خرید بک لینک
ہمارا پیغامدینی تعلیم و تربیت دنیا و اخرت کی سعادت Voice of Nation Online Contact00989333083273 contact for Islamic Education Online Contact00989333083273 contact for Islamic Education در محضر سعدی اہم اعلاناتاہم اعلانات Voice of Nation Voice of Nationادامه مطلب

برچسب: نویسنده: کامران زارعی تاريخ: يکشنبه 11 مرداد 1405 ساعت: 13:02

ہمارا پیغامدینی تعلیم و تربیت دنیا و اخرت کی سعادت Voice of Nation Online Contact00989333083273 contact for Islamic Education Online Contact00989333083273 contact for Islamic Education در محضر سعدی اہم اعلاناتاہم اعلانات Voice of Nation Voice of Nationادامه مطلب

برچسب: نویسنده: کامران زارعی تاريخ: يکشنبه 11 مرداد 1405 ساعت: 13:02

ہمارا پیغامدینی تعلیم و تربیت دنیا و اخرت کی سعادت Voice of Nation Online Contact00989333083273 contact for Islamic Education Online Contact00989333083273 contact for Islamic Education در محضر سعدی اہم اعلاناتاہم اعلانات Voice of Nation Voice of Nationادامه مطلب

برچسب: نویسنده: کامران زارعی تاريخ: يکشنبه 11 مرداد 1405 ساعت: 13:02

 واجب الاطاعت کون؟ | | Voice of Nation مرکز مطالعات و تحقیقات واجب الاطاعت کون؟نذر حافی[email protected]گدائی کر کے اور چندے مانگ کر کھانا یہ عزّتِ نفس کی موت ہے۔ اسلام، انسانی نفس اور انسان کی عزت نفس کا محافظ ہے۔ جیسے کسی انسان کو خود کُشی کا حق نہیں ویسے ہی کسی انسان کو اپنی عزّت کو نیلام کرنے کا بھی حق نہیں۔ ہمارے ہاں ہر جگہ تو نہیں لیکن بعض دینی مدارس میں عزّتِ نفس کا جنازہ نکالا جاتا ہے۔ ایسے مدارس سے جو بھی نکلتا ہے وہ لباسِ دین پہن کر ایک پیشہ ور ٹھگ اور پروفیشنل بھکاری بن کر دین کے نام پر جگالی و گدائی کرتا ہے۔ یہ دین کے نام پر اُمّت میں ایک بہت بڑا بگاڑ ہے اور اصلاح اُمّت کے حوالے سے مفتی طارق مسعود صاحب کے کلپ خاص اہمیّت کے حامل ہیں۔ مذکورہ مفتی صاحب بڑی جہاندیدہ شخصیت ہیں اور وہ تو یقیناً یہ جانتے ہی ہیں کہ جس شخص کی عزّت نفس مر جائے وہ ہر پستی پر اُتر آتا ہے۔ پھر عزّت نیلام کرنا ، کسی دینی مدرسے میں لواطت کا شکار ہونا یا مدرسے کے کسی طالب علم کو اپنی ہوس کا نشانہ بنانا اُس کیلئے کوئی اہم مسئلہ نہیں ہوتا۔ اسی لئے ہمارے بعض دینی مدارس ایسے کاموں میں صفِ اوّل میں کھڑے ہیں۔ تفصیلات کیلئے آپ گوگل سے مدد لیں۔ گوگل پر آپ کو مفتی طارق مسعود صاحب جیسے عظیم مصلح کا یہ تازہ کلپ بھی مل جائے گا جس میں وہ یہ فتوی دے رہے ہیں کہ "دنیا میں ایک اصول یاد رکھو!شریعت میں جو بادشاہ ہو، جس کے ہاتھ میں قوّتِ نافذہ ہو، اُس کے اچھے اور بُرے کی بحث اسلام میں ہے ہی نہیں، اس کی اطاعت واجب ہے"۔مفتی صاحب نے لباسِ دین پہن رکھا ہے اور اپنے مذہب کے باقاعدہ مفتی ہونے کے ناتے ان کا یہ بیان کردہ اصول آبِ زر سے لکھنے کے قابل ہے۔ انہوں نے اپنے مکتب کی طرف سے یہ باقاعدہ یہ اادامه مطلب

