قطر دوسرا شام بننے جا رہا ہے

تعرفه تبلیغات در سایت

امکانات وب

 

ساجد عبداللہ

قطر اخوان المسلمین کا حامی ہے  جبکہ سعودی عرب اور عرب  امارات، اخوان المسلمین کے  شدید مخالف ہیں۔ اخوان المسلمین کی حمایت کی وجہ سے قطر کو بھی دہشت گردوں کا حامی کہا جاتا ہے۔

یہ بھی قابل ذکر ہے کہ قطر اور سعودی عرب کے درمیان  سرحدی تنازعات بھی پائے جاتے ہیں،  البتہ حالیہ کشیدگی  اس وقت شروع ہوئی جب سعودی چینل العربیہ اور اماراتی چینل سکائی نیوز نے قطری بادشاہ  امیر شیخ تمیم بن حماد الثانی  کی جانب سے فوجی پاسنگ آوٹ یعنی نیشنل سروس کی گریجویشن تقریب کے موقع پرکی  جانے والے تقریر کو خوب اچھالا۔

قطری بادشاہ نے اس تقریب میں سعودی کی جانب سے امریکیوں کودیے جانے والے اربوں ڈالر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ ٹرمپ کے اقتدار کی عمر کچھ زیادہ لمبی نہیں ، لہذا ٹرمپ پر اتنی رقم لٹانے کے بجائے سعودی عوام پر یہ رقم خرچ کی جانی چاہیے تھی ۔

اس موقع پر  قطر  کے بادشاہ نے سعودی حکومت پر  تنقید کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ سعودی عرب، بحرین اور امارات نے حماس اور حزب اللہ کو دہشتگرد کہہ کر غلطی کی ہے  یہ دہشت گرد تحریکیں نہیں بلکہ بیت المقدس اور فلسطین کی آزادی کی تحریکیں ہیں ۔

العربیہ اور سکائی نیوز کی جانب سے مسلسل شور کے بعد قطرکی جانب سے گزشتہ دنوں  ایک لائن کی ایک خبر نشر کی گئی کہ جس میں صرف اتنا کہا گیا کہ ’’قطر نیوز ایجنسی کی سائیٹ کو  نامعلوم ہیکروں نے ہیک کرلیا ہے ‘‘

لیکن اس کے جواب نے مذکورہ دونوں چینلوں نے قطر نیوز ایجنسی کا ٹیو ٹر اکاونٹ ،انسٹاگرام ،اور انگلش ویب سائیٹ۔۔۔ سے مذکورہ خبر کو دکھانا شروع کردیا اور یہ سوال کھڑا کردیا کہ کیا ایک ساتھ یہ تمام اکاونٹ ہیک ہوچکے ہیں ؟

چند گھنٹوں بعد العربیہ نے ایک اور بریکنگ نیوز شائع کی کہ جس میں کہا گیا کہ ’’قطر نے سعودی عرب ،امارات ،مصر اور بحرین کے سفیروں کو چوبیس گھنٹے میں قطر چھوڑنے کا حکم دیا ہے ‘‘جس کے جواب میں قطر  کے وزیر خارجہ محمد بن عبدالرحمن نے فورا نفی کرتے ہوئے کہا کہ ان کے بیان کی غلط تشریح کی گئی ہے ۔

اسی دوران سعودی عرب ،امارات اور بحرین نے فورا قطر نیوز ایجنسی اور الجزیرہ سمیت متعدد قطری میڈیا کو بلیک آوٹ کردیا ۔اگرچہ اسے ہیکروں کی کارروائی کہہ کر فی الحال مسائل کو چھپانے کی کوشش کی گئی ہے لیکن حالات حاضرہ کے مطابق ٹرمپ اور سعودی عرب کسی بھی صورت اپنے ایجنڈے سے پیچھے ہٹنے والے نہیں۔

قطری، اماراتی  اور سعودی موجود کشیدہ گی  کے حوالے سے ہمیں مندرجہ زیل نکات پر توجہ رکھنی چاہیے:

الف:ٹرمپ کے دورہ سعودی عرب اور مختلف اجلاسوں  کے دوران، اخوان المسلمین کی حمایت کی  وجہ سے  قطری بادشاہ اور ٹرمپ کی  ملاقات خوشگوار نہیں رہی۔

ب:امریکی اور یورپی بہت سے میگزینز اور اخبارات میں قطرکے خلاف تسلسل کے ساتھ مضامین شائع ہو رہے ہیں، ان مضامین  میں  قطر کو دہشتگردوں کا سہولت کار قراردیا جاتا ہے  اور اس سلسلے میں تازہ ترین مضمون ،  فارن پالیسی(Foreign Policy) میگزین میں John Hannahکا لکھاہوا مضمون ہے ۔  

واضح رہے کہ John Hannahکوئی معمولی فرد نہیں بلکہ  وہ امریکی وزارت خارجہ کا اہم عہدار رہنے کے ساتھ ساتھ ،ڈک چینی کامشیربھی رہا ہے ۔

اس مضمون میں ا س نے قطر اور اس کے چینل الجزیرہ پر الزام لگایا ہے  کہ وہ عراق و افغانستان میں لوگوں کو امریکیوں کے قتل کے لئے بڑھکانے میں ملوث ہے،  موصوف نے یہ بھی الزم لگایا کہ قطر کے چینل نے عرب اسپرنگ کو مذہبی شدت پسندلہر میں بدلنے میں اہم کردار ادا کیا ہے ،انکا کہنا ہے کہ قطر نے شام میں وہابی شدت پسندوں کو رقوم اور اسلحہ فراہم کیا ،جبکہ ناین الیون کے ماسٹر ماینڈخالد شیخ  کو  بھی دوحہ میں چھپائے رکھا۔۔۔

میڈیا پرسنز بخوبی جانتے ہیں کہ حالیہ سعودی و امریکی کانفرنس میں پاکستان کی طرح قطر کو بھی شدت کے ساتھ نظر انداز کیا گیا، قطر کے بادشاہ نے سلطنت عمان کے نائب وزیراعظم اور اس کے وفد کے ساتھ  بات چیت کر کے اپنا وقت گزارا ،قطری بادشاہ نے انتہائی کم وقت کے لئے بن نایف کے ساتھ بھی کچھ بات کی ،یہ منظر میڈیا سکریں پر دیکھنے کو ملا کہ  قطری بادشاہ کے ساتھ ابوظہبی کے بادشاہ زائد نے نہ تو بات کی اور نہ ہی ہاتھ ملایا بلکہ وہ تمام تر پروٹوکول کو توڑتے ہوئے ٹرمپ کے ساتھ  تصاویر کھنچوانے کے لئے  قطری بادشاہ  کو بائی پاس کرتے ہوئے ٹرمپ کے کنارے جاکر کھڑا ہوگئے۔

اس وقت ٹرمپ ، سعودی عرب ، امارات اور مصر قطر میں بھی حکومت کی تبدیلی پر متفق ہو چکےہیں۔انہیں اخوان المسلمین کے مسئلے پر قطر میں ایسا حکمران چاہیے جو ان  کی  ڈکٹیشن پر عمل کرے۔

جو جرم شام کے بادشاہ کا تھا کہ وہ حماس کی حمایت کرتا تھا وہی جرم قطر کے بادشاہ کا ہے کہ وہ اخوان المسلمین کا حامی ہے ۔اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا یہ ممالک قطر میں حکومت کی تبدیلی میں کامیاب ہو جائیں گے یا شام کی طرح اپنے لئے مزید مشکلات کھڑی کریں گے۔


موضوعات مرتبط: Top News
ٹیگز: قطر دوسرا شام بننے جا رہا ہے
نویسنده : بازدید : 1 تاريخ : يکشنبه 7 خرداد 1396 ساعت: 18:37
برچسب‌ها :