دھوکے باز | بلاگ

دھوکے باز

تعرفه تبلیغات در سایت

آخرین مطالب

امکانات وب

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

باز

تحریر: محمد زکی حیدری

 "آئندہ سے میں یونیورسٹی نہیں آ پاؤں گی، میری شادی کی تاریخ پکی ہو گئی جبران!"

وہ کیمسٹری ڈپارٹمنٹ کے سامنے رکھے ایک درخت کے سوکھے تنے پر بیٹھی گردن جھکائے افسردگی کے عالم میں مجھ سے کہہ رہی تھی.

فاریہ کی شادی...؟؟؟ یعنی میری زندگی کی ہر سانس کے ساتھ جس کی یاد جڑی تھی، جس کیلئے سجدوں میں گڑگڑایا  وہ کسی اور کی ... میرا دل اچھل کر حلق میں آگیا، ٹانگوں سے جان نکل گئی ...

میرا کیا جرم تھا... آسمان کی طرف نگاہ کی تو کراچی کے ابر آلود آسمان پہ بادل ماتم کناں نظر آئے ... یونیورسٹی کے ہر درخت نے خوشی سے جھومنا بند کرکے افسردگی سے اپنے سر جھکا دیا تھا... میں سُن ہوگیا... یہ جامنی رنگ کی شال میں دودہ جیسا سفید فاریہ کا چہرہ کہ جس کے حسن کو دیکھ کر چارلس ڈارون کے نظریۂ ارتقا  کہ انسان ایک بدمانس کی ارتقائی شکل ہے، کی دھجیاں بکھر گئی تھیں ... وہ فاریہ کہ جب وہ مسکراتی تو ٹروئے کی ہیلن؛ مصر کی قلوپطرہ اور ھندوستان کی دروپتی شرم سے پانی پانی ہو جاتی ہوں گی... یہ میری زندگی، میرے جینے کی وجہ میری فاریہ ...

"جبران! کیا ہوا چپ کیوں ہو گئے؟ ہاں جانتی ہوں جبران تم میرے بغیر ..."

 اس کی آواز نے اس کا ساتھ نہ دیا اور اس کی آنکھوں میں مستقر آنسوؤں کی جھیل کا بند ٹوٹ گیا، اس کی آنکھوں سے جاری ہونے والی اشکوں کی دو نہریں اس کے دودہ جیسے گالوں پر بہنے لگیں...

میں چپ تھا... میں ساکت تھا... میرا بھی دل غم و اندوہ کی بھٹی میں جل رہا تھا اور اس کی بھاپ میرے آنکھوں سے آنسوؤں کی صورت خارج ہو رہی تھی. سوچ رہا تھا کہ یہ اچانک کیا ہوا کہ پوری جامعہ میں ماتم ہی ماتم ہے... کس نحوست نے آکر ڈیرہ ڈال دیا میرے آشیانۂ سکون میں... جامعہ کراچی میں اچانک اتنا اندھیرا کیوں!

 

"بولو بھی جبران!"

اس کی آواز نے مجھے خیالات کی دنیا سے نکال کر اس سوکھے تنے کے سامنے لاکر کھڑا کر دیا...

"نہیں فاریہ! یہ نہیں ہوسکتا." میں نے آنسو پونچھتے ہوئے کہا "یہ معاشرہ ایک ظالم بادشاہ ہے، میں... میں... اس کے خلاف جنگ کا اعلان کرونگا یہ کون ہوتا ہے مجھ سے میری فاریہ چھیننے والا... ہاں میرے دل و دماغ میں ایک بہت بڑا اور قوی لشکر ہے جو اس بادشاہ کے تخت و تاج کو مٹی میں ملا دے گا..."

"جبران پلیز کتابی دنیا سے باہر آؤ، میں کل سے نہیں آؤں گی، میں ہمیشہ کیلئے جانے والی ہوں." اس نے سسکتے ہوئے کہا.

"نہیں! ایسا مت کہو فاریہ!"

"تو بتاؤ کیا کروں."

"فاریہ! میں کبھی جھکا نہیں، فاریہ ہم عاقل ہیں ظالم کے سامنے جھکنا نہیں ہمیں لڑنا ہوگا... اپنا حق لینا ہوگا..."

"لیکن کیسے؟ کیا مطلب سب کچھ تو کر چکے، بابا نہیں مان رہے اور اب تو دعوت نامے بھی ..." اس نے ناامید ہوکر کہا.

"ایک راستہ ہے اور وہ ہی راستہ ہے حق حاصل کرنے کا؟"

"کون سا راستہ جبران؟"

میں پلک جھپکتے سے اٹھا اور کہا "چلو تمہارے گھر والوں سے چھپ کر شادی کر لیتے ہیں؟"

وہ حیرانگی کے عالم مجھے تکتی رہ گئی.

"جججبران! کککیا؟ کیا؟ مطلب تم چاہتے ہو میں تمہارے ساتھ بھاگ.. ؟" اس کی آواز میں تذبذب تھا.

"ہاں فاریہ اس معاشرے سے اپنا حق حاصل کرنے کا یہ ہی طریقہ ہے."

"نہیں جبران! تم عاقل ہو جانتے ہو کہ عزت دار گھرانوں کی لڑکیوں کو زیب نہیں دیتا کہ..."