برچسب: نویسنده: کامران زارعی تاريخ: يکشنبه 7 مرداد 1403 ساعت: 18:45

بات سے بات | | Voice of Nation مرکز مطالعات و تحقیقات بات سے باتسید علی کمیل٢١ جون کی شام ٦ بجے ہمیں ایک اعزازی تقریب میں جانا ہوا۔ محترم منظوم ولایتی ناظمِ تقریب تھے۔ انہوں نے "آج کی بات" کے عنوان سے اپنا کالم تو لکھ دیا ہے تاہم عینی شاہد ہونے کے ناتے آج کی بات سے کچھ بات ہم بھی بیان کر دیتے ہیں۔ یہ تقریب اُستاد محترم نذر حافی صاحب کے اعزاز میں اُن کی پی ایچ ڈی مکمل ہونے پر رکھی گئی تھی۔ حُسنِ تقریب کیلئے ننھے حسین عباس جعفری کو تلاوت قرآن پاک کی دعوت دی گئی۔یہاں تلاوت کے ہمراہ تربیّت کا پہلو بھی نمایاں تھا۔ بات تربیت کی ہے تو زندگی میں تربیت یافتہ دوستوں کا ملنا بہت بڑی نعمت ہے۔ خصوصاً جو تعلیم و تربیت کو ایک مشن کے طور پر دیکھتے ہوں۔ اس میں خوشی کا مقام وہ ہوتا ہے جب تربیت یافتہ احباب میں سے کوئی اپنا تعلیمی سفر مکمل کر لیتا ہے۔سر زمین علم قم المقدس میں یہ اعزازی تقریب جناب رفیق انجم صاحب کی تلاوت قرآن مجید کے ساتھ اگلے مرحلے میں داخل ہوئی۔ تقریب میں یوں تو بہت سارے عزیز و اقارب تھے تاہم حسن اتفاق سے ایک پرانے دوست جن سے تقریباً ٣ سال سے نہیں ملا تھا ان سے بھی ملاقات ہوگئی۔یہ کمال کی شام تھی جس میں سب کو اپنے اپنے علمی سفر کی داستان دہرانے کا موقع مل رہا تھا۔ آپس میں سب ایک دوسرے کو گفتگو کا موقع دے رہے تھے۔ کچھ ماضی کی یادیں تو کچھ مستقبل کے منصوبے۔ کچھ تعلیمی اور تربیتی موضوعات اور کچھ اس راستے کی مشکلات اور حل۔۔۔منظوم ولایتی صاحب گفتگو کو ایک سمت اور ایک جہت میں رکھنے میں ابھی تک کامیاب جا رہے تھے۔ پھر انہوں نے خود ہی بلتستان کے حالات اور وہاں کی تعمیر و ترقی میں صاحبان قلم و تحقیق کے کردار پر روشنی ڈالی۔ دیگر دوستوں نے حسبِ توفیق اس موضوع کو مزید کریدا۔محفل کو گادامه مطلب

