے تو برما کے مسلمان اسی روز بے حسی کی آگ میں جل گئے تھے جس روز ٹرمپ نے آکر ریاض کانفرنس سے خطاب کیا تھا۔

کہاں ہے وہ غیرت مسلم جس کی تاریخ مثالیں دیتی ہے اور کہاں ہے وہ مسلمان نیٹو جس کا مقصد ہی مسلمانوں کی حفاظت کرنا اور  دہشت گردوں سے لڑنا تھا!؟؟؟

کیا برما کے مسلمانوں سے زیادہ کوئی اور بھی مظلوم ہے اور کیا بدھ بکشوں سے زیادہ کوئی اور بھی دہشت گرد ہے!؟

بقول حبیب جالب ؎

مخلوق خدا جب کسی مشکل میں ہو پھنسی

سجدے میں پڑے رہنا عبادت نہیں ہوتی

ہر شخص سر پہ کفن باندھ کے نکلے

حق کے لیے لڑنا تو بغاوت نہیں ہوتی


افکار و نظریات: برما اور ہماری زنگ آلود غیرتہماری,آلود,...
نویسنده : بازدید : 3 تاريخ : پنجشنبه 30 شهريور 1396 ساعت: 6:53