 "زیب؟" میں نے اس کی بات کاٹتے ہوئے کہا "اپنی زندگی کسی کو بھی دینے کا حق اللہ (ج) نے تمہیں دیا ہے فاریہ! تم کیوں اپنے پیروں میں خود زنجیریں ڈال رہی ہو، یاد کرو مشہور فرانسیسی فلسفی روسو نے کہا تھا انسان آزاد پیدا ہوا ہے مگر ہر جگہ وہ زنجیروں میں جکڑا ہوا نظر آتا ہے. تم بھی خود کو زنجیروں میں جکڑ رہی ہو... خودساختہ زنجیریں. دو زندگیاں تباہ کر رہی ہو فاریہ ... اپنے خاندان کی ضد کیلئے اپنی اور میری زندگی جہنم میں جھونکنے چلی ہو یہ کہاں کا انص... "

"نہیں جبران!" اس نے میری بات کاٹ دی اور کہا "میں ہاتھ جوڑتی ہوں میں ایسا نہیں کر سکتی!"

"نہیں کر سکتی؟ تم وہی فاریہ ہو نا جس نے وعدہ کیا تھا ہم شمال کے سبزہ زاروں میں بھیگی گھاس پہ ساتھ چہل قدمی کریں گے؟ غروب کے وقت گھنٹوں ساحل سمندر پر بیٹھ کر پیار کی باتیں کریں گے، ہماری اولاد نہ شیعہ ہو گی نہ سنی؛ ہم عیدِ قربان پر مہنگا جانور خریدنے کی بجائے کسی یتیم کو کپڑے دلوائیں گے... تم ہی نے کہا تھا پھر آج کیا ہوا...؟

"جبران پلیز!"

"کیا پلیز؟ ہاں ہاں میں سب سمجھ گیا دھوکہ خوبصورت ہوتا ہے، تم بھی ایک خوبصورت دھوکہ تھی اور... " میں نے طیش میں آکر کہا.

"جبران پلیز میں مر جاؤنگی!" وہ زارو قطار رونے لگی.

"مر تو میں گیا آج میڈم فاریہ! تم نے کہا تھا مجھے تم سے زیادہ کچھ بھی عزیز نہیں... سب جھوٹ تھا... سب جھوٹ!" میں نے حقارت کے انداز میں کہا.

"میڈم؟؟؟ جبران خدا کا واسطہ مجھ سے غیروں کی طرح بات مت کرو میں پہلے ہی بہت پریشان ہوں!"

"جی میڈم! ہم غیر ہیں، آج سے ہم ایک دوسرے کیلئے غیر ہی تو ہیں، جب آپ نے فیصلہ لے لیا ہے کسی اور کے ہونے کا تو... "

"جبران! جبران! پلیز پلیز کیا تم چاہتے ہو لوگ میرے بابا کو طعنے دیں کہ یہ ہے ان کی تربیت کہ بیٹی بھاگ گئی... میرے والدین کیسے جی پائیں گے، وہ کسی کو منہ دکھانے کے قابل رہیں گے؟" اس نے روتے ہوئے کہا.

"میں نے کچھ نہیں سننا، تم دھوکہ ہو... تم ایک خوبصورت دھوکہ تھی، دھوکہ ہمیشہ خوبصورت ہوتا ہے، میں نے تمہیں محور حیات بنا لیا... یہ میری غلطی تھی"

اس نے گردن جھکا کر رونا شروع کردیا. میں نے نم آنکھوں اور کانپتے ہاتھوں سے سگرٹ سلگائی اور کش لگاتا ہوا پیچھے دیکھے بغیر سلور جوبلی گیٹ کی طرف قدم بڑھانے لگا.

راستے میں بائیک پہ یہ ہی سوچتا آیا کہ دھوکے باز! میں احمق تھا ... معلوم تھا چھوڑ دے گی... اس لڑکے کے پاس پیسہ ہوگا، ہاں وہ امیر ہوگا اس کی دولت پہ مری ہوگی، والد کی رضامندی تو بس بہانا تھا، وہ لڑکا امیر اور  میں غریب... کہاں یہ میری کھٹارا بائیک اور کہاں وہ گاڑیوں والا امیر... پیسہ پیسہ! ہاں آج کل کی لڑکیاں تو بس پیسے پہ جان دیتی ہیں! چلو دیر آید درست آید! میں نے پہچان تو لیا اس دھوکے باز کو... اب اسے بھولنے کی کوشش کرونگا.

میں اپنے کمپارٹمنٹ کے قریب پہنچا تو دیکھا  پارکنگ میں ماموں شبیر، علی چاچو اور خالہ ناہید کی گاڑیاں کھڑی ہیں، میں ڈر گیا کہ اللہ (ج) خیر کرے یہ سب اچانک کیوں آئے ہیں. میں جلدی جلدی سے سیڑھیاں چڑھنے لگا ... فلیٹ کا دروازہ کھولا تو دیکھا امی خالہ کو بغل میں لیئے زارو قطار رو رہی ہیں، بابا سر جھکائے آنسو بہا رہے ہیں.

چھوٹی بہن بتول نے حسرت بھری نگاہوں سے میری طرف دیکھا، کچھ کہنا ہی چاہتی تھی کہ اس سے پہلے امی نے چیخ کر کہا "ارے جبران! میرے بچے وہ کمبخت ہم سب کی عزت مٹی میں ملا گئی، ارے ہم مر کیوں نہ گئے یہ دن دیکھنے سے پہلے ..."

"کیا ہوا امی؟" میں نے حیرت سے پوچھا.

بتول نے رو کر کہا "بھیا! صدف آپی نے گھر چھوڑ کر اس لڑکے کے ساتھ کورٹ میرج کر لیا."

میں چکرا گیا، میرے ہاتھ سے کتابیں گر گئیں اور آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا.

*(سندھی زبان کے مشہور افسانہ نگار محترم امر جلیل صاحب کو خراج تحسین کے طور پر پیش کیا ہے)*

+923337467268


افکار و نظریات: دھوکے باز...
نویسنده : بازدید : 2 تاريخ : سه شنبه 26 دی 1396 ساعت: 15:54