برچسب: نویسنده: کامران زارعی تاريخ: سه شنبه 12 تير 1403 ساعت: 1:38

کہاں سے آئے یہ اثاثے ؟نذر حافیگزشتہ دنوں سوشل میڈیا پر ایک تحریر نظروں سے گزری۔ پڑھ کر بہت خوشی ہوئی کہ چلیں کوئی تو ہے جو ان مسائل پر بات کر رہا ہے۔ بصد افسوس تحریر پر محرّر کا نام درج نہیں تھا۔ تحریر کا پہلا پیراگراف ہی اس کی اہمیت کو واضح کر رہا تھا۔ آپ بھی ملا حظہ فرمائیے:"بانی انقلاب اسلامی ایران آیت اللہ العظمی حضرت امام خمینی نے جمکران میں ایک تین مرلے کا گھر ورثے میں چھوڑا، 36 سال سے مقام معظم رہبری کے منصب پر فائز حضرت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای کا چھوٹا سا ذاتی مکان ہے، جہاں سے وہ فرائض منصبی ادا کرنے کے ساتھ انتہائی سادہ زندگی بسر کرتے ہیں، صدر ، چیف جسٹس و ملٹی بلین ادارے آستان قدس رضوی کے سربراہ جیسی اہم ذمہ داریوں پر فائز رہنے اور 45 برس انقلاب اسلامی کی خدمت کرنے والے شہید صدر آیت اللہ ابراہیم رئیسی نے ورثے میں پانچ مرلے کا مکان چھوڑا، سابق ایرانی صدور پنشن اور مزید ملازمت کر کے اپنا گزر بسر کرتے ہیں۔"اس پیراگراف کے بعد چند سوالات اٹھائے گئے تھے وہ بھی پیشِ خدمت ہیں:ایسے میں سوال ہے پاکستان میں ملت جعفریہ کے چند رہنماؤں، مدارس کے مدیران، ٹرسٹ و ادارہ مالکان و تنظیمی افراد نے کروڑوں، اربوں کے اثاثے کیسے بنا لیے ؟؟جنھوں نے پیدل و سائیکل پر سفر شروع کیا تھا، آج ان کے پاس کروڑوں کے اثاثے کہاں سے آئے ؟کیا انھیں یہ اثاثے وراثت میں ملے؟ کیا ان کا کوئی ذاتی کاروبار ہے؟ذاتی کاروبار کے لیے سرمایہ کہاں سے آیا ؟ ان افراد کے زرائع آمدن کیا ہیں؟کیا ان کے وسائل زرائع آمدن سے مطابقت رکھتے ہیں؟ کیا یہ اپنے وسائل سے مہنگی گاڑیوں، عالیشان مکانات میں پر آسائش زندگی بسر کر سکتے ہیں؟کیا یہ ملی وسائل کی آمدن و خرچ کا حساب رکھتے ہیں اور باقاعدہ سالانہ آڈٹ کرواتے ہیں؟ انھوں نے اپادامه مطلب

برچسب: نویسنده: کامران زارعی تاريخ: سه شنبه 12 تير 1403 ساعت: 1:38

سانحہ سوات | | Voice of Nation مرکز مطالعات و تحقیقات سانحہ سوات۔۔۔دینی تربیّت یا مادری تربیت ؟نذر حافیانسانوں کی تربیّت کے بغیر دین کا تصوّر ممکن نہیں۔ یہ ۱۸ جون ۲۰۲۴ کا واقعہ ہے۔ سیالکوٹ سے ایک شخص سوات آیا۔ وہاں مدین کے ایک ہوٹل میں لوگوں نے اُس پر توہین قرآن کا الزام لگا کر اُسےزندہ جلا دیا، اُسے بازار میں گھسیٹا ، اُس کی لاش کو لٹکایا اور اُسے ڈنڈوں و پتھروں سے مسلسل زد و کوب کیا۔ یہ ہماری تاریخ کا کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے۔ مثلاً اس سے پہلے مشال خان کا قتل ہی سامنے رکھ لیجئے۔ اتنے لوگوں کا اکٹھے ہو کر ایک آدمی کو بے دردی سے مار دینا ۔ یا باوردی اہلکاروں کا سانحہ ساہیوال میں اندوہناک ظلم یا ذہنی معذور صلاح الدین پر بہیمانہ تشدد کر کے اُسے موت کے گھاٹ اتارنا۔۔۔ایسے پُر تشدد سانحات کو دیکھ کر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ شعوری یا لاشعوری طور پر آخر ہماری یہ تربیّت کس نے اور کہاں کی ہے کہ انسانوں پر تشدد کر کے ہمیں سکون ملتا ہے اور خوشی حاصل ہوتی ہے؟ اس سوال کے بعد یہ واضح ہو جاتا ہے کہ تربیّت صرف وہ نہیں ہوتی جو ہم کسی اکیڈمی، مدرسے یا ادارے سے حاصل کرتے ہیں بلکہ تربیّت وہ بھی ہے جو ماں کی آغوش میں ہوتی ہے۔دینِ اسلام نے ماں کی آغوش کو بڑی اہمیت دی ہے۔ اسلامی نکتہ نظر سے ماں کی آغوش ایک مکمل یونیورسٹی کا درجہ رکھتی ہے۔ تاریخِ اسلام میں مثالی اور باکردار ماوں کا بہت بڑا حصّہ ہے۔ تصویر کا دوسرا رُخ یہ بھی ہے کہ مسلمانوں کی تاریخ پُر تشدد سانحات اور واقعات سے بھری پڑی ہے۔ حضرت حمزہ ؓ کا جگر چبانے ، حضرت محمد ابن ابی بکر کو گدھے کی کھال میں بند کر کے جان سے مارنے ، حضرت حجر ابن عدی، حضرت میثم ابن تمّاراور حضرت مسلم بن عقیل نیز شہدائے کربلا کی دلخراش شہادتوں اور لاشوں کی بے حُرمادامه مطلب

