
آپریشن وعدہ صادق اور ہم تحریر:محمد بشیر دولتی کچھ واقعات کبھی پرانے نہیں ہوتے۔آپریشن پنجہ عقاب یا " operation eagle claw" بھی ناقابلِ فراموش ہے۔ 25 اپریل 1980 کو یہ آپریشن امریکہ نے ایران کے خلاف کیا۔اس وقت ایران میں اسلامی انقلاب کی شروعات تھیں۔ تہران میں امریکی سفارتخانہ امریکی جاسوسی کے ایک مرکز کے طور پر ابھی فعال تھا۔ تہران یونیورسٹی کے انقلابی طلبا نے تہران میں امریکی سفارت خانے یعنی جاسوسی کے اڈے پر دھاوا بولا۔پلک جھپکنے میں 53 امریکی جاسوس اور جاسوسی کی دوسری دستاویزات ان طلبا نے اپنے قبضے میں لے لیں ۔ یہ امریکہ کے خلاف بہت بڑا قدم تھا۔اتنا بڑا کہ امام خمینیؒ نے اس کاروائی کو دوسرا بڑا انقلاب قرار دیا ۔ اسوقت کے امریکن صدر جمی کارٹر کو ساری دنیا میں سُبکی کا سامنا کرنا پڑا۔وہ اپنے جاسوسوں کی رہائی کیلئے سوائے دھمکیوں کے کچھ نہ کر سکے۔جمی کارٹر اور امریکن آرمی نے بالآخر ایران کے خلاف ایک آپریشن" operation eagle claw"کا فیصلہ کیا ۔ آپریشن کیلئے جدید اسلحے سے لیس امریکی کمانڈوز کو جنگی جہاز سیون تھرٹی کی نظارت میں آٹھ جنگی ہیلی کاپٹرز کے عملے ساتھ تہران پر حملے کے لئے بھیجا گیا۔ادھر امام خمینی رحمت اللہ علیہ کو ایرانی اداروں نے امریکہ کے اس خفیہ آپریشن سے آگاہ کیا۔امام نے انتہائی اطمینان کے ساتھ ساتھیوں سے فرمایا کہ وہ سورہ فیل کی تلاوت کریں اور خود دورکعت نماز ادا کرکے دعافرمانے لگے۔ امام نے انتہائی اطمینان کے ساتھ ساتھیوں سے فرمایا کہ وہ سورہ فیل کی تلاوت کریں اور خود دو رکعت نماز ادا کرکے دعامیں مشغول ہوگئے۔ امریکی کمانڈوز اور جنگی جہاز ایرانی سرحد میں داخل ہو کر طبس کے ریگستان میں پہنچے۔ وہاں ایک ہیلی کاپٹر فنی خرابی کے باعث طبس کے ریگستان میں اترا۔اس کے ساتھ دیگر سات ہیلی کاپٹرز بھی ریگستان میں اتارے گئے۔یہ ریگستان میں اترے ہی تھے کہ ریت اور بجری کا ایسا طوفان اٹھا کہ تمام ہیلی کاپٹرز آپس میں ٹکرا کر تباہ ہوگئے۔ ان کی حفاظت کے لئے موجود سی ون تھرٹی جہاز طبس کی فضاؤں میں بےبسی و لاچاری کے ساتھ یہ سب دیکھتا رہ گیا۔ اگلے روز جمی کارٹر نے نہایت بےبسی و لاچاری کے ساتھ کہا کہ " سب کچھ ہمارے حق میں تھا لیکن خدا ،خمینی کے ساتھ تھا"۔ طبس کی قریبی آبادی کو جب اس حادثے کے بارے میں علم ہوا تو سب طبس کے میدان کی طرف دوڑے لیکن فضا میں موجود امریکن سی ون تھرٹی طیارے نے بمباری کر کے عوام کو نزدیک جانے نہیں دیا۔ سپاہ پاسداران کا مقامی کمانڈر جب حالات کا جائزہ لینے گیا تو تباہ شدہ ہیلی کاپٹرز پر بنی صدر کے حکم سے بمباری کرائی گئی جس سے محمد منتظر نامی کمانڈر شہید ہو گیا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ بنی صدر نے امریکہ کے حکم پر ہی بمباری کروائی تھی تاکہ ان ہیلی کاپٹرز میں موجود دستاویزات انقلابیوں کے ہاتھ نہ لگیں۔ ۱۹۸۰ کے بعد آج ۱۹۲۴ تک ایران و امریکہ کے مابین یہ جنگ کسی لمحے ختم نہیں ہوئی۔ امریکہ نے آج تک جو کیا اُسے بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔ تعجب یہ ہے کہ دم تحریر یعنی ۲۰۲۴ میں بھی امریکہ صحرائے طبس کی طرح ایران کے سامنے بے بس اور لاچار نظر آ رہا ہے۔ ایران نے آج تک نہ امریکہ کی طرح چھپ کر بغداد آئیرپورٹ کی طرح غیر قانونی حملہ کیا نہ ہی اسرائیل کی طرح چھپ کر کسی سفارت خانے یا سول آبادیوں کو نشانہ بنایا بلکہ ہمیشہ ببانگ دہل حملے کا اعلان کیا۔ ابھی گزشتہ دنوں میں شام میں ایرانی قونصلیٹ پر حملے کے بعد اسرائیل نے ایرانی حملے کے خوف سے دنیا بھر میں اپنے تیس کے قریب سفارت خانے بند کردئے۔ ایران نے وعدہ صادق کے نام سے۱۳ اپریل ۲۰۲۴ کی رات ناقابل تسخیر سمجھےجانے والی صیہونی حکومت پر پہلا ڈرون حملہ کیا جس میں ایک سو ستر کے قریب ہلکے پیمانے کے ڈرون بھیجے گئے۔اس سے دوگھنٹے تک اسرائیلی و امریکی موت و حیات کی کشمکش میں رہے اور اسرائیل میں مکمل افراتفری رہی۔ جب اسرائیلی گنبد آہنی سسٹم اور فرانس،امریکہ ،اردن اور سعودی عرب ان ڈرونز کو روکنے میں مشغول ہوئے تو تیس کے قریب کروز میزائل اور ایک سو بیس بلسٹک میزائلوں سے ایران نے اپنے اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا۔اس حملے میں دیمونا کے ایٹمی مرکز اور دو عدد عسکری ائیرپورٹ جس میں رامون عسکری اڈہ بھی شامل ہے جہاں سے دمشق میں ایرانی سفارت خانے پر حملہ ہوا تھا ۔ امریکہ و اسرائیل کے خلاف ایران کا یہ وعدہ صادق نامی آپریشن یہ بتا رہا ہے کہ امریکہ و اسرائیل کے مقابلے میں خدا کا لشکر غالب ہے۔ حقیقی اسلام مسلسل طاقتور ہو رہا ہے اور دجالی طاقتیں مسلسل رسوا اور زوال پذیر ہیں ۔امریکی و اسرائیل کی پالیسیوں اور تدابیر کے بجائے ہمیں حقیقی اسلام اور انقلاب اسلامی ایران کی پالیسیوں اور تدابیر کا مطالعہ کرنا چاہیے ۔ وعدہ صادق صرف امریکہ و اسرائیل کیلئے ہی نہیں ہم سب کیلئے اپنے ہمراہ بہت سارے درس اور عبرتیں رکھتا ہے۔ کاش ہم وعدہ صادق آپریشن سے کچھ سیکھیں، اسے سمجھیں اور اس میں تدبّر کریں۔
ہمیں جوائن کریں مقبول ترین |
افکار و نظریات: daily, weekly, news, monthly