ریاض کانفرنس فیصلہ آپ کریں | بلاگ

ریاض کانفرنس فیصلہ آپ کریں

تعرفه تبلیغات در سایت

آخرین مطالب

امکانات وب

رپورٹ سعید عثمان

یہ کوئی ہزاروں سالہ پرانی بات نہیں اور کسی قدیم قوم کی داستان بھی نہیں۔ یہ چند روز پہلے سعودی عرب کے  دارالحکومت کا واقعہ ہے، جہاں پچاس اسلامی ممالک کے سربراہ بیٹھے ہوئے تھے، سعودی فوجی اتحاد کے اعلی افیسران بھی موجود تھے، توحید پرستوں اور اللہ والوں کی حکومت تھی اور ٹرمپ کی آمد پر جشن منایا جا رہا تھا، رقص کئے کئے جا رہے تھے، اب  ایسے میں اگر کوئی نعرہ رسالت لگادیتا تو یہ تو کھلم کھلا شرک تھا، اگر کوئی سیدی مرشدی یانبیّ یانبی ّ کہہ دیتا تو وہ تو دائرہ اسلام سے ہی خارج ہوجاتا، اگر کوئی نعرہ غوثیہ ، یا غوث الاعظم کہہ دیتا تو وہ مردہ پرست کہلاتا لیکن مجھے تعجب ہے کہ ان اللہ والوں اور توحید پرستوں نے مسلمانوں کے اس عظیم اجتماع میں ایک مرتبہ بھی نعرہ تکبیر نہیں لگایا۔ مجھے بہت تعجب ہوا کہ نبی اکرم ّ کے نورانی و ملکوتی مزار کو چومنے پر مشرک مشرک اور کافر کافر کے نعرے لگانے والوں میں سے  کسی کی زبان سے بھی ٹرمپ کے لئے کافر کافر اور مشرک مشرک کے الفاظ نہیں نکلے، کسی اللہ والے کے ایمان نے جوش نہیں مارا اور کسی نے کانفرنس میں کافر کافر ٹرمپ کافر کا نعرہ نہیں لگایا۔
میں سوچ رہاہوں کہ آخر یہ فتوے اور نعرے صرف پاکستانیوں کو قتل کروانے کے لئے ہی کیوں استعمال کئے جاتے ہیں۔
 میں بہت پریشان ہوں سعودی بادشاہوں اور ان  کی غلام رعیت پر کہ ٹرمپ کی آمد پر پورے سعودی عرب میں کسی ایک مقام پر بھی مردہ باد امریکہ کی ریلی نہیں نکلی۔ کہیں پر بھی لوگ ٹرمپ کا پتلا جلانے کے لئے نہیں نکلے ، ارے کشمیر کو تو چھوڑیے فلسطین اور بیت المقدس کی آزادی کے لئے بھی سڑکوں پر نہیں آئے۔

یقین کیجئے یہ میرے نبیّ اور اللہ کے اولیاءے کرام  کو نعوذباللہ مردہ کہنے کا نتیجہ اور ان کی شان میں گستاخیاں کرنے اور ان کے مزارات کو منہدم کرنے کا صلہ ہے کہ آج پورا سعودی معاشرہ مردہ ہوچکاہے لیکن میرا نبی ص آج بھی پوری آب و تاب کے ساتھ، عرش و فرش پر ، قرآن کی آیات کی صورت میں اور مومنین کے نورانی قلوب میں زندہ و تابندہ ہے۔فیصلہ آپ کریں کہ مردہ کون ہے سعودی بادشاہ اور ان کے چاپلوس یا میرا نبیﷺ۔


موضوعات مرتبط: کالمز ، Top News
ٹیگز: ریاض کانفرنس فیصلہ آپ کریں...
نویسنده : بازدید : 2 تاريخ : يکشنبه 7 خرداد 1396 ساعت: 18:37