ایس ایس پی نے اڑھائی سو سے زائد افراد مار دئے

تعرفه تبلیغات در سایت

امکانات وب

ایک ہفتے میں دوجعلی پولیس مقابلے،اب کس پر اعتماد کرے کوئی، کراچی میں ایک ہفتے کے دوران بغیر کسی کریمنل ریکارڈ کے   پولیس نے جعلی مقابلوں میں دو نوجوان ٹھکانے لگا دیے۔

انیس سالہ انتظار احمد کو ڈیفنس میں صرف گاڑی نہ روکنے پر اہلکاروں نے فائرنگ کرکے قتل کردیا اور

نقیب اللہ محسود کو سچل گوٹھ کے  قریب پولیس نے قتل کر دیا۔

دونوں کے کیس میں لواحقین  اور عوام نے پولیس پر عدم اعتماد ظاہر کیاہے اور اسے کھلی پولیس گردی سے تعبیر کیا ہے۔

اگر ہمارے  حکمرانوں اور سیاستدانوں کو پارلیمنٹ پر لعنتیں کرنے اور ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے سےسے فرصت ملے تو ایک نظر  عوام کے شب و روز پر بھی ڈال لیں کہ اس ملک میں عوام پر کیا بیت رہی ہے۔

مبینہ طور پر صرف ایس ایس پی ملیر راؤ انوار نے اب تک  پولیس مقابلوں میں ڈھائی سو سے زائد کو موت کے گھاٹ اتارا ہے.

یاد رہے کہ انیس سو بیاسی میں اے ایس آئی بھرتی ہونےوالے راؤ انوار سابق صدر آصف علی زرداری کے خاص آدمی سمجھے جاتےہیں۔

 

افضل ندیم ڈوگر کے مطابق کراچی میں ایس ایس پی راؤ انوار احمد کے ہاتھوں نقیب اللہ محسود اور 12 سال قبل ایس پی چوہدری اسلم کے ہاتھوں سندھ کے بدنام ڈاکو معشوق بروہی کے نام پر دو معصوم شہریوں کو جعلی پولیس مقابلوں میں قتل کرنے کی وارداتوں میں نہ صرف انتہائی مماثلت ہے بلکہ حیرت انگیز طور پر دونوں وارداتوں کا پس پردہ اور مرکزی کردار ایک ہی بدنام پولیس انسپکٹر ہے۔

 

دونوں کارروائیوں میں ایک ہی انداز میں پولیس کو مطلوب ملزمان کے ہم نام بے گناہ اور عام شہریوں کو وقت کے بااثر افسران نے نشانہ بنایا۔

 

جولائی 2006 میں کئی وارداتوں میں مطلوب سندھ کے بدنام ڈاکو معشوق بروہی کو اس وقت کی لیاری ٹاسک فورس کے سربراہ ایس پی چوہدری اسلم نے پولیس مقابلے میں ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا، لیکن چند دن بعد قتل کئے گئے شخص کی شناخت غلام رسول بروہی کے نام سے ہوئی جو نقیب میں محسود کی طرح کراچی کے نواحی علاقے حب میں مزدور تھا۔

 

اس واقعہ کے بعد کراچی سمیت سندھ بھر میں احتجاج شروع کیا گیا، جس میں سندھ کی قوم پرست تنظیموں، شہری حلقوں اور سیاسی جماعتوں نے غیر معمولی انداز میں حصہ لیا، جس کے بعد سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے اس غیرمعمولی واقعہ کا از خود نوٹس لیا گیا۔

 

ازخود نوٹس کے بعد بااثر پولیس افسر چوہدری اسلم کے خلاف نہ صرف قتل کا مقدمہ درج کیا گیا بلکہ انہیں ان کے ساتھیوں سمیت گرفتار کر لیا گیا اور وہ کئی مہینوں تک جیل میں رہے۔

 

اس واردات کے مرکزی اور پس پردہ کردار کے طور پر لاشاری نامی پولیس انسپکٹر سامنے آئے تھے، اس پولیس انسپکٹر کے خلاف بھی کاروائی کی گئی تھی۔

 

ذرائع کے مطابق اب اسی پولیس انسپکٹر لاشاری نے سال 2014 میں اپنی درج کردہ ایک پرانی ایف آئی آر راؤ انوار احمد کو دکھا کر ایف آئی آر میں مفرور ملزم نقیب اللہ محسود کے ہم نام بےگناہ نوجوان کو پکڑوا دیا۔

 

ذرائع کے مطابق 13 جنوری کو ایک سرکاری ادارے کی جانب سے مبینہ طور پر ’’ٹھکانے‘‘ لگانے کے لئے ایس ایس پی راؤ انوار احمد کو تین ملزمان فراہم کئے گئے، جنہیں ’’پار‘‘ کرنے کے لیے راؤ انوار نے اپنے دست راست ایس ایچ او شاھ لطیف ٹاؤن امان اللہ مروت کے حوالے کیا۔

 

اس دوران انسپکٹر لاشاری کی جانب سے دیئے گئے نقیب اللہ محسود کے ہم نام نوجوان کو بھی مقابلے میں مار دیا گیا۔

 

واضح رہے کہ نقیب اللہ محسود کی بھی غلام رسول بروہی کی طرح کراچی سے جڑے شہر حب میں رہنے کی اطلاعات ہیں۔ ذرائع کے مطابق پولیس مقابلے میں بےگناہ شخص کی ہلاکت کے بعد لاشاری نامی برطرف پولیس اہلکار غائب ہوگیا ہے۔https://jang.com.pk/latest/436862-matching-police-encounter-in-karachi

 


افکار و نظریات: ایس ایس پی نے سو سے زائد افراد مار دئے
نویسنده : بازدید : 0 تاريخ : يکشنبه 1 بهمن 1396 ساعت: 4:09
برچسب‌ها :