اردو شاعری | بلاگ

اردو شاعری

تعرفه تبلیغات در سایت

آخرین مطالب

امکانات وب

مری صبح غم بلا سے کبھی شام تک نہ پہنچے

مجھے ڈر یہ ہے برائی ترے نام تک نہ پہنچے

مرے پاس کیا وہ آتے مرا درد کیا مٹاتے

مرا حال دیکھنے کو لب بام تک نہ پہنچے

ہو کسی کا مجھ پہ احساں یہ نہیں پسند مجھ کو

تری صبح کی تجلی مری شام تک نہ پہنچے

تری بے رخی پہ ظالم مرا جی یہ چاہتا ہے

کہ وفا کا میرے لب پر کبھی نام تک نہ پہنچے

میں فغان بے اثر کا کبھی معترف نہیں ہوں

وہ صدا ہی کیا جو ان کے در و بام تک نہ پہنچے

وہ صنم بگڑ کے مجھ سے مرا کیا بگاڑ لے گا

کبھی راز کھول دوں میں تو سلام تک نہ پہنچے

مجھے لذت اسیری کا سبق پڑھا رہے ہیں

جو نکل کے آشیاں سے کبھی دام تک نہ پہنچے

انہیں مہرباں سمجھ لیں مجھے کیا غرض پڑی ہے

وہ کرم کا ہاتھ ہی کیا جو عوام تک نہ پہنچے

ہوئے فیض مے کدہ سے سبھی فیضیاب لیکن

جو غریب تشنہ لب تھے وہی جام تک نہ پہنچے

 

جسے میں نے جگمگایا اسی انجمن میں ساقی

مرا ذکر تک نہ آئے مرا نام تک نہ پہنچے

تمہیں یاد ہی نہ آؤں یہ ہے اور بات ورنہ

میں نہیں ہوں دور اتنا کہ سلام تک نہ پہنچے

کلیم عاجز

 نیند آنکھوں میں مسلسل نہیں ہونے دیتا

وہ مرا خواب مکمل نہیں ہونے دیتا

آنکھ کے شیش محل سے وہ کسی بھی لمحے

اپنی تصویر کو اوجھل نہیں ہونے دیتا

رابطہ بھی نہیں رکھتا ہے سر وصل کوئی

اور تعلق بھی معطل نہیں ہونے دیتا

وہ جو اک شہر ہے پانی کے کنارے آباد

اپنے اطراف میں دلدل نہیں ہونے دیتا

جب کہ تقدیر اٹل ہے تو دعا کیا معنی

ذہن اس فلسفے کو حل نہیں ہونے دیتا

دل تو کہتا ہے اسے لوٹ کے آنا ہے یہیں

یہ دلاسا مجھے پاگل نہیں ہونے دیتا

 

قریۂ جاں پہ کبھی ٹوٹ کے برسیں روحیؔ

ظرف اشکوں کو وہ بادل نہیں ہونے دیتا

ریحانہ روحی

 

دل کو رہ رہ کے یہ اندیشے ڈرانے لگ جائیں

واپسی میں اسے ممکن ہے زمانے لگ جائیں

سو نہیں پائیں تو سونے کی دعائیں مانگیں

نیند آنے لگے تو خود کو جگانے لگ جائیں

اس کو ڈھونڈیں اسے اک بات بتانے کے لیے

جب وہ مل جائے تو وہ بات چھپانے لگ جائیں

ہر دسمبر اسی وحشت میں گزارا کہ کہیں

پھر سے آنکھوں میں ترے خواب نہ آنے لگ جائیں

اتنی تاخیر سے مت مل کہ ہمیں صبر آ جائے

اور پھر ہم بھی نظر تجھ سے چرانے لگ جائیں

جیت جائیں گی ہوائیں یہ خبر ہوتے ہوئے

تیز آندھی میں چراغوں کو جلانے لگ جائیں

 

تم مرے شہر میں آئے تو مجھے ایسا لگا

جوں تہی دامنوں کے ہاتھ خزانے لگ جائیں

 


افکار و نظریات: اردو شاعری

...
نویسنده : بازدید : 0 تاريخ : پنجشنبه 6 ارديبهشت 1397 ساعت: 14:26