
سویلین کیلئے فوجی عدالتیںکل کا پاکستان کیسا ہو گا؟ ہم لوگوں کی کیسی تربیت کر رہے ہیں؟ایم اے راجپوت9 اور 10 مئی کے واقعات سب کے سامنے ہیں۔ یہ کرنے کرانے والے سب قومی مجرم ہیں ۔ اس سے ہمیں کوئی انکار نہیں۔ دینی و قانونی مساوات کا تقاضا یہ ہے کہ ان سب کے ساتھ مساوی برتاو کیا جائے۔سب برابر ہیں ۔سب ایک جیسے ہیں ۔سب کیلئے قانون ایک ہی ہو۔قانون نافذ کرنے اور قانون پر عمل کرانے والا بھی ایک ہی ہو ۔نہ ملزم کو حق ہے کہ اپنی مرضی کی عدالت کہلوائی اور نہ ہی قاضی اور جج کے لئے درست ہے کہ کہے فلاں ملزم کو حتما میرے سامنے پیش کرو۔ وگرنہ معاشرے میں تقسیم نظر آئے گی جو مساوات جیسے بنیادی اسلامی اصول کے منافی ہے۔پاکستان ایک ملک ہے جس کا اپنا اسلامی آئین ہے۔اس آئین کے تحت واقعا یہ واقعات کرنے کرانے والوں بلکہ ...
ادامه مطلب
نئے چیف جسٹس کا وژن...
ادامه مطلب
اداریہ! اس وقت پوری قوم سوگوار ہے، یہ جملے سن سن کر لوگ تھک چکے ہیں کہ ہمارے حوصلے بلند ہیں،بڑے بڑے دہشت گرد ہماری قید میں ہیں، دہشت گردوں کے نیٹ ورکس ٹوٹ چکے ہیں، احسان اللہ احسان اور کلبھوشن یادو سمیت متعدد سرکردہ دہشت گرد زیر حراست ہیں، اس کے باوجود ۱۱اگست کو ڈی آئی خان میں ٹارگٹ کلنگ کر کے دوپولیس اہلکاروں کو شہید کر دیا گیا ہے۔ پھر ۱۲ اگست کو بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں پشین سٹاپ کے قریب دھماکے کے ذریعے سیکورٹی فورسز کی گاڑی کا نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں اب تک 15 افراد شہید جبکہ 25 سے زائد زخمی ہوچکے ہیں۔ ۱۳ اگست کو آرمی چیف نے کہا ہے کہ یہ حملہ جشن آزادی کو متاثر کرنے کی...
ادامه مطلب
اداریہ آرمی ہمارے قومی وقار کی علامت ہے، قومی غیرت، ملی عزت، ملکی آبرو یہ سب کچھ آرمی کے دم سے ہے، اگر آرمی پر حملہ ہوتا ہے تو وہ در اصل قومی وقار، ملی عزت اور ملکی آبرو پر حملہ ہے۔ آرمی کی حیثیت اس تسبیح کی طرح ہے جو مختلف دانوں کو ایک مقدس رشتے میں باندھ کر رکھتی ہے۔ اگر وہ تسبیح ٹوٹ جائے تو اس کے دانے بکھر جاتے ہیں۔ آرمی پوری قوم کو ایک تسبیح کی طرح متحد کر کے رکھتی ہے ، یہ بات تو ٹھیک ہے کہ آرمی ہم سب کی محافظ ہے لیکن آخر اس آرمی کی حفاظت کرنا بھی تو ایک قومی فریضہ ہے۔ آئے روز آرمی کے جوانوں پر حملے ہو رہے ہیں، آفیسرز شہید ہو رہے ہیں، اور آرمی پبلک سکولوں کے بچے بھی دہشت...
ادامه مطلب