برچسب: نویسنده: کامران زارعی تاريخ: سه شنبه 12 تير 1403 ساعت: 1:38

میں ماں ہوں | | Voice of Nation مرکز مطالعات و تحقیقات مجھے بچا لو، میں ماں ہوں!تحریر: کرامت علی جعفریزمین ماں ہوتی ہے۔ ماں سے بے وفائی نہیں کی جا سکتی ۔ زمین کے سوداگر یہ نہیں جانتے کہ زمین کی کیا قیمت ہوتی ہے ۔وطن عزیزکی زمین کے حصول کے لیے خواتین کے سہاگ اجڑ گئے، بچے یتیم ہوگئے، بزرگان سے ان کے بڑھاپے کا سہارا چھن گیا لیکن انھوں نے صبر کیا کیونکہ زمین ماں ہوتی ہے۔ اس پر سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ دینی اقدار کے احیاء وترویج ، آزدی رائے،احکامات الہیٰ کی حاکمیت کے لئے زمین لازم ہے ۔اس بات کی تصدیق تاریخ اسلام میں دیکھے تو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کی اس عظیم ہجرت سے ہوتی کہ جب مکہ میں کفار مکہ نے آپﷺ اور آپ کے رفقاء پر مکے کی سر زمین کو تنگ کردیا تو آپ ﷺ اپنے اصحاب کے ساتھ مدینہ تشریف لے گئے اور وہاں اسلامی حکومت تشکیل دی۔انصار مدینہ نے بے دریغ جانبازی، جانثاری اور فدا کاری کا ثبوت دیا۔ رسول خدا ؐکے حکم سے مہاجرین کو اپنا بھائی قرار دے کر اپنے اموال اور زمینوں کو مہاجر بھائیوں میں تقسیم کیا اور خدائی احکامات کو سر زمین مدینہ میں نافذ کیا اور اس طرح وہاں ایک الہی حکومت کی تشکیل پائی۔ جسے ریاست مدینہ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔مسلمانوں کی معیشت و اقتصاد کیلئے سر زمین مدینہ ریڑھ کی ہڈی مانند تھی کیونکہ ریاست کا قیام، احکامات الہیٰ کا نفاذ مسلمانوں کی زندگی کے وسائل سرزمین مدینہ سے وابستہ تھے۔ اگر مدینے جیسی سرزمین مسلمانوں کے پاس نہ ہوتی تو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور مسلمانوں کے لیے کیا مشکلات پیش آتیں ان کا ہم ادراک بھی نہیں کر سکتے۔دین کی بالا دستی کیلئے فقط درست عقیدہ کافی نہیں، اس کیلئےایک زمین کا ایک ٹکڑا بھی چاہیے۔ جن لوگوں کے پاس زمین نہیں ہوتی ادامه مطلب

برچسب: نویسنده: کامران زارعی تاريخ: پنجشنبه 7 تير 1403 ساعت: 14:30

آج کی بات۔۔۔ موسّسہ جہانی نورالقرآن میں ایک تقریبتحریر: منظوم ولایتی اس وقت موسّسہ جہانی نورالقرآن قم المقدس میں کچھ خاص دوست جمع ہیں۔ جمع ہونے کی وجہ ہمارے استاد محترم ڈاکٹر نذر حافی صاحب کے اعزاز میں رکھی گئی ایک تقریب ہے۔ تقریب کا عنوان "تجلیل و تکریمِ استاد نذر حافی" رکھاگیا ہے۔اس میں تقریباً سبھی آشنا چہرے ہیں ، کچھ نئے آشنا اور کچھ پرانے۔ قبلہ محمد علی شریفی صاحب بھی تشریف لا چکے ہیں۔ ایک دو احباب نے عید غدیر کے ایام کی مناسبت سے منقبت بھی پڑھ لی ہے۔ شرکاءِ نشست نے جہاں ڈاکٹریٹ کے مقالے کے کامیاب دفاع پر نذر حافی صاحب کی خدمت میں ہدیہ تبریک پیش کیا وہیں اپنے تعلیمی سفر کے تجربات بھی بیان کئے۔ایسے میں سید علی کمیل گردیزی صاحب کو کیسےگفتگو کی دعوت نہ دی جاتی۔ سو منتظمِ محفل ہونے کے ناتے ہم نے انہیں دعوتِ سخن دی۔ انہوں نے اپنے احساسات و جذبات کا اظہارکرتے ہوئے اُستادِ محترم کو ہدیہ تبریک پیش کیا۔ اس موقع پر محترم شریفی صاحب نے تحقیق کی اہمیت اور اس سلسلے میں اپنی اور استاد محترم کی کاوشوں کا ذکر کیا۔ ان کی گفتگو گویا تحقیق کے میدان میں ماضی کی حسین یادداشتوں اور جدوجہد پر مبنی ایک دستاویزی فلم تھی۔ اس موقع پر برادر کرامت علی جعفری، محترم ثاقب حسن، رائٹر سید قمر نقوی، قبلہ سید ناصر حسینی ، برادر رفیق انجم اور منظور حیدری صاحب نے بطورِ خاص سوال و جواب بھی کئے۔موسّسہ جہانی نورالقرآن قم المقدس کے مسئول محترم سید شرافت حسینی نے اپنی خاموش مزاجی کو توڑتے ہوئے اُستاد شناسی اور اُستاد کی اہمیت کے بارے میں انتہائی دلکش اور مختصر گفتگو کی۔یوں سلسلہ کلام استاد محترم حافی صاحب تک پہنچا۔ انہوں نےاپنی گفتگو کو ہدف کی اہمیت کو پہچاننے اور فضولیات سے بچنے تک محدود رکھا۔انہوں نے کہا کہ ہماادامه مطلب

برچسب: نویسنده: کامران زارعی تاريخ: پنجشنبه 7 تير 1403 ساعت: 14:30

قوم کی آواز | | Voice of Nation مرکز مطالعات و تحقیقات قومی ایوان میں قوم کی آوازتحریر:اشرف سراج گلتریمجلس وحدت مسلمین پاکستان کے چیئرمین سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے سینیٹر بننے کے بعد مظلوم عوام کی ترجمانی کا حق ادا کر دیا ہے۔ ان کا شفاف موقف ہے کہ گلگت بلتستان کی زمینوں پر قبضہ قبول نہیں ، گلگت و بلتستان کی معدنیات کے مالک وہاں کےعوام ہیں، اُن کے حقوق غضب ہوتے رہے تو ہم اُن کا دفاع کرینگے ، یہ نہیں ہوسکتا فلسطین کی طرح باہر کے لوگ آکر گلگت و بلتستان کے مالک بن جائیں ۔انہوں نے اپنے اس موقف کو کئی مرتبہ مختلف مواقع پر دہرایاہے۔ پاکستان کے ایوانِ بالامیں انہوں نےایک مرتبہ پھر گرین ٹورازم نامی سازش کی کھل کرمخالفت کی ہے۔انہوں نے اس قدر واضح بات کی کہ جی بی اسمبلی میں بیٹھے بعض استعمار کے آلہ کار اور سہولت کارحکومتی وزراء کے دانت کھٹے ہو گئے۔ مادروطن کے یہ غدار وزرا اپنی غداریوں کو مجلس اور اپوزیشن کی طرف نسبتیں دینے کی کوششیں کر رہے تھے۔ چنددن پہلے پی پی کے ایک نمائندے نے یہ دعوی کیاتھاکہ گرین ٹوریزم کو لانے میں اورکمپنی کو نوکریوں کی لسٹ دینے میں اپوزیشن بھی شامل ہے۔موصوف کو اپوزیشن لیڈر جناب کاظم میثم صاحب نے بہترین انداز میں جواب تو دے دیاتھا لیکن پھر بھی غداروں کا ٹولہ چہ مہ گوئیاں کر رہا تھا۔ سینیٹر علامہ راجہ ناصرعباس جعفری کے خطاب کے بعد غداروں کی تمام تر سازشیں دم توڑ گئی ہیں۔علامہ صاحب کے خطابکے بعدایک مرتبہ پھر عوام پر یہ ثابت ہوگیا ہے کہ مجلس وحدت مسلمین، سید علی رضوی کی قیادت میں جی بی کے عوامی مفادات اور امنگو کی ترجمان تھی، ہے اور رہے گی۔جو سیاسی نمائندے ایک عام وزارت کے عوض پیچھلے 30 سالوں سے سہولت کاری کرتے آرہے ہیں اب ان کے چہروں سے سیاہ نقاب ادامه مطلب

برچسب: نویسنده: کامران زارعی تاريخ: پنجشنبه 7 تير 1403 ساعت: 14:30

۳ جون | | Voice of Nation مرکز مطالعات و تحقیقات تین جون کے بعدنذر حافیکیا اسلام قصّہ پارینہ ہے؟ ۔ کیا دینِ اسلام کے پاس کسی قسم کا کوئی سیاسی، سائنسی، تعلیمی اور اقتصادی نظام نہیں؟۔ کیا دین فقط عبادات اور مذہبی رسومات کے مجموعے کا نام ہے؟۔ کیا مشکلات کے حل کیلئے دین کے پاس نت نئے فتووں، کچھ دعاوں، مخصوص چلہ کشیوں، روزانہ پڑھنے والے وظیفوں، گلے اور بازو پر باندھنے والے یا گھول کر پینے والے تعویزوں اور پھونکوں کے سوا کچھ بھی نہیں؟۔اگر کچھ افراد لوگ کراچی جانے والی ٹرین کے ڈبوں کو لاہور جانے والے انجن کے پیچھے لگا دیں گے تو اُس ٹرین میں سوار سارے لوگ کراچی کے بجائے لاہور یعنی غلط منزل پر پہنچیں گے۔ اس میں آپ ٹرین یا انجن کو غلط کہیں گے یا انجن تبدیل کرنے والے حضرات کو؟ آج مسلمان جس منزل پر پہنچ چکے ہیں بلا شبہ یہ ان کی منزل نہیں تھی۔ لگتا ہے کہ کسی منزل پر اُمّت مسلمہ کی ٹرین کا انجن اور ٹریک تبدیل کر دیا گیاہے؟ اسی طرح اگرو ہزارں سال مزید مسلمان آگے چلتے جائیں گے تو وہ اپنی اصل منزل سے مزید دور ہوتے جائیں گے۔ مقام فکر ہے کہ منزل سے دوری کا علاج واپس اپنی خودی اور خالص دینِ اسلام کی طرف واپس پلٹنا ہے یا اغیار کے رنگ میں رنگ کر اُن کی چاکری کرنا ہے؟کیا مسلمانوں کا اپنی خودی کی طرف پلٹنے سے مراد قرآن مجید کو رٹہ لگانا، لمبی داڑھی اور سرپر پگڑی رکھنا ہے یا زندگی کے تمام ترشعبوں میں امانتداری، حق پرستی ، رزقی حلال اور سچائی سے کام لینا ہے؟ ظاہری طور پر لباس، داڑھی ، پگڑی اور حُلیہ تو اخروٹ کے باہر والے چھلکے کی مانند ہے لیکن اُس چھلکے کے اندر جو مطلوب ہے وہ امانتداری، حق پرستی ، رزقِ حلال اور سچائی ہے۔آج سے صرف چھیالیس سال پہلے ، جہانِ اسلام اس پر ایکا کر چکا تھا کہ مسلمانوںادامه مطلب

برچسب: نویسنده: کامران زارعی تاريخ: پنجشنبه 24 خرداد 1403 ساعت: 23:22

برسی امام خمینی | | Voice of Nation مرکز مطالعات و تحقیقات آج کی باتیہ الفاظ سپردِ قرطاس کرتے ہوئے راقم تہران میں موجود ہے۔دمِ تحریر حضرت امام خمینی رح کے مزار پر مخلوق خدا کا ہجوم ہے۔ رہبر انقلاب سید علی خامنہ ای خطاب فرما رہے ہیں۔ انہوں نے اب تک تین موضوعات پر بات کی ہے: مسئلہ فلسطین, شہادت ڈاکٹر رئیسی اور ہمراہان, ایران کے صدارتی انتخابات۔قضیہ فلسطین پر رہبر نے اپنا دوٹوک موقف پیش کیا کہ مقاومت کی جیت یقینی ہے، اس حوالے سے آپ نے کچھ نکات، مغربی تجزیہ نگاروں کے نکتہ نظر سے بھی پیش کیے۔اس کے بعد شہید ڈاکٹر ابراہیم رئیسی کے متعلق فرمایا:"میرا دل رئیسی کیلیے جلتا ہے چونکہ رئیسی کی زندگی میں بعض لوگ ٹی وی اور اخبارات میں ایک لفظ ان کی خدمات اور ان کی عوام دوست پالیسیوں کے حوالے سے کچھ کہنے اور لکھنے کیلیے تیار نہیں تھے لیکن اُن کی شہادت کے بعد اب وہ قوم کے سامنے حقائق بیان کرنے لگے ہیں۔ وہ بعض اوقات میرے پاس آکر ایسے دوستوں کا گلہ کیا کرتے تھے"انتخابات سے متعلق آپ نے فرمایا کہ الیکشنز کے ایام میں اخلاق کا مظاہرہ کیا جانا چاہیے۔منظوم ولایتی٣جون ٢٠٢۴ءقم المقدسہ، ایرانافکار و نظریات: google, daily, Voice, tv ادامه مطلب

برچسب: نویسنده: کامران زارعی تاريخ: پنجشنبه 24 خرداد 1403 ساعت: 23:22

مولانا شبیر احمد عثمانی کی حقیقتبحوالہ وجاہت مسعود، بشکریہ روزنامہ جنگ و ہم سبجون 2013 میں جامع دارالعلوم کراچی کے سربراہ مفتی محمد رفیع عثمانی مرحوم نے واہ آرڈیننس فیکٹری کی ایک مذہبی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ قائداعظم محمد علی جناح ، مولانا شبیر احمد عثمانی کو اپنا باپ کہتے تھے۔ رفیع عثمانی صاحب سے استفسار کیا گیا کہ اس بیان کا کوئی حوالہ، کوئی شہادت؟ بابائے قوم نے شیخ الاسلام شبیر احمد عثمانی کو یہ رتبہ کب اور کہاں عطا فرمایا؟قائداعظم کی نماز جنازہ شبیر احمد عثمانی نے پڑھائی تھی۔ ایک روایت کے مطابق ان سے سوال کیا گیا کہ آپ نے قائد اعظم کی نماز جنازہ کیوں پڑھائی۔ تو انہوں نے جواب دیا کہ ”قائداعظم کا جب انتقال ہوا تو میں نے رات رسول اکرم ﷺ کی زیارت کی۔ رسول قائداعظم کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہتے ہیں کہ یہ میرا مجاہد ہے۔“ قائداعظم کی اس وصیت کا کوئی ثبوت، کوئی حوالہ دینے کی البتہ زحمت نہیں کی گئی۔نامور دیوبندی عالم دین مولانا شبیر احمد عثمانی نے ایک رات خواب میں اپنے استاد محترم کو دیکھا۔دوران خواب مولانا شبیر احمد عثمانی کو ان کے استاد نے حکم دیا کہ قائداعظم کے پاس جاؤ اور فوراً اس کے سیاسی مرید بن جاؤ۔14 اگست 1947 کو کراچی میں شبیر احمد عثمانی اور ڈھاکہ میں مولانا ظفر احمد عثمانی کے ہاتھوں پاکستان کا پرچم لہرانے کا دعویٰ بھی تاریخ مسخ کرنے کا شاخسانہ تھا۔ پاکستان کا پرچم لہرانا تو دور کی بات ہے۔ 11 اگست 1947 کو قائد اعظم دستور ساز اسمبلی کے اجلاس میں موجود تھے تو شبیر عثمانی دوسری صف میں نشستہ تھے۔اس روایت کے ڈانڈے معروف محقق عقیل عباس جعفری سے جا ملے۔ طالبعلم نے استاد گرامی عقیل عباس جعفری سے رابطہ کیا۔ انہوں نے ایک صحیح عالم کی طرح اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے فرمایادامه مطلب

برچسب: نویسنده: کامران زارعی تاريخ: پنجشنبه 24 خرداد 1403 ساعت: 23:22

قطرے میں سمندرشہید ابراہیم رئيسی کی شخصیت پر ایک طائرانہ نظرتحریر : ڈاکٹر سید شفقت حسین شیرازی آیت اللہ سید ابراھیم رئیسی ایک پرکشش شخصیت کے مالک تھے ۔ وہ اپنے عالی اخلاق، تواضع و مہر و محبت سے فورا دوسروں کے دلوں میں جگہ بنا لیتے تھے۔ مشکل ترین حالات میں قاطعیت کے ساتھ ٹھوس فیصلے اور اقدامات کی صلاحیت ان خاصا تھا۔ ان کی علمی وفکری سطح بہت بلند تھی اور وہ قانون و معیشت و سیاست کے امور کے ماہر تھے۔ ان کے پاس عملی زندگی اور تجربات کا بھی ذخیرہ تھا۔ اجمالی تعارف:سید ابراہیم رئیسی 14 دسمبر 1960 کو ایران کے مشہور شہر مشھد مقدس میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد محترم صوبہ سیستان بلوچستان کے ایک معروف عالم دین تھے۔ ابراہیم رئیسی نے انقلاب اسلامی ایران کی کامیابی سے کچھ عرصہ پہلے جب وہ 15 سال کے تھے؛ حوزہ علمیہ قم میں داخلہ لیا۔ ابراہیم رئیسی نے حوزہ علمیہ کے فاضل اساتذہ اور بزرگ علماء کرام جن میں آیت اللہ مشکینی ، آیت اللہ العظمی نوری ھمدانی اور آیت اللہ العظمی مرحوم فاضل لنکرانی شامل ہیں؛ سے کسب فیض کیا۔سید ابراہیم رئیسی نے متعدد علماء وفقھاء کے علم فقہ و علم اصول کے درس خارج کے دروس میں شرکت کی۔ جن میں آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای بھی شامل ہیں۔ انہوں نے انٹرنیشنل لاء میں ایم فل اور فقہ و قانون میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری بھی حاصل کررکھی تھی۔ ڈاکٹر سید ابراہیم رئیسی 1980 میں کرج شہر میں پبلک پراسیکیوٹر تعینات رہے ۔ 1985 میں تہران میں پبلک پراسیکیوٹر کے معاون تعینات ہوئے ۔ 1990 میں تہران کے پبلک پراسیکیوٹر کے عہدے پر فائز ہو گئے۔ 2004 میں ايران کے ڈپٹی چیف جسٹس تعینات ہوئے۔ 2015 میں پورے ایران کے پبلک پراسیکیوٹر تعینات ہوئے۔ 2016میں رھبر معظم انقلاب اسلامی نے انہیں حرم مطہر حضرت امام رضا علیہ اادامه مطلب

برچسب: نویسنده: کامران زارعی تاريخ: سه شنبه 8 خرداد 1403 ساعت: 18:51

صدر رئیسی | | Voice of Nation مرکز مطالعات و تحقیقات اظہارِ تعزیتسپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورمکے توسط سے موصول ہونے والے تعزیتی پیغامات کا سلسلہصوتی پیغام سننے کیلئے کلک کیجئےراجہ محمد فاضل تبسم آزاد کشمیر میں دھیرکوٹ سے تعلق رکھتے ہیں۔ وہ ایجوکیشن ہیلتھ اینڈ ڈیویلپمنٹ (عہد) فاؤنڈیشن، بزم تعمیر پاکستان، کشمیر ای میل مہم (کشمیر کی پکار اقوام متحدہ کے نام)، پاکستان یوتھ نور کلب اور ریڈ فاونڈیشن جیسے متعدد فلاحی و نظریاتی اداروں کے بانی اور سرپرست ہیں۔ اس کے علاوہ 8 اکتوبر 2005ء کے زلزلے میں اُن کی شاندار خدمات پر حکومت پاکستان نے انہیں خصوصی ایوارڈ سے بھی نوازا ہے.جاری ہےصوتی پیغام سننے کیلئے کلک کیجئےنوٹ:سید بشارت بخاری انسانی حقوق، صحافت، رفاہی و فلاحی امور اور سوشل سرگرمیوں کے حوالے سے ایک خاص شناخت رکھتے ہیں۔سلسلہ جاری ہےافکار و نظریات: daily, weekly, news, monthly ادامه مطلب

برچسب: نویسنده: کامران زارعی تاريخ: سه شنبه 8 خرداد 1403 ساعت: 18:51

صفحه